روزے کے شرعی مسائل
(دارالافتاء الاخلاص)

روزے کے شرعی مسائل

روزہ کا لغوی اور اصطلاحی معنی:
روزہ کو عربی زبان میں "صوم" کہتے ہیں، صوم کا لغوی معنی "امساک" یعنی "رکنے" کے ہیں، شرعی اصطلاح میں "صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور عمل مباشرت سے رک جانے کا نام روزہ ہے"۔

روزے کے فضائل:
(الف) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رمضان کا روزہ ایمان اور احتساب ( حصول اجر و ثواب کی نیت ) کے ساتھ رکھے، اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔(بخاری، رقم الحدیث: 2014)
(ب) حضرت ابوعبیدہؓ بیان کرتے ہیں: روزہ ڈھال ہے جب تک روزہ دار اس کو پھاڑ نہ دے۔(نسائی، رقم الحدیث: 2237)
(ج)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان کی ہر نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: سوائے روزے کے اس لیے کہ وہ میرے لیے خاص ہے، اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا...(ابن ماجہ، رقم الحدیث: 1638)

بغیر عذر روزہ ترک کرنے پر وعید:
(الف) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بغیر کسی شرعی رخصت اور بغیر کسی بیماری کے رمضان کا کوئی روزہ نہیں رکھا تو پورے سال کا روزہ بھی اس کو پورا نہیں کر پائے گا چاہے وہ پورے سال روزے سے رہے“۔(مشکوۃ، 1/177، قدیمی)
(ب)ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ كہتےہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:میرے پاس دو آدمی آئے، انہوں نے میرے بازؤوں سے مجھے پكڑا اورایک خوفناک پہاڑ كے پاس لے آئے، كہنے لگے: اس پر چڑھیے، میں نے كہا: مجھ میں اتنی طاقت نہیں۔ انہوں نے كہا: ہم آپ كی مدد كرتے ہیں۔ میں اوپر چڑھ گیا اور پہاڑ كی چوٹی پر پہنچ گیا۔ اچانک میں نے شدید چیخ و پكار سنی ، میں نے كہا: یہ كیسی آوازیں ہیں؟ انہوں نے كہا: یہ جہنمیوں كی آہ و بكا ہے، پھر وہ مجھے لے كر چل پڑے، میرے سامنے كچھ لوگ آئےجو الٹے لٹکے ہوئے تھے ، ان كی باچھیں چیری ہوئی تھیں، ان كی باچھوں سے خون بہہ رہا تھا۔ میں نے پوچھا : یہ كون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا : یہ روزے كا وقت ہونے سے پہلے ہی روزہ افطار كر لیا كرتے تھے...(السلسلہ الصحیحہ، رقم الحدیث: 1430)

1-روزےکی حالت میں انجکشن لگوانا کیسا ہے؟

انجکشن میں مسامات کے ذریعہ دوا بدن میں پہنچائی جاتی ہے، منفذ کے ذریعہ سے نہیں، اس لئے روزہ فاسد نہیں ہوگا۔(شامی، 2/395، ط: ایچ ایم سعید)

2-روزے کی حالت میں ڈرپ لگوانا۔

روزے کی حالت میں ڈرپ لگوانے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، البتہ روزے کی حالت میں صرف طاقت کے حصول کے لیے ڈرپ لگوانا، تاکہ روزہ محسوس نہ ہو، مکروہ ہے۔(شامی، 2/395، ط: ایچ ایم سعید)

3-کیا انسولین لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

روزے میں انسولین انجکشن کے ذریعے لگانے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا-(شامی، 2/395، ط: ایچ ایم سعید)

4-کیا روزے کی حالت میں آکسیجن لینا جائز ہے؟

ایسی آکسیجن لینا جو خالص ہو، اور اس میں ادویات کے اجزاء شامل نہ ہوں، تو ایسی آکسیجن لینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے، البتہ اگر اس کے ساتھ دوا کے اجزاء بھی شامل ہوں، تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔(شامی، 2/417، ط: ایچ ایم سعید)

5-کیا روزے میں انہیلراستعمال کرنا جائز ہے؟

دمہ کے مریض کے لیے روزے کے دوران انہیلر استعمال کرنے سے روزہ فاسد ہو جائے گا، کیونکہ اس میں وینٹولین دوا وغیرہ لیکویڈ
کی صورت میں ہوتی ہے، جو پمپ کرنے کی صورت میں اندر جاتی ہے، اور دوائی اندر جانے سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے۔
(شامی، 2/395، ط: ایچ ایم سعید:)

6-شوگر کے مریض کیلئے روزہ رکھنے کا حکم۔

اگر کوئی شخص شوگر (ذیابطیس) کی بیماری کی وجہ سے کمزور اور ضعیف ہوگیا ہے، اور اس کے لئے روزہ رکھنا مشکل ہے، تو بیماری کی وجہ سے رمضان کا روزہ نہ رکھنا جائز ہوگا، لیکن جب تک صحت کی توقع ہے، فدیہ دینا کافی نہیں ہوگا، صحت مند ہونے کے بعد قضا لازم ہوگی، اور اگر صحت کی امید نہیں، اور بیماری بھی ختم نہیں ہو رہی، اور موت تک شفا ہونے کی امید بھی نہیں، تو اس صورت میں فدیہ
(فتاویٰ الھندیہ، 1/307، ط: رشیدیہ) دینا درست ہوگا۔

7-آنکھ میں دوائی ڈالنا۔

روزے کی حالت میں آنکھ میں دوائی ڈالنے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔(فتاویٰ تاتارخانیہ، 2/366)

8-کان میں دوائی ڈالنا۔

روزہ کی حالت میں کان میں تر دوائی ڈالنے سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے، اور اگر خشک سفوف اور پاؤڈر وغیرہ بطور دوا کان میں ڈالا جائے اور اندر تک پہنچ جائے، تو روزہ فاسد ہو جائے گا، اور اگر اندر تک نہیں پہنچا، تو روزہ فاسد نہیں ہوگا۔(شامی، 2/402، ط: ایچ ایم سعید)

9-ناک میں دوائی ڈالنا۔

ناک میں تر دوا ڈالنے سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے، اگر ناک میں خشک چیز ڈالی گئی، اور یقینی طور پر اندر تک پہنچ گئی، تو روزہ فاسد ہوجائے گا، ورنہ نہیں۔(شامی، 2/402 ط: سعید)

10-روزے کی حالت میں غلطی سے کھا لینا ۔

روزہ یاد تھا اور غلطی سے مثلاً افطار کے وقت سے پہلے ہی افطار کا وقت سمجھ کر کھانا پینا شروع کردیا یا نہاتے ہوئے غلطی سے پانی حلق کے نیچے اتر گیا، اس سے روزہ فاسد ہو جائے گا اور قضا لازم ہوگی۔(ھدایہ، 1/207، ط: رحمانیہ)

11- بھول کر کھا لینا۔

اگر روزہ دار بھول کر کھا پی لے، تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔(فتاویٰ الھندیہ، 1/207، ط: رشیدیہ)

12-روزے میں خطا ( غلطی) اور نسیان (بھول کر) کھانے پینے کا فرق۔

خطا میں روزہ دار کو اپنا روزہ دار ہونا یاد ہوتا ہے، اور فعل (پانی وغیرہ پینا) کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا، جبکہ نسیان اس کے برعکس ہے کہ وہاں روزہ دار کو اپنا روزہ دار ہونا یاد نہیں ہوتا، مگر فعل (پانی پینا وغیرہ) کا ارادہ ہوتا ہے۔( تفہیم الفقہ 2/316مکتبہ النور)

13-بخار کی وجہ سے روزہ توڑنا۔

اگر بخار یا بیماری ایسی ہو کہ روزہ نہ توڑنے کی صورت میں جان کا خطرہ ہو، یا بیماری بڑھ جانے کا خوف ہو، تو ایسی حالت میں روزہ توڑنا جائز ہے، لیکن بعد میں اس کی قضا کرنا ضروری ہے۔(فتاویٰ الھندیہ، 1/207 ط: رشیدیہ)

14-سفر میں روزہ رکھنا۔

مسافر پر حالت سفر میں روزہ رکھنا فرض نہیں ہے، البتہ مسافر کے لیے بہتر یہ ہے کہ اگر مشقت و تکلیف نہ ہو، تو روزہ رکھ لے۔(شامی، 2/423، ط: ایچ ایم سعید)

15-سفر دوپہرکا ہو، تو کیا صبح سے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے؟

جو شخص صبح صادق کے وقت سفر میں نہ ہو، اس آدمی کے لیے روزہ چھوڑنا جائز نہیں ہے، اگرچہ دن میں سفر کرنے کا پختہ ارادہ ہو، البتہ اگر سفر شروع کرنے کے بعد روزہ توڑ دیا، تو قضا لازم ہے، کفارہ نہیں۔(شامی، 2/431، ط: ایچ ایم سعید)

16-کیا خون نکلنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

روزے کے دوران جسم کے کسی سے بھی حصے سے خون نکلنے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔(بدائع الصنائع، 2/92، ط: ایچ ایم سعید)

17- روزہ کے حالت میں قے کرنا

اگر روزہ کے دوران بلا اختیار اور بلا قصد خودبخود قے ہوگئی، تو روزہ فاسد نہیں ہوگا، چاہے قے تھوڑی ہو یا زیادہ۔ اگر اپنے اختیار سے قے کی، اور منہ بھر کر قے ہوگئی، تو روزہ فاسد ہوجائے گا، اور اگر منہ بھر کر قے نہیں ہوئی، تو روزہ فاسد نہیں ہوگا۔(شامی، 2/414، ط: ایچ ایم سعید)

18-روزہ کی حالت میں بے ہوشی طاری ہونا۔

اگر کوئی شخص رمضان کے مہینے میں کسی دن بے ہوش ہوگیا، تو جتنے دن بے ہوش رہا، اتنے دنوں کے روزے قضا کرے، البتہ جس دن بے ہوش ہوا تھا، اس ایک دن کی قضا واجب نہیں ہے، کیونکہ اس دن کا روزہ نیت کی وجہ سے درست ہوگیا، اگر اس دن کا روزہ ہی نہیں رکھا تھا، تو اس دن کی قضا بھی واجب ہے۔(بحر الرائق، 2/290، ایچ ایم سعید،)

19-کیا مشت زنی سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے؟

روزہ کے دوران مشت زنی کرنے سے اگر انزال ہوگیا، تو روزہ فاسد ہو جائیگا، اس صورت میں روزہ کی قضاء ضروری ہے، کفارہ نہیں ہے۔(شامی، 399/2، ط: ایچ ایم سعید)

20-روزے کی حالت میں احتلام ہونا۔

اگر روزہ دار دن میں سویا اور احتلام ہوگیا، تو روزہ فاسد نہیں ہوا، بلکہ روزہ صحیح ہے، البتہ جتنی جلدی ہو سکے غسل کرلے، بلاوجہ غسل میں تاخیر نہ کرے، تاکہ روزے کا وقت زیادہ سے زیادہ پاکی میں گزرے۔(بحر الرائق، 2 /272)
21-جماع(ہمبستری) سے روزہ ٹوٹنے کا حکم۔
رمضان کے روزے کے دوران جماع (ہمبستری) کرنے سے قضا اور کفارہ دونوں لازم ہیں۔(شامی، 2/409، ط: ایچ ایم سعید)

22- حیض، نفاس اور استحاضہ والی عورت کے لئے روزے کا حکم۔

واضح رہے کہ حیض اور نفاس کے دوران روزہ رکھنا جائز نہیں ہے، بلکہ بعد میں قضا کرنا لازم ہے، جبکہ استحاضہ کے دوران روزہ رکھنا لازم ہے۔(شامی، 1/298 ط: سعید)

23-روزہ میں غرغرہ کرنا۔

روزے کی حالت میں غسل کرتے وقت غرغرہ کرنے اور ناک کے نرم حصے میں پانی پہنچانے کا حکم نہیں ہے، تاکہ روزہ ٹوٹنے کا اندیشہ نہ ہو، لہذا روزے کے دوران غسل کرتے وقت غرغرہ نہ کریں۔(شامی، 1/116 ط: سعید)

24-روزے میں ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے نہانا، اور پیاس بجھانے کے لئے کلی کرنا۔

روزے میں گرمی کی وجہ سے نہانا یا پیاس بجھانے کے لئے کلی کرنا جائز ہے، البتہ اگر پانی حلق میں چلا گیا اور روزہ یاد تھا، تو روزہ فاسد ہوگیا، اور اس صورت میں قضا لازم ہے۔کلی کرنے کے بعد منہ میں پانی کی جو تری باقی رہ جاتی ہے، اس کو نگل جانے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، مگر اس میں یہ شرط ہے کہ کلی کرنے کے بعد ایک دو مرتبہ تھوک منہ سے نکال دیا جائے، اس لیے کہ کلی کرنے کے بعد کچھ پانی باقی رہ جاتا ہے، لہذا ایک دو مرتبہ تھوک دینے کے بعد پانی باقی نہیں رہتا، بلکہ ہلکی سی تری رہ جاتی ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔(فتاویٰ الھندیہ، 1/202 ط: رشیدیہ)

25-روزہ میں مسواک اور ٹوتھ پیسٹ کرنے کا حکم۔

روزہ دار کے لیے روزے کے دوران مسواک کرنا جائز ہے، خواہ سوکھی مسواک ہو یا تازہ، اگرچہ مسواک کا کڑوا پن یا اس کا تیز ذائقہ منہ میں محسوس ہوتا ہو، تو اس سے بھی روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اور روزہ مکروہ بھی نہیں ہوگا۔روزے کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنا حلق میں اثرات جانے کے شک کی وجہ سے مکروہ ہے، اگر حلق میں ٹوتھ پیسٹ چلا گیا، تو روزہ فاسد ہوجائے گا۔(شامی، 2/216، ط: ایچ ایم سعید)

26-روزے کی حالت میں تیراکی کرنا۔

روزے کی حالت میں سوئمنگ پول یا نہر وغیرہ میں غوطہ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، بشرطیکہ پانی منہ یا ناک کے راستے سے حلق سے نیچے نہ اترے، ورنہ روزہ ٹوٹ جائے گا اور قضا لازم ہوگی، جو شخص تیراکی اچھی طرح نہ جانتا ہو، اس کے لیے روزے کی حالت میں پانی میں غوطہ لگانا مناسب نہیں ہے، کیونکہ پانی حلق کے راستے اندر جانے کا اندیشہ ہوگا۔(شامی، 2/401، ط: ایچ ایم سعید)

27-روزے کی حالت میں دانت نکالنا۔

اگر روزے دار کو دانت نکالنے کی شدید ضرورت ہو، تو دانت نکالنا جائز ہے، البتہ اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ خون حلق سے نیچے نہ اترے، اس لیے روزے کے دوران دانت نہ نکالنا بہتر ہے۔(شامی، 2/396، ط:ایچ ایم سعید)

28-روزے میں دانت سے خون نکلنا۔

روزے کے دوران اگر دانت سے خون نکلا اور تھوک کے ساتھ مل کر حلق کے اندر چلا گیا، تو دیکھا جائے گا کہ خون زیادہ ہے یا تھوک، اگر خون کی مقدار تھوک سے زیادہ یا برابر ہو، تو روزہ فاسد ہو جائے گا، اس صورت میں روزہ کی قضا ضروری ہے، اور اگر تھوک زیادہ ہو، تو روزہ فاسد نہیں ہوگا۔(فتاویٰ الھندیہ، 1/203، ط: رشیدیہ)

29-سحری کھانا مسنون ہے۔

سحری کھانا مسنون ہے، حدیث شریف میں اس کی بڑی فضیلت آئی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہود و نصاریٰ اور ہمارے روزوں میں صرف سحری کا فرق ہے۔(صحیح مسلم، 1/350، ط: قدیمی کتب خانہ)

30-جنابت کی حالت میں سحری کرنا۔

اگر کسی شخص پر غسل واجب ہو، اور وہ صبح صادق سے پہلے غسل نہ کرسکا، اور سحری کرکے روزہ رکھ لیا، تو اس کا روزہ درست ہے، ناپاک ہونے کی وجہ سے روزہ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، البتہ جلد از جلد غسل کرلینا چاہیے، غسل میں اتنی تاخیر کرنا کہ فجر کی نماز قضا ہوجائے، سخت گناہ کا باعث ہے۔( فتاویٰ الھندیہ، 1/16 ط: رشیدیہ)

31-دوران اذان سحری جاری رکھنے کا حکم۔

سحری کا وقت صبح صادق تک ہوتا ہے، صبح صادق ہوتے ہی سحری کا وقت ختم اور فجر کا وقت داخل ہو جاتا ہے، لہذا سحری ختم کرنے کا معیار وقت ہے نہ کہ اذان، کیونکہ اذان مختلف مقامات پر دیر سویر سے دی جاتی ہے، اس لیے سحری کا وقت ختم ہوتے ہی کھانا پینا بند کرنا ضروری ہے، اذان کے دوران یا ختم ہونے تک کھانے پینے کو جاری رکھنا جائز نہیں ہے، لہذا جو آدمی رمضان المبارک میں فجر کا وقت داخل ہونے کے باوجود اذان کے دوران یا ختم ہونے تک کھاتا پیتا رہے، چاہے جان بوجھ کر یا لاعلمی میں، دونوں صورتوں میں ایسے شخص کا روزہ نہیں ہوگا، بلکہ اُسے بعد میں اس روزے کی قضا کرنا لازم ہوگی-(فتاویٰ الھندیہ، 1/194، ط: رشیدیہ)

32-دودھ پلانے والی عورت کے روزے کا حکم۔

اگر کسی بچے کو دودھ پلانا عورت کی ذمہ داری ہو، اور روزہ رکھنے کی صورت میں ماں یا بچے کے نقصان کا غالب گمان ہو، تو اس صورت میں روزہ نہ رکھنے کی گنجائش ہے، بعد میں قضا کرنا ضروری ہے۔(شامی، 2/422، ط: ایچ ایم سعید)
33-دودھ پلانے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔
روزے کے دوران بچے کو دودھ پلانے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، کیونکہ دودھ پلانے سے کوئی چیز اندر نہیں گئی بلکہ باہر آئی ہے، اور کسی چیز کے باہر آنے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا ہے۔(بحر الرائق، 2/278، ط: ایچ ایم سعید)

34-روزے کی حالت میں حمل چیک کرانا۔

حمل کے ابتدائی ایام میں لیڈی ڈاکٹر بعض مرتبہ دستانہ پہن کر اور بعض مرتبہ دستانے کے بغیر حاملہ عورت کی شرمگاہ میں انگلی ڈال کر معائنہ کرتی ہے، اگر لیڈی ڈاکٹر شرمگاہ میں خشک دستانہ پہن کر یا خشک انگلی داخل کرکے معائنہ کرتی ہے، تو روزہ فاسد نہیں ہوگا، اور اور اگر گیلا دستانہ یا گیلی انگلی شرمگاہ میں داخل کرے، یا ایک مرتبہ خشک دستانہ یا خشک انگلی داخل کرنے کے بعد نکالے، اور اس پر کوئی رطوبت لگ جائے، اور پھر وہ انگلی دوبارہ داخل کرے، تو دونوں صورتوں میں روزہ فاسد ہوجائے گا۔(شامی، ج:2/297، ط: ایچ ایم سعید)

35-عورت کی بچہ دانی
کی صفائی سے روزہ کا حکم۔
عورت کی بچہ دانی کی صفائی کے لیے لیڈی ڈاکٹرز وغیرہ جو آلات استعمال کرتی ہیں، چونکہ انہیں اندر
داخل کرنے کےبعد نکال لیا جاتا ہے اور یہ چیز جوف میں پہنچ کرہمیشہ کے لیے نہیں ٹہرتی، لهذا اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
انسانی جسم کے اندرونی معائنہ کے لیے جو مختلف آلات مثلاً : برانکو اسکوپ ، گیسٹرو اسکوپ
پیشاب کی نالی معدہ میں غذا پہچانے والی نالی وغیرہ داخل کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
یہ واضح رہے کہ خالی ان خشک آلات کے جوف میں داخل کرنے سے مذکورہ اصول کی وجہ سے روزہ نہیں ٹوٹتا، لیکن اگر ان آلات کے ساتھ کوئی دوا استعمال کی گئی، جیسا کہ عموماً ویز لین یا چکناہٹ وغیرہ استعمال کی جاتی ہے، تو ویزلین یا چکناہٹ کی وجہ سے روزہ ٹوٹ جائیگا، یا اگر یہ آلات خشک استعمال کیے گئے لیکن ایک مرتبہ داخل کرنے کے بعد دوبارہ داخل کئے تب بهی روزہ ٹوٹ جائیگا. کیونکہ اندر کی تری ان آلات پر لگ گئی جو دوبارہ اندر داخل کرنے سے جوف میں پہنچ گئی، اس وجہ سے اس صورت میں بهی روزہ ٹوٹ جائے گا.(تفہیم الفقہ 2/322مکتبہ النور)

36-رمضان المبارک میں دن کے وقت ہوٹل کھولنا۔

رمضان المبارک کے احترام کی خاطر دن کے وقت ہوٹل بند رکھنا ضروری ہے، خواہ کھانے پینے والے کسی بھی مذہب کے ہوں، یہ مبارک مہینہ شعائر ﷲ میں سے ہے، اور شعائر اللہ کا احترام ضروری ہے، البتہ شام کو افطاری سے کچھ پہلے ہوٹل کھولنا، تاکہ لوگ افطاری کی چیزیں مثلاً پکوڑے، سموسے وغیرہ خرید کر اپنے گھر لے جائیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔(شامی، 2/413، ط: ایچ ایم سعید)

37-جہاز میں افطاری کب کی جائے گی؟

جہاز میں پرواز کے دوران افطار کرنے کا حکم جہاز سے طلوع اور غروب کے نظر آنے کے اعتبار سے ہے، اگر زمین پر سورج غروب ہو چکا ہو، مگر جہاز کے افق سے غروب نہ ہوا ہو، تو جہاز والوں کو روزہ کھولنے اجازت نہیں ہو گی، بلکہ جب جہاز کے افق سے سورج غروب ہوگا، اس وقت افطار کی اجازت ہوگی۔(شامی، 2 /412، ط: ایچ ایم سعید)

38-کیا غیر غذائی چیزیں نگل لینے سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے؟

اگر کوئی ایسی چیز نگل لی، جس کو بطور غذا یا دوا کے نہیں کھایا جاتا، مثلا کاغذ، گھٹلی وغیرہ، تو روزہ فاسد ہو گیا، اور صرف قضا واجب ہوگی، کفارہ نہیں، البتہ اگر روزے کی حالت میں حلق کے اندر بلا اختیار مکھی، دھواں یا گردوغبار چلا گیا، اگرچہ معدہ میں پہنچ گیا، تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، کیونکہ ان اشیاء سے بچنا مشکل اور دشوار ہے، نیز یہی حکم اس صورت میں بھی ہے جب کوئی چیز پیسی جائے، یا دوا وغیرہ کوٹی جائے، اور اسکا غبار یا مزہ حلق میں محسوس ہو، تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔(شامی، 2/395، ط: ایچ ایم سعید)

39-روزہ کا فدیہ۔

جو شخص بڑھاپے یا دائم المریض ہونے کی وجہ سے روزے رکھنے پر قادر نہ ہو، نہ ہی مستقبل میں اس کے صحت یاب ہونے کی کوئی امید ہو، تو ہر روزے کے بدلے میں پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت بطور فدیہ دے سکتا ہے، لیکن اس کے بعد اگر صحت یاب ہوگیا، تو دوبارہ قضا کرنا ضروری ہے۔(فتاویٰ الھندیہ، 1/207، رشیدیہ)

40-روزہ کا کفارہ۔

ایک روزہ کا کفارہ ایک غلام آزاد کرنا ہے، اگر یہ ممکن نہیں توساٹھ روزے مسلسل رکھنا واجب ہے، اگر روزے رکھنے کی استطاعت بھی نہ ہو، تو ساٹھ مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلانا واجب ہے۔(شامی، 412/2، ط: ایچ ایم سعید)

والله أعلم بالصواب

Print Views: 711

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com