اعتکاف کے شرعی مسائل
(دارالافتاء الاخلاص)

اعتکاف کے شرعی مسائل

1-اعتکاف کا معنی:

اعتکاف کا لغوی معنی " رکنا اور قیام کرنا" ہے۔
شریعت کی اصطلاح میں "اعتکاف" ثواب کی نیت سے مسجد میں رکنے کا نام ہے۔(الجوھرۃ النیرۃ، 175/1 کتاب الصوم ط: قدیمی)

2-اعتکاف کے فضائل:

(ا) حضور اقدس صلی الله عليه وسلم نے رمضان المبارک کے شروع کے دس دن کا اعتکاف کیا، پھر فرمایا کہ میں نے شبِ قدر کی تلاش میں شروع کے دس دن کا اعتکاف کیا، پھر درمیان کے دس دن کا اعتکاف بھی اسی واسطہ کیا تھا، پھر مجھے کسی بتانے والے (فرشتے) نے بتایا کہ وہ آخری دس دن میں ہے، (اس لیے آخری دس دن کا اعتکاف کرنا ہے) جو شخص تم میں سے اعتکاف کرنا چاہے کرلے، چنانچہ آخری دس دن کا اعتکاف فرمایا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے آپ صلی الله عليه وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا۔(مسلم، 370/1، ط قدیمی)

(ب) رسول اللہ صلی الله عليه وسلم نے فرمایا: رمضان المبارک کے آخری دس دنوں کے اعتکاف کرنے کا ثواب دو حج اور دو عمروں کے برابر ہے۔(البیھقی، 220/1)

(ج) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اعتکاف کرنے والا گناہوں سے بچا رہتا ہے اور اس کے لیے (بغیر کیے بھی) اتنی ہی نیکیاں لکھی جاتی ہیں، جتنی کرنے والے کے لیے لکھی جاتی ہیں۔(ابن ماجہ، ص127، ط قدیمی)

3-اعتکاف کی اقسام:

واضح رہے کہ اعتکاف تین قسموں کا ہوتا ہے، واجب، سنت اور نفل۔رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف سنت ہے، باقی دنوں کا اعتکاف نفل ہے، اور اگر کچھ دنوں کے اعتکاف کی منت مان لے، تو ان دنوں کا اعتکاف واجب ہو جاتا ہے۔(ھندیۃ، 274/1، ط رشیدیہ)

4-اعتکاف کی حقیقت:

اعتکاف کی حقیقت یہ ہے کہ ہر طرف سے یکسو اور سب سے ہر قسم کا تعلق ختم کر کے بس اللہ تعالیٰ سے لو لگا کے مسجد کی کسی جگہ پر بیٹھ جائے، اور سب سے الگ تنہائی میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اسی کے ذکر و فکر میں مشغول رہے، یہ خواص، بلکہ اسپیشل لوگوں کی عبادت ہے، اس عبادت کے لیے بہترین وقت رمضان المبارک، بلکہ اس کا آخری عشرہ ہی ہے۔

5-اعتکاف کا مقصد:

اعتکاف کا مقصد شب قدر کی تلاش اور اس کی فضیلت کو حاصل کرنا ہے، اعتکاف کی حالت میں چونکہ پورا وقت مسجد میں گزرتا ہے، اس لیے اعتکاف کی حالت میں سونا اور آرام کرنا بھی عبادت میں شمار ہوتا ہے، اس لیے ہمیشہ اعتکاف کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

6-کیا مسنون اعتکاف دس دن سے کم ہو سکتا ہے؟

واضح رہے کہ رمضان میں مسنون اعتکاف رمضان کے آخری عشرہ میں نو یا دس دن (چاند کے حساب سے) کا ہوتا ہے، اس سے کم نہیں ہو سکتا، البتہ نفلی اعتکاف دس دن سے کم کا ہو سکتا ہے۔(الدر مع الرد، 441/2، ط سعید)

7-عورتوں کے لیے بھی اعتکاف سنت ہے:

جس طرح مرد حضرات کے لیے عبادت کرنا اور ثواب حاصل کرنا ضروری ہے، تاکہ آخرت میں پریشانی نہ ہو، اور جنت حاصل کرنا آسان ہو، اسی طرح عورتوں کے لیے بھی عبادت کرنا اور ثواب حاصل کرنا لازم ہے، نبی کریم صلی الله عليه وسلم نے اعتکاف کیا، اور آپ صلی الله عليه وسلم کے زمانہ میں آپ کی محبت اور اتباع میں ازواجِ مطہرات وغیرہ نے اس سنت پر عمل کیا، اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں کو بھی اس سنت پر عمل کرنا چاہیے۔آج کل عورتوں میں اعتکاف کرنے کا رواج کم ہوگیا ہے، یہ عورتوں میں دینداری، تقویٰ، زہد، آخرت کی طرف رغبت اور دینی مزاج نہ ہونے کی وجہ سے ہے، حالانکہ عورتوں کے لیے اعتکاف کرنا بہت ہی زیادہ آسان ہے، اگر گھر میں پہلے سے نماز پڑھنے کی کوئی خاص جگہ متعین ہو، تو وہاں بستر لگائے اور بیٹھ جائے، صرف بیت الخلاء کے لیے نکلے، باقی اسی جگہ بیٹھی بیٹھی گھر کا کام کاج بھی کر سکتی ہے، اور
لڑکیوں کو رہنمائی بھی کر سکتی ہے، اور کام کاج کی تعلیم بھی کر سکتی ہے، اس طرح ایک تیر سے دو شکار ہو جائینگے، ان کا اعتکاف بھی ہو جائے گا، اور گھر کا کام کاج بھی ہو جائے گا، اور اعتکاف جیسی سنت عبادت سے گھر میں خیر و برکت بھی نازل ہوگی، اتنی آسانی کے باوجود عورتیں اعتکاف نہ کریں، تو یہ بہت ہی بڑا نقصان ہے۔(صحیح البخاری، 271/1، ط قدیمی)

8-آخری عشرہ میں نبی کریم صلی الله عليه وسلم ہمیشہ اعتکاف فرماتے تھے:

نبی کریم صلی الله عليه وسلم ہمیشہ آخری عشرہ کا اعتکاف فرماتے تھے۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی الله عليه وسلم رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف فرماتے تھے۔(صحیح البخاری، 271/1، ط قدیمی)

9-بیس دن کا اعتکاف:

بیس دن کا اعتکاف کرنا بھی حدیث سے ثابت ہے، البتہ آپ صلی الله عليه وسلم کی عام عادت طیبہ دس دن کی تھی۔(صحیح بخاری، 274/1، ط قدیمی)
جس سال آپ صلی الله عليه وسلم کی وفات ہوئی، آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا، حضرت جبریل علیہ السلام ہر سال دس دن میں قرآن مجید کا ایک دور فرماتے تھے، آخری سال دو مرتبہ دور فرمایا، اس وجہ سے نبی کریم صلی الله عليه وسلم نے بیس دن کا اعتکاف فرمایا، یا اس وجہ سے کہ یہ آخری سال ہے، زیادہ موقع مل جائے۔
(صحیح بخاری، 748/2، ط قدیمی)

10-ازواجِ مطہرات کا اعتکاف:

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله عليه وسلم رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف فرماتے تھے، وفات تک آپ صلی الله عليه وسلم کا یہ معمول رہا، آپ صلی الله عليه وسلم کے بعد آپ صلی الله عليه وسلم کی ازواجِ مطہرات اہتمام سے اعتکاف کرتی رہیں۔(صحیح بخاری، 271/1، ط قدیمی)
واضح رہے کہ ازواجِ مطہرات اپنے کمروں میں اعتکاف فرماتی تھیں، مسجد میں نہیں، اور خواتین کے لیے اعتکاف کی جگہ ان کے گھر کی وہی جگہ ہے، جو انہوں نے نماز کے لیے مقرر کر رکھی ہے، اگر گھر میں نماز کے لیے کوئی خاص جگہ مقرر نہیں ہے، تو اعتکاف کرنے والی خواتین کو اعتکاف کی جگہ مقرر کر لینی چاہیے۔(مرقاۃ المفاتیح، 523/4، ط حقانیہ،الھندیہ، 211/1، ط رشیدیہ)

11-اعتکاف ہر محلہ میں سنت ہے:

شہر کی صرف ایک مسجد میں اعتکاف کرنے سے پورے شہر والوں کی طرف سے سنت کفایہ ادا نہیں ہوگی۔جس طرح محلہ کی ہر مسجد میں تراویح کی جماعت قائم کرنا سنتِ کفایہ ہے، اسی طرح ہر مسجد میں اعتکاف کے لیے بیٹھنا بھی سنتِ کفایہ ہے۔(الدر مع الرد، 442/2، ط سعید)

12-کیا اعتکاف ہر مسجد میں ہو سکتا ہے؟

قرآن مجید کی آیت (وانتم عکفون فی المساجد) سے ثابت ہوتا ہے کہ اعتکاف ہر مسجد میں ہو سکتا ہے۔(الدر مع الرد، 440/2، ط سعید)

13-اعتکاف ٹوٹنے پر قضا کا حکم:

اگر کوئی شخص رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کی نیت سے بیٹھے اور اس کا اعتکاف کسی عذر کی وجہ سے ٹوٹ جائے، تو جس دن کا اعتکاف فاسد ہوا ہو، اسی روز کی قضا واجب ہوگی، پھر اگر رمضان کے کچھ ایام باقی ہوں، تو ان میں وہ قضا کی نیت کرکے ایک دن اور ایک رات کا اعتکاف کر سکتا ہے، ورنہ جب موقع ہو، ایک نفلی روزہ رکھ کر اس ایک دن ایک رات کے اعتکاف کی قضا کرلے۔(الشامی، 444/2، ط سعید)
نفل اعتکاف کی قضا واجب نہیں، کیونکہ نفل اعتکاف مسجد سے نکلنے سے نہیں ٹوٹتا، بلکہ ختم ہو جاتا ہے اور اعتکاف ختم ہونے کی صورت میں قضا لازم نہیں ہوتی۔(الھندیۃ، 214/1، ط رشیدیہ)
نذر کا اعتکاف خواہ معین ہو یا معین نہ ہو، ٹوٹ جانے کی صورت میں نئے سرے سے تمام دنوں کی قضا روزے کے ساتھ لازم ہوگی، کیونکہ نذر کے اعتکاف میں تسلسل لازم ہے۔(البحر الرائق، 306/2، ط سعید)

14-احاطہ مسجد اور مسجد میں فرق:

مسجد کا اطلاق صرف چار دیواری، فرش اور صحن ہی پر ہوتا ہے، اور وہی شرعاً مسجد ہوتی ہے، اس کے علاوہ جو مسجد کی زمین کا احاطہ ہوتا ہے، وہ مسجد نہیں ہوتی، اس لیے معتکف کے لیے مسجد سے نکل کر احاطہ مسجد میں جانا جائز نہیں ہے، اور اگر وہاں چلا گیا، تو اعتکاف باطل ہو جائے گا۔جب کسی مسجد میں اعتکاف کرنا ہو، تو پہلے مسجد کے متولی یا امام صاحب یا کسی عالمِ دین سے یہ معلوم کرلے کہ اصل مسجد کہاں تک ہے، کیونکہ مسجد ہمیشہ سب سے باہر کے دروازے تک ہی نہیں ہوتی ہے، مسجد اور چیز ہے، اور اس کا احاطہ اور چیز ہے، اس لیے جو حصہ شرعی مسجد کی حدود سے باہر ہو، وہاں پر اعتکاف کے دوران نہ جایا کرے۔(الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ، 223/5، ط وزارۃ الاوقاف الکویت)

15-معتکف کا تلاوت وغیرہ کے لیے وضو کرنا:

اگر معتکف کے لیے مسجد کے اندر بیٹھ کر وضو کرنے کی کوئی ایسی جگہ ہو کہ پانی مسجد سے باہر گرے، مثلا: معتکف مسجد کی حدود کے اندر رہے اور وضو کا پانی باہر زمین پر یا ندی پر گرے، یا کوئی ایسے بڑے ٹب یا برتن کی سہولت ہو کہ وضو کا پانی اس میں گرایا جائے، اور اسے وضو کے بعد کسی ذریعہ سے باہر ڈال دیا جائے، تو پھر معتکف کو وضو کے لیے مسجد سے باہر جانا جائز نہیں ہے، اور اگر ایسی جگہ نہیں ہے، تو مسجد سے باہر جا کر وضو کرنا جائز ہے، خواہ فرض نماز کے لیے ہو، یا نفل یا تلاوت کے لیے، سب کا یہی حکم ہے۔اگر مسجد سے متصل کوئی نالی ہو، یا پانی مسجد سے باہر جا کر گرنے کا راستہ ہو، مثلا: مسجد کی حد کے اندر بیسن لگا ہوا ہو اور پانی نالی کے ذریعہ مسجد سے باہر چلا جاتا ہو، تو اس طرح وضو کرے کہ پانی مسجد میں نہ گرے، بلکہ نالی کے ذریعہ مسجد سے باہر گرے، تو یہ جائز ہے۔یاد رہے کہ مسجد میں پانی گرانا جائز نہیں ہے، اور غیر معتکف کے لیے کسی صورت میں مسجد میں وضو کرنے کی اجازت نہیں ہے۔(الھندیۃ، 213/1، ط رشیدیہ البحر الرائق،303/2،ط سعید)

16-سنت اور نوافل کے لیے وضو کرنے جانا:

فرض نماز کے علاوہ سنت اور نوافل، مثلاً: اشراق، چاشت، اوابین اور تہجد وغیرہ کے لیے وضو کرنے وضو خانہ جا سکتا ہے، کیونکہ نماز کے لیے وضو کرنا حاجتِ شرعیہ میں داخل ہے۔(الھندیہ، 212/1، ط رشیدیہ)

17-عورت کو اعتکاف کرنے کے لیے شوہر سے اجازت لینا:

اگر عورت کا شوہر ہے، تو اس کی اجازت کے بغیر اعتکاف میں نہ بیٹھے، اور اگر شوہر نے بیوی کو اعتکاف میں بیٹھنے کی اجازت دے دی ہے، تو پھر بعد میں اعتکاف سے منع کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔(الھندیۃ، 211/1، ط رشیدیہ)

18-مسجد میں پانی ختم ہوجائے:

مسجد میں وضو کا پانی ختم ہوگیا، تو جہاں سے جلدی لا سکتا ہو، وہاں جا کر پانی لا سکتا ہے، اور اگر گھر جانا پڑے، تو گھر بھی جانا جائز ہے، خواہ وہیں وضو کر کے آجائے یا مسجد میں آکر وضو خانے پر بیٹھ کر وضو کر لے، درمیان میں کہیں بلا ضرورت نہ ٹہرے۔(البحر الرائق، 301/2، ط سعید)

19-معتکف کا پانی گرم کرنا:

معتکف غسلِ جنابت کے لیے نکل سکتا ہے، غسلِ جنابت کے علاوہ دوسرے غسل کے لیے نہیں نکل سکتا، اگر سردی کے موسم میں پانی ٹھنڈا ہے، استعمال سے نقصان ہوتا ہے، گرم پانی کا انتظام کرنے والا کوئی نہیں ہے، تو معتکف خود مسجد کے احاطہ میں چولہا جلا کر یا جلے ہوئے چولہے میں پانی گرم کر کے غسل کر سکتا ہے، یہ شرعی ضرورت ہے، لہذا اعتکاف میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔(الدر مع الرد، 445/2، ط سعید)

20-معتکف کو احتلام ہو جائے تو کیا کرے؟

معتکف کو اگر احتلام ہو جائے، تو اس سے اعتکاف نہیں ٹوٹتا، معتکف کو چاہیے کہ آنکھ کھلتے ہی تیمم کرے، جس کے لیے یا تو پہلے ہی سے ایک کچی یا پکی اینٹ رکھ لی جائے، ورنہ مجبوری کی وجہ سے مسجد کے صحن یا دیوار پر ہاتھ مار کر مسنون طریقہ کے مطابق تیمم کرے، پھر غسل کا انتظام کرے۔(البحرالرائق، 195/1، ط سعید)
سردیوں میں احتلام ہوجائے اور ٹھنڈے پانی سے نقصان کا اندیشہ ہو،اور مسجد میں گرم پانی کا انتظام نہ ہو، تو معتکف تیمم کر کے مسجد میں ہی رہے اور اپنے گھر اطلاع کردے، تاکہ گرم پانی کا انتظام ہو جائے، اگر قرب و جوار میں کوئی گرم حمام ہو، تو قریب والی دکان پر غسل کر کے آسکتا ہے، اگر ہو سکے تو حمام والے کو اپنے آنے کی اطلاع کردے اور غسل کر کے فورا ًواپس آجائے۔(الھندیۃ، 28/1، ط رشیدیہ)

21-اعتکاف میں نہانے کا حکم:

اعتکافِ مسنون میں غسلِ واجب کے علاوہ کسی اور غسل کے لیے مسجد سے نکلنا درست نہیں ہے۔ٹھنڈک کے لئے غسل کی نیت سے جانا معتکف کے لئے جائز نہیں، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ جب پیشاب کا تقاضا ہو تو پیشاب سے فارغ ہوکر غسل خانے میں دو چار لوٹے بدن پر ڈال لیا کریں، جتنی دیر میں وضو ہوتا ہے، اس سے بھی کم وقت میں بدن پر پانی ڈال کر آجایا کریں، الغرض غسل کی نیت سے مسجد سے باہر جانا جائز نہیں، طبعی ضرورت کے لئے جائیں تو بدن پر پانی ڈال سکتے ہیں۔
اسی طرح اگر گرمی کی وجہ سے غسل کی شدید ضرورت ہو تو مسجد میں بڑا برتن رکھ کر اس میں بیٹھ کر اس طرح غسل کر لے کہ استعمال کیا ہوا پانی مسجد میں نہ گرے، یا تولیہ بھگو کر نچوڑ کر بدن پر مل لے، اس سے بھی ٹھنڈک حاصل ہوجائے گی۔
( (کذا فی فتاوی عثمانی،196/2ردالمحتار،446/2، ط سعید

22-معتکف کا بیت الخلاء خالی ہونے کا انتظار کرنا:

اگر معتکف قضائے حاجت کیلئے بیت الخلاء جائے اور بیت الخلاء پہنچنے پر معلوم ہو کہ وہ خالی نہیں ہے، تو بیت الخلاء کے باہر انتظار کرنا جائز ہے۔(البحرالرائق،301/1)

23-معتکف بیت الخلاء کے لیے نکلا اور گھر چلا گیا:

معتکف اگر بیت الخلاء کے لیے نکلا اور گھر چلا گیا اور وہاں کچھ ٹہر بھی گیا، تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔(الھندیہ، 212/1، ط رشیدیہ)

24۔تیمار داری کے لیے جانا:

معتکف کی بیوی، والدین یا اولاد سخت بیمار ہوگئے، ان کی تیمارداری کے لیے کوئی نہیں، اور معتکف مجبور ہو کر ان کی تیمارداری کے لیے مسجد سے باہر نکلا، تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا، اگرچہ گنہگار نہیں ہوگا، لیکن قضا لازم ہوگی۔(الھندیہ، 212/1، ط رشیدیہ)

25-تمباکو والا پان کھانا:

اگر پان اور تمباکو بد بودار نہ ہو، تو معتکف مسجد میں کھا سکتا ہے۔(صحیح مسلم، 209/1، ط قدیمی)

26۔معتکف کا اخبار پڑھنا:

معتکف کو اعتکاف کی حالت میں ایسی کتابیں اور رسالے جن میں بے کار جھوٹے قصے کہانیاں ہوں، دہریت کے مضامین ہوں، اسلام کے خلاف تحریرات ہوں، فحش لٹریچر ہو، جاندار کی تصاویر ہوں، کفر و شرک کی تبلیغ ہو، اس قسم کے اخبارات پڑھنا، سننا اور مسجد میں لانا جائز نہیں ہے، اس لیے ان سب باتوں سے معتکف کو بچنا چاہیے، اور جس مقصد کے لیے گھر بار، دکان، کارخانہ، کاروبار اور آفس دفاتر وغیرہ کو چھوڑ کر اعتکاف کے لیے مسجد میں بیٹھا ہے، اس میں لگارہے، ورنہ نام کے اعتکاف سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔جس اخبار میں دنیا کی صحیح خبریں ہوں، اور اس میں جاندار کی تصاویر نہ ہوں، معتکف مسجد میں پڑھ سکتا ہے، لیکن اس کی بجائے تلاوت اور ذکر و اذکار میں مشغول رہنا زیادہ بہترہے۔ (الھندیۃ، 212/1، ط رشیدیہ)

27-آگ بجھانے کے لیے نکلنا:

اگر معتکف آگ بجھانے کے لیے مسجد سے باہر نکلا، تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔(ردالمحتار، 447/2، ط سعید)

28-معتکفہ عورت کا کھانا بنانا اور گھر والوں کے ساتھ سحری اور افطاری کرنا:

عورت اپنے گھر والوں کے لیے اعتکاف کی جگہ میں رہتے ہوئے کھانا بھی پکا سکتی ہے اور ان کے ساتھ مل کر اعتکاف کی جگہ پر سحری اور افطاری بھی کر سکتی ہے، لیکن اپنے اعتکاف کی جگہ سے باہر نکل کر گھر والوں کے لیےسحری اور کھانا وغیرہ نہیں بنا سکتی، اور نہ ہی اعتکاف کی جگہ سے باہر نکل کر گھر والوں کے ساتھ سحری و افطاری کرسکتی ہے۔اگر عورت اکیلی ہو، اور اس کے لیے کوئی کھانا بنانے والا موجود نہ ہو، تو ایسی صورت میں اعتکاف سے باہر نکل کر اپنے لئے کھانا بنانے کی گنجائش ہے، لیکن اس صورت میں بھی بہتر یہی ہے کہ وہ اپنی جگہ ہی پر کھانے پکانے کا نظم بنائے اور مجبوری کی صورت میں اگر نکلنا پڑے تو جلد از جلد کام کو نمٹا کر اپنے اعتکاف کی جگہ پر پہنچنے کی کوشش کرے۔(الهندية،1/ 211)

29-معتکف کا اعتکاف کی جگہ سے ہٹ کر مسجد میں کسی اور جگہ لیٹنا یا بیٹھنا:

معتکف کے لئے مسجد کا جو حصہ مقرر کیا گیا ہے، اس میں مقیّد رہنا ضروری نہیں ہے، بلکہ پوری مسجد میں جہاں چاہے دن یا رات کو بیٹھ اور لیٹ سکتا ہے۔(الشامیہ، 440/2، ط سعید)

30-اعتکاف کے لئے چادروں کا اہتمام کرنا:

اعتکاف کرنے والوں کیلئے مسجد کے اطراف میں چادر وغیرہ باندھ کر حجرہ بنا لینا مستحب ہے، یہ ستر وغیرہ کی حفاظت اور عبادات اور تلاوت میں اطمینان اور سکون کا باعث ہے، اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چٹائی کا حجرہ بنانا ثابت ہے، البتہ اس کو لازم سمجھنا درست نہیں ہے۔ (مرقاة شرح مشکوة، 329/4، باب الاعتکاف)

31-روزے کے بغیر اعتکاف کرنا کیسا ہے؟

واضح رہے مسنون اعتکاف صحیح ہونے کے لئے روزہ شرط ہے، بغیر روزے کے مسنون اعتکاف صحیح نہیں ہوگا، البتہ نفلی اعتکاف صحیح ہوجائے گا، کیونکہ نفلی اعتکاف کے لئے روزہ شرط نہیں ہے۔(الدر مع الرد، 442/2، ط سعید)

32-معتکف کا آفس کے کام کے لیے مسجد سے باہر جانا:

واضح رہے کہ مسنون اعتکاف صحیح ہونے کے لئے معتکف کا مسجد میں رہنا ضروری ہے، آفس اور دفتر وغیرہ کے کام کے لیے مسجد سے باہر نکلنے سے اعتکاف ٹوٹ جائے گا، ایک دن اور ایک رات کی قضاء روزے کے ساتھ کرنا لازم ہوگی، البتہ مجبوری کی وجہ سے آفس اور دفتر وغیرہ کا کام مسجد کے اندر کرنا جائز ہے۔
(الھندیۃ، 212/1، ط رشیدیہ)

33-مرد کیلئے گھر میں اعتکاف جائز نہیں:

مردوں کے لئے گھر میں اعتکاف کرنا جائز نہیں ہے۔(الھندیۃ، 211/1، ط رشیدیہ)

34-
کیا معتکف مسجد کی محراب میں جا سکتا ہے؟
عام طور پر چونکہ محراب مسجد ہی کا حصہ ہوتا ہے، لہذا محراب میں جانے سے اعتکاف پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ (رد المحتار، 642/1، ط سعید)

35-اعتکاف کے دوران عورت کا حیض شروع ہوجائے، تو کیا کرے؟

اگر کوئی عورت اعتکاف میں بیٹھے، اور اعتکاف کے دنوں میں اس کے حیض کے دن شروع ہوجائیں، تو اعتکاف ختم ہوجائے گا، کیونکہ اعتکاف کے لئے حیض وغیرہ سے پاک ہونا ضروری ہے، البتہ جس دن حیض آیا ہے، اس ایک دن اور ایک رات کے اعتکاف کی قضا کرنا لازم ہوگا۔(ھندیۃ، 211/1، ط رشیدیہ)

36-معتکف کا حجامت بنوانا:

معتکف کےلئے مسجد میں اپنی حجامت خود بنانا جائز ہے، اور اگر نائی سے بنوائے، تو اس میں تفصیل یہ ہے کہ نائی اگر مزدوری کے بغیر کام کرتا ہے، تو اس سے مسجد کے اندر بنوانا جائز ہے اور اگر وہ مزدوری لے کر کام کرتا ہے، تو اس صورت میں معتکف مسجد کے اندر رہے، اور نائی مسجد سے باہر کھڑے ہوکر حجامت بنائے، مسجد کے اندر اجرت لے کر کام کرنا جائز نہیں ہے۔(فتاوی ھندیۃ، 320/5 کتاب الکراھیۃ ط: رشیدیہ)

37-معتکف کا مسجد میں خرید و فروخت کرنا:

معتکف کا خرید و فروخت کے لئے مال اور سامان مسجد میں لانا مکروہ تحریمی ہے، البتہ خریدوفروخت کا وہ معاملہ جو اس کے لئے اور اس کے بال بچوں کے لئے ضروری ہے، مسجد میں کرنا جائز ہے، لیکن سامان مسجد میں لانا منع ہے، اور مسجد میں تجارتی معاہدہ کرنا جائز نہیں ہے۔(رد المحتار،449/2 ط: سعید)

38-کیا معتکف ریح خارج کرنے کے لئے مسجد سے باہر جائے؟

صحیح قول کے مطابق معتکف ریح خارج کرنے کے لئے مسجد سے باہر چلا جائے، مسجد میں ریح خارج نہ کرے، اس سے اعتکاف فاسد نہیں ہوگا، مگر ریح خارج ہونے کے بعد باہر رکے نہیں، ورنہ رکنے سے اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔(رد المحتار،172/1 ط: سعید)

39-روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو تو کیا مسنون اعتکاف ہو جائے گا؟

مسنون اعتکاف صحیح ہونے کے لئے روزہ شرط ہے، لہذا روزہ کے بغیر مسنون اعتکاف صحیح نہیں ہوگا، البتہ نفلی اعتکاف صحیح ہوجائے گا، کیونکہ نفلی اعتکاف کے لئے روزہ شرط نہیں ہے۔(رد المحتار،442/2 ط: سعید)

40-معتکف کا ڈاکٹر کے پاس جانا:

اگر معتکف اس قدر بیمار ہو کہ ڈاکٹر کے پاس جائے بغیر کوئی چارہ نہ ہو، اور وہ مسجد سے نکل کر ڈاکٹر کے پاس چلا جائے، تو اعتکاف فاسد ہوجائے گا، قضا لازم ہوگی، البتہ گناہ نہیں ہوگا۔(البحر الرائق، 302،303/2 ط: سعید)

41-معتکف کا جان بچانے کے لیے مسجد سے نکلنا:

اگر مسجد گرنے لگے اور معتکف کے دب جانے کا خطرہ ہو یا کوئی بچہ یا آدمی پانی کے کنویں میں گر گیا اور ڈوب رہا ہو یا آگ میں گر پڑے یا گرنے کا خطرہ ہو تو معتکف کو مسجد سے نکل جانے کا گناہ نہیں ہوگا، بلکہ جان بچانے کی غرض سے مسجد سے نکلنا واجب ہے، البتہ اعتکاف فاسد ہوجائے گا، اور ایک دن ایک رات کی قضا روزے کے ساتھ لازم ہوگی۔(شامی، 447،448/2، ط: سعید)

42-معتکف کا جمعہ کے غسل کے لئے نکلنا:

رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے، اس میں واجب غسل کے علاوہ جمعہ وغیرہ کے غسل کے لئے نکلنے کی اجازت نہیں ہے، اگر نکلے گا تو اعتکاف فاسد ہوجائے گا، ایک دن ایک رات اعتکاف کی قضا روزے کے ساتھ کرنا لازم ہوگا۔(الدر المختار، 444،445/2 ط: سعید)

43-جمعہ کی ادائیگی کے بعد معتکف جامع مسجد میں کتنی دیر ٹھہر سکتا ہے؟

معتکف کی مسجد میں اگر جمعہ کی نماز نہیں ہوتی ہے، تو اس کو جامع مسجد اتنی دیر پہلے جانا چاہیے کہ خطبہ شروع ہونے سے پہلے وہاں دورکعت نفل تحیۃالمسجد اور چار رکعت سنت اطمینان سے پڑھ لے، اس کا اندازہ گھڑی دیکھ کر کرسکتا ہے، پھر جمعہ کے فرضوں کے بعد چھ رکعت سنتیں اور نفل پڑھ کر اپنی اعتکاف والی مسجد میں آجانا چاہیے۔(الدر المختار،444،445/2 باب الاعتکاف ط: سعید)

44-جمعہ ادا کرنے کے بعد معتکف کا جامع مسجد میں ٹھہرنا:

گر معتکف کی مسجد میں جمعہ نہیں ہوتا ہو، اس لیے وہ جامع مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنے چلا جائے، اور وہیں ایک دن رات یا اس سے کم و بیش ٹھہرا رہے، یا بقیہ اعتکاف وہیں پورا کرنے لگے، تب بھی جائز ہے، اس سے اعتکاف نہیں ٹوٹے گا، البتہ ایسا کرنا مکروہ ہے، اس لئے واپس اسی مسجد آجانا بہتر ہے۔(البحر الرائق، 301،302/2 کتاب الصوم ط: سعید)

45-معتکف کا جماعت کی خاطر دوسری مسجد میں جانا:

اگر معتکف کی اپنی مسجد میں کسی وجہ سے جماعت کی نماز رہ گئی، مثلاً پیشاب یا پاخانے کے لیے گیا، جب واپس آیا تو معلوم ہوا کہ جماعت ختم ہوگئی ہے، تو اب باہر دوسری مسجد میں جماعت کی خاطر جانا جائز نہیں ہے، اس سے اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔(رد المحتار 446،447/2، ط: سعید)

46-اعتکاف کی جگہ کو گھیرنا:

اعتکاف کی جگہ کو کپڑے وغیرہ سے گھیر لینا مسنون ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتکاف کی جگہ کو کپڑے یا کھجور کے پتوں سے گھیرا گیا تھا، اور چٹائی کا دروازہ بنا دیا گیا تھا۔(صحیح البخاری، 272/1، ط: قدیمی)

47۔جس مسجد میں پنجگانہ نماز نہ ہوتی ہو وہاں اعتکاف کرنا:

اگر کسی مسجد میں عام اوقات میں پانچوں وقت کی نماز جماعت سے نہیں ہوتی ہو، لیکن اعتکاف کے دنوں میں پانچوں وقت کی نماز جماعت سے ہوتی ہو، تو اس میں اعتکاف کرنا درست ہے، اور اگر اعتکاف کے دنوں میں بھی پانچوں وقت کی جماعت نہیں ہوتی ہو، تو وہاں اعتکاف نہ کرے۔(شامی، 440/2 کتاب الصوم ط: سعید)

48-مسجد میں چہل قدمی کرنا:

معتکف کا مسجد کے اندر ٹہلنا، چہل قدمی کرنا جائز نہیں ہے، مسجد اس کام کیلئے نہیں بنائی گئی، البتہ اگر معتکف بیمار ہو اور چہل قدمی کی ضرورت ہو تو بقدرِ ضرورت اجازت ہوگی، مگر ٹہلنے میں مسجد کے احترام کا لحاظ رکھنا چاہیے۔(البحر الرائق، 35/2 ط: سعید)

49-اعتکاف کے دوران چپ بیٹھنا:

اعتکاف کے دوران بالکل چپ بیٹھنا بھی مکروہ تحریمی ہے، ہاں بری باتیں زبان سے نہ نکالے، جھوٹ نہ بولے، غیبت نہ کرے، بلکہ قرآن شریف کی تلاوت یا کسی دینی علوم کے پڑھنے پڑھانے یا کسی اور عبادت میں اپنی اوقات کو صرف کرے، خلاصہ یہ کہ چپ بیٹھنا کوئی عبادت نہیں ہے۔(البحر الرائق، 304/2 ط: سعید)

50-معتکف کا جوتے اتارنے کی جگہ پر جانا:

جوتے اتارنے کی جگہ مسجد سے باہر ہوتی ہے، اس لیے معتکفین شرعی اور طبعی ضرورت کے بغیر وہاں نہیں جا سکتے۔(مراقی الفلاح، 179 ط: امدادیہ)

51-جنازہ پڑھنے کے لئے نکلنا:

معتکف کو مسجد کے اندر رہ کر جنازے کی نماز پڑھنے کی اجازت ہے، لیکن اگر معتکف مسجد سے نکل کر جنازہ کی نماز پڑھے گا، تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا، اور ایک دن ایک رات کی قضا لازم ہوگی۔(فتاوی ھندیۃ، 212/1 ط: رشیدیہ)

52-سامان ساتھ رکھنا:

معتکفین کے لئے حسب ضرورت اپنے ساتھ سامان رکھنا جائز ہے، مثلا: بستر، کپڑے، تکیہ، چادر، برتن، تیل، صابن وغیرہ رکھنا درست ہے، یہ سنت کے خلاف نہیں ہے۔(کتاب الفقه على مذاہبِ الاربعۃ، 1/498، ط: دار الحدیث، قاہرۃ)

53-سر باہر نکالنا:

معتکف مسجد میں رہتے ہوئے مسجد سے صرف سر یا ہاتھ باہر نکال دے، اور باقی جسم اندر رہے، تو اس سے اعتکاف فاسد نہیں ہوگا۔(بدائع الصنائع، 2/115، ط: سعید)

54-شور کرنا:

اعتکاف کے دوران شوروشغب کرنا مکروہ ہے، اس سے بچنا ضروری ہے، ورنہ ثواب کے بجائے الٹا گناہ ہوگا۔(الفقہ الاسلامی وادلتہ، 2/630، حقانیہ، پشاور)

55-سجدہ تلاوت ادا کرنے کے لئے وضو کرنا:

اگر معتکف پر سجدہ تلاوت باقی ہے، اور ادا کرنا چاہتا ہے، لیکن وضو نہیں ہے، تو وضو کرنے کے لئے وضو خانہ جاسکتا ہے۔ (الفتاویٰ الھندیۃ، 1/212، ط: رشیدیہ، کوئٹہ)

56۔اعتکاف کی حالت میں نکاح کرنا:

اعتکاف کی حالت میں معتکف اپنا یا دوسرے کا نکاح کر سکتا ہے۔(الفتاویٰ الھندیۃ، 1/213، ط: رشیدیہ، کوئٹہ)

57- بیڑی یا سیگریٹ پینا:

اگر معتکف بیڑی یا سگریٹ پینے کا عادی ہے، تو ایسے آدمی کو اعتکاف کرنے سے پہلے بیڑی سگریٹ چھوڑنے کی کوشش کرنی چاہیے، اس میں کامیابی نہ ہو، تو تعداد اور مقدار کم کر دینا چاہئے، اور اگر ان تمام کوششوں کے باوجود بھی کچھ پینا پڑے، تو جس وقت استنجا اور وضو کے لئے نکلے، اس وقت بیڑی سگریٹ کی حاجت پوری کرے، خاص بیڑی سگریٹ پینے کے لئے نہ نکلے، ورنہ اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔(الفتاویٰ الھندیۃ، 1/213، ط: رشیدیہ، کوئٹہ)

58-وضو کرنے کا اصول:

جن عبادتوں کے لیے وضو کرنا ضروری ہے، اس کے لیے تو مسجد سے باہر وضو خانہ میں جا کر وضو کر سکتا ہے، جیسے: نماز، خواہ فرض ہو یا واجب، سنت ہو یا نفل، اسی طرح قرآن مجید کی تلاوت کے لیے بھی معتکف وضو کرنے کے لئے مسجد سے باہر وضوخانہ میں جا سکتا ہے، وضو پر وضو کرنا مستحب ہے ضروری نہیں، اس لیے وضو ہونے کی صورت میں مسجد سے باہر وضوخانہ میں جاکر وضو کرنے سے اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں جب ہوتے، تو گھر میں پاخانہ، پیشاب کے علاوہ کسی اور کام کے لیے تشریف نہیں لاتے۔(صحیح ابن خزیمہ، 3/248، رقم الحدیث: 2230، ط: المکتب الاسلامی)

59- عورتوں کے لیے مسجد میں اعتکاف کرنا:

عورتوں کے لیے مسجد میں اعتکاف کرنا مکروہِ تحریمی ہے۔(فتح القدیر، 2/400، ط: رشیدیہ)

60- لباس تبدیل کرنا:

معتکف اعتکاف کی حالت میں جب بھی چاہے، لباس تبدیل کر سکتا ہے۔(کتاب الفقه على مذاہبِ اربعہ، 1/498، ط: دار الحدیث قاہرہ)

61- معتکف کا غسل کے لیے پانی گرم کرنا:

معتکف غسل جنابت کے لئے نکل سکتا ہے، غسل جنابت کے علاوہ دوسرے غسل کے لیے نکل نہیں سکتا، اگر سردی کے موسم میں پانی ٹھنڈا ہے، استعمال سے نقصان ہوتا ہے، اور گرم پانی کا انتظام کرنے والا کوئی نہیں، تو معتکف خود مسجد کے احاطے میں چولہا جلا کر پانی گرم کر کے غسل کر سکتا ہے، یہ شرعی ضرورت ہے، لہذا اعتکاف میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔(الدر مع الرد، 2/445، ط: سعید)
(ماخذ ہذہ المسائل " اعتکاف کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا”)

والله أعلم بالصواب

Print Views: 1287

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com