قربانی کے مسائل
(دارالافتاء الاخلاص)


قربانی کے مسائل
(1)قربانی کی تعریف:

قربانی کے جانور کو عربی میں اُضحیہ، اِضحیہ (أضَاحِی)، ضحیۃ (ضحایا) اور اضحاۃ ( اضحی) کہتے ہیں، لغت میں "اضحیہ" ہر اس جانور کا نام ہے، جسے قربانی کے دن ذبح کیا جاتا ہے، اس آخری لفظ کے اعتبار سے اس دن کو "یوم الاضحٰی" یعنی قربانی کا دن کہتے ہیں۔

اصطلاحی تعریف:
خاص عمر کے مخصوص جانور کو اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی نیت سے مخصوص وقت میں، مخصوص شرائط اور سبب کے ساتھ ذبح کرنے کو "اُضحیہ" کہتے ہیں۔ (لسان العرب، مادۃ ضحی 30،29/8)(الھندیۃ، ج5، ص291، دارالفکر، بیروت)

(2)قربانی کرنے کے فضائل اور قربانی نہ کرنے پر وعید:
قربانی کے فضائل:
B/>(1) >وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ۔۔۔ الخ الآیۃ
ترجمہ: ہم نے ہر امت کے لیے قربانی اس غرض کے لیے مقرر کی ہے کہ وہ اُن مویشیوں پر اللہ کا نام لیں، جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطاء فرمائے ہیں۔(سورۃ الحج، آیت نمبر 34)

(2) عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللّٰہ عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ و سلم قَالَ: مَاعَمِلَ آدَمِیٌ مِنْ عَمَلٍ یَوْ مَ النَّحْرِ اَحَبَّ اِلَی اللّٰہِ مِنْ اِھْرَاقِ الدَّمِ اَنَّہْ لَتَأتِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِقُرُوْنِھَا وَاَشْعَارِھَا وَاَظْلاَفِھَا وَاِنَّ الدَّمَّ یَقَعُ مِنَ اللّٰہِ بِمَکَانٍ قَبْلَ اَنْ یَّقَعَ مِنَ الْاَرْضِ فَطِیْبُوْا بِھَا نَفْساً۔(جامع الترمذی،باب ما جاء فی فضل الاضحیۃ، 495/3، رقم الحدیث1493، ط: دارالحدیث قاہرہ )
ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یومِ نحر (دس ذوالحجہ) کو اللہ کے نزدیک خون بہانے (یعنی قربانی کرنے) سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں، قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت آئے گا اور بے شک اس کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہو جاتا ہے، پس اس خوشخبری سے اپنے دلوں کو مطمئن کر لو۔

(3) عَنْ زَیْدِ ابْنِ اَرْقَمَ رضی اللّٰہ عنہ قَالَ: قَالَ اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ و سلم یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا ھٰذِہِ الاَضَاحِیُّ؟ قَالَ: سُنَّۃُ اَبِیْکُمْ اِبْرَاہِیْمَ علیہ السلام قَالُوْا: فَمَا لَنَا فِیْھَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: بِکُلِّ شَعْرَۃٍ حَسَنَۃٌ قَالُوْا: فَالصُّوْفُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: بِکُلِّ شَعْرَۃٍ مِنَ الصُّوْفِ حَسَنَۃٌ۔(سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث3127، 531/3، باب ثواب الاضحیۃ، ط دارالمعرفۃ بیروت)
ترجمہ: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا: یارسول اللہ! یہ قربانی کیا ہے؟ (یعنی قربانی کی حیثیت کیا ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت (اور طریقہ) ہے۔صحابہ رضی اللہ عنہم نےعرض کیا کہ ہمیں اس قربانی کے کرنے میں کیا ملے گا؟ فرمایا: ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے (پھر سوال کیا) یا رسول اللہ !اون (کے بدلے میں کیا ملے گا) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلے میں نیکی ملے گی۔

قربانی نہ کرنے پر وعید:
عن أبي ھريرۃ أن رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم قال من کان لہ سعۃ ولم يضح فلا يقربن مصلانا۔(ابن ماجہ، باب الاضاحی واجبۃ ام لا؟، رقم الحدیث 3123، 529/3، ط دارالمعرفۃ بیروت)
ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کو وسعت ہو اور وہ وسعت کے باوجود (قربانی کے ایام میں) قربانی نہ کرے، تو وہ ہمارے مصلی (عید گاہ) کے قریب نہ آئے۔

(3)قربانی کی تاریخ کی ابتداء:

جب سے آدم علیہ السلام اس دنیا میں تشریف لائے ہیں، اس وقت سے کسی حلال جانور کو الله تعالی کا تقرب حاصل کرنے کی نیت سے ذبح کرنے کی ابتداء ہوئی ہے۔سب سے پہلی قربانی حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل نے کی تھی۔ہابیل نے ایک مینڈھے کی قربانی پیش کی اور قابیل نے اپنے کھیت کی پیداوار سے کچھ غلہ وغیرہ صدقہ کر کے قربانی پیش کی، حسبِ دستور آسمان سے آگ نازل ہوئی، ہابیل کے مینڈھے کو کھالیا اور قابیل کی قربانی کو چھوڑ دیا۔ قربانی قبول ہونے یا نہ ہونے کی پہچان پہلے انبیاء علیہم السلام کے زمانہ میں یہ تھی کہ جس کی قربانی کو اللہ تعالی قبول فرماتے تو آسمان سے ایک آگ آتی اور اس کو جلا دیتی تھی۔(سورۃ المائدۃ، الایۃ 27)(تفسیر ابن کثیر، سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 27، الجزء السادس، المکتبۃ التجاریۃ) (التفسیر المظہری، سورۃ آل عمران، آیت نمبر 183، اشاعت العلوم)

(4)قربانی میں نیت کا درست ہونا ضروری ہے:

قربانی کا جانور ذبح کرنا عبادت ہے، اور عبادت میں نیت کا خالص ہونا ضروری ہے، اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں قربانی وہی مقبول ہوتی ہے، جس کا مقصد خالصتاً اللہ کی رضا وخوشنودی اور اس کا قرب حاصل کرنا ہو، اس لیے قربانی کا جانور خریدتے وقت ہی اپنی نیت کو درست کرلیا جائے، کیونکہ ریاکاری، دکھلاوے سے قربانی کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔قربانی کے متعلق اللہ رب العزت کا فرمان ہے کہ ’’اﷲ کے پاس قربانی کے جانور کا گوشت پہنچتا ہے نہ ہی اس کا خون، البتہ اس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ (سورۃ الحج، آیۃ، 37)
لہذا محلے داروں یا رشتے داروں کو دکھانے کے لیے بڑا جانور خریدنا، یا اس لئے قربانی کرنا کہ اگر میں نے قربانی نہیں کی، تو لوگ میرے بارے میں کیا کہیں گے، یا اس نیت سے مہنگا جانور خریدنا کہ میرے بچے خوش ہوجائیں گے، یاد رکھیے! ان اعمال سے قربانی اور پیسے تو ضائع ہو ہی جائیں گے، البتہ آخرت میں غیر اللہ کے لیے عمل کرنے پر سخت پکڑ اور عذاب کا اندیشہ بھی ہے۔(مشکوٰۃ شریف، 454،455، باب الریاء والسمعۃ)

(5)قربانی کے ایام میں قربانی کے بجائے صدقہ کرنے کا فلسفہ شریعت کے بالکل خلاف ہے۔

قربانی کے ایام میں اللہ کو قربانی کے جانور کا خون بہانے سے زیادہ کوئی عمل پسندیدہ نہیں ہے، لہذا قربانی کے ایام میں جانور کو اللہ کی راہ میں قربان کرنا واجب ہے، اس کے بدلہ میں رقم صدقہ کرنا یا کسی کی امداد کردینا کافی نہیں، ان چیزوں کے کرنے سے قربانی کا وجوب ختم نہیں ہوگا، بلکہ قربانی نہ کرنے کا گناہ ہوگا۔(الفتاویٰ الھندیۃ: 293/5، کتاب الاضحیہ، ط: دار الفکر، بیروت)

(6)قربانی کس پر واجب ہے؟

جس عاقل، بالغ، مقیم، مسلمان مرد یا عورت کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں قرض کی رقم منہا کرنے بعد ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو، یا تجارت کا سامان، یا ضرورت سے زائد اتنا سامان موجود ہو، جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، یا ان میں سے کوئی ایک چیز یا ان پانچ چیزوں میں سے بعض کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو، تو ایسے مرد و عورت پر قربانی واجب ہے۔(الشامی، 6/ 312، کتاب الاضحیۃ، سعید)

(7)کیا عورت پر قربانی واجب ہے؟

اگر عاقل، بالغ، مقیم عورت صاحب نصاب ہو، یا اس کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنی چیزیں ہوں کہ ان کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو، تو ایسی عورت پر قربانی واجب ہے۔(الشامی، 6/ 312، کتاب الاضحیۃ، سعید)

(8)قربانی کے لیے زیادہ گوشت والا جانور یا زیادہ قیمت اور عمدہ گوشت والا جانور بہتر ہے؟


1-
اگر ضرورت مند لوگ زیادہ ہوں تو زیادہ گوشت والا جانور افضل ہے، ورنہ ایسا جانور جو فربہ اور موٹا ہو، اور اس کی قیمت زیادہ اور گوشت عمدہ ہو، تو وہ افضل ہے۔

2-
اگر بڑے جانور گائے وغیرہ کے ساتویں حصہ کی قیمت اور بکری کی قیمت برابر اور گوشت بھی برابر ہے تو بکری خریدنا افضل ہے، اسی طرح بھیڑ کی قربانی بکری سے، اور مادہ کی قربانی نر سے افضل ہے۔

3-
جس قربانی کی قیمت زیادہ ہو، وہ بہتر ہے اور اگر دو جانوروں کی قیمت برابر ہو، لیکن ایک کا گوشت زیادہ ہے، تو وہی بہتر اور افضل ہے۔(الدرمع الرد، کتاب الاضحیۃ، فروع 6/ 322، ط: دارالفکر، بیروت)

(9)قربانی میں کون کون سے جانور ذبح کیے جا سکتے ہیں؟

قربانی کے جانوروں کی تعیین شرعی سماعی ہے، قیاس کو اس میں دخل نہیں ہے اور شریعت مقدسہ سے صرف تین قسم کے جانوروں کی قربانی ثابت ہے۔(1) اونٹ نر و مادہ۔(2) بکرا، بکری، مینڈھا، بھیڑ، دنبہ نر و مادہ۔(3) گائے، بھینس نر و مادہ۔(الھندیۃ، 297/5، کتاب الاضحیۃ، الباب الخامس فی بیان محل اقامۃ الواجب، دارالفکر)

(10)قربانی کے جانور کی عمریں:

شریعتِ مطہرہ میں جانور کی قربانی درست ہونے کے لیے ایک خاص عمر متعین ہے، یعنی:بکرا، دنبہ، بھیڑ، مینڈھا کی عمر کم از کم ایک سال۔گائے، بھینس، بیل کی عمر کم از کم دو سال۔اونٹ، اونٹنی کی عمر پانچ سال پورا ہونا ضروری ہے۔ دنبہ اور بھیڑ وغیرہ اگر چھ مہینے کا ہوجائے، لیکن وہ صحت اور فربہ ہونے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو، تو اس کی قربانی بھی درست ہوگی۔اگر یقینی طور پر معلوم ہو کہ ان جانوروں کی اتنی عمریں ہوگئیں ہیں، مثلاً: جانور کو اپنے سامنے پلتا بڑھتا دیکھا ہو اور ان کی عمر بھی معلوم ہو، تو ان کی قربانی درست ہے، پکے دانت نکلنا ضروری نہیں، بلکہ مدت پوری ہونا شرط ہے، تاہم آج کل چونکہ فساد کا غلبہ ہے، اس لیے صرف بیوپاری کی بات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، اس لیے احتیاطاً دانت کو عمر معلوم کرنے کے لیے علامت کے طور پر مقرر کیا گیا ہے، دانتوں کی علامت ایسی ہے کہ اس میں کم عمر کا جانور نہیں آسکتا، ہاں زیادہ عمر کا آنا ممکن ہے، یعنی تجربے سے یہ بات ثابت ہے کہ مطلوبہ عمر سے پہلے جانور کے دو دانت نہیں نکلتے ہیں، لہذا اگر جانور کی عمر یقینی طور پر معلوم نہ ہو، تو جانور کی عمر کی تعیین کرنے کے لیے دانتوں کو ہی معیار بنا لینا چاہیے۔(الفتاوى الهندية، 5/ 297، کتاب الاضحیۃ، الباب الخامس فی بیان محل اقامۃ الواجب، دارالفکر)

(11)قربانی کتنے دنوں تک کر سکتے ہیں؟

ذی الحجہ کی دسویں تاریخ سے لے کر بارہویں تاریخ کی شام (آفتاب غروب ہونے سے پہلے) تک قربانی کا وقت ہے، ان دنوں میں جب چاہے، قربانی کر سکتا ہے، لیکن ان میں سے پہلا دن افضل ہے، اس کے بعد گیارہویں تاریخ، پھر بارہویں تاریخ۔جہاں عید کی نماز پڑھی جاتی ہو، وہاں پر قربانی کا وقت 10 ذی الحجہ کو عید کی نماز کے بعد شروع ہوتا ہے، جب کہ دیہات میں جہاں جمعہ و عیدین واجب نہ ہوں، 10 ذی الحجہ کو فجر کی نماز کے بعد قربانی کی جا سکتی ہے۔ (الھندیۃ، کتاب الاضحیۃ، الباب الثالث فی وقت الاضحیۃ، 295/5، دارالفکر)


(12)حضور صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام اور اپنے کسی مرحوم یا زندہ شخص کی طرف سے قربانی کرنا:

اگر کسی کے پاس گنجائش ہو، تو حضور اکرم ﷺ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، بزرگان دین، والدین، فوت شدہ یا زندہ شخص کی طرف سے اُن کو ثواب پہنچانے کے لیے قربانی کرنا جائز ہے، اور ایک شخص بڑے جانور میں پورے ایک حصے یا چھوٹے جانور کا ثواب ایک یا کئی افراد کو پہنچاسکتا ہے، اور نبی اکرمﷺ اس کے زیادہ حقدار ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی تمام امت مسلمہ کی طرف سے مینڈھے کی قربانی کی تھی، اور آپ ﷺ ہی کے صدقے اللہ رب العزت نے ہمیں ہدایت بخشی اور گمراہی سے بچایا، تو آپ ﷺ کے لیے ایصال ثواب کرنا گویا ایک طرح سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شکریہ ادا کرنا ہے۔(شامی 244/2 ط:دارالفکر بیروت)

(13)قربانی کے ایام میں قربانی نہ کرسکا، تو کیا کرے؟

اگر کسی شخص پر قربانی واجب ہو، اور قربانی کے تین دن گزر گئے، لیکن اس نے قربانی نہیں کی، تو اب ایک بکری یا بھیڑ کی قیمت صدقہ کردے، اور اگر جانور خرید لیا تھا، مگر کسی وجہ سے قربانی نہیں کرسکا، تو بعینہ وہی جانور صدقہ کرنا ضروری ہے۔(بدائع الصنائع، 68/5 ط: سعید)

(14)نماز عید سے پہلے قربانی کرنا:

شہر میں جہاں جمعہ وعیدین کی نماز ہوتی ہو، وہاں نماز عید سے قبل قربانی کا جانور ذبح کرنا درست نہیں ہے، لیکن اگر پورے شہر میں کسی ایک جگہ بھی عید کی نماز ہوگئی ہو، تو اس کے بعد قربانی کرنا درست ہے، اگرچہ اس کے محلے کی مسجد میں عید کی نماز نہ ہوئی ہو، البتہ جہاں عید کی نماز نہ ہوتی ہو، جیسے گاؤں، دیہات وغیرہ، تو وہاں فجر کا وقت داخل ہونے کے بعد بھی قربانی کرسکتے ہیں۔(البحر الرائق، 175/8 ط: سعید)

(15)ذبح کرتے وقت اور ذبح کے بعد کی دعائیں:

ربانی کے جانور کو قبلہ رخ لٹانے کے بعد یہ آیت پڑھنا بہتر ہے:”اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ“ ” اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ ِللهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ۔“
پھر اس کے بعد یہ دعا پڑھیں: "اللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ"
اور پھر ”بِسْمِ اللهِ اللهُ اَکْبَرُ“ کہہ کر ذبح کردیں
جانور ذبح کرنے کے بعد یہ دعا پڑھنی چاہیے:اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّیْ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِیْبِکَ مُحَمَّد وَخَلِیْلِکَ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْھمَا السَّلَامُ۔
نوٹ:واضح رہے کہ ذبح کے وقت مذکورہ دعائیں پڑھنا بہتر ہے، ضروری نہیں، اگر کسی نے صرف "بسم اللہ اللہ اکبر" کہہ کر جانور ذبح کردیا، تو قربانی ہو جائے گی اور جانور حلال ہو جائے گا۔(سورۃ الانعام، آیت نمبر79-162) (بدائع الصنائع، 60/5، قبیل فصل اما بیان ما یحرم اکلہ، ط سعید)

(16)ذبح کرنے کا مسنون طریقہ:

ذبح کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ جانور کو قبلہ رخ لٹا کر، ذبح کرنے والا خود بھی قبلہ رخ ہو۔پھر ’’بسم اللہ، اللہ اکبر‘‘ پڑھتے ہوئے جانور کے حلق اور لبہ کے درمیان تیز چھری چلائیں، یہاں تک کہ چار رگیں یعنی دو بڑی رگیں، جن کے ذریعہ دل سے سر کی جانب خون کی سپلائی ہوتی ہے، اور ایک خوراک کی نرم نالی اور ایک سانس کی نالی یہ چاروں یا ان میں سے تین کٹ جائیں۔گردن کو پورا کاٹ کر الگ نہ کیا جائے، نہ ہی حرام مغز تک کاٹا جائے، بلکہ ’’حلقوم‘‘ اور ’’مری‘‘ یعنی سانس کی نالی اور اس کے اطراف کی خون کی رگیں جنہیں ’’اَوداج‘‘ کہا جاتا ہے، کاٹ دی جائیں، اس طرح جانور کو شدید تکلیف بھی نہیں ہوتی اور سارا نجس خون بھی نکل جاتا ہے۔

جب قربانی کا جانور قبلہ رخ لٹائے تو پہلے درج ذیل آیت پڑھنا بہتر ہے:"إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ".اور ذبح کرنے سے پہلے درج ذیل دعا اگر یاد ہو تو پڑھ لے:"اللّٰهُم َّمِنْكَ وَ لَكَ" پھر ’’بسم اللہ اللہ اکبر‘‘ کہہ کر ذبح کرے، اور ذبح کرنے کے بعد اگر درج ذیل دعا یاد ہو تو پڑھ لے:"اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْهُ مِنِّيْ كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِيْبِكَ مُحَمَّدٍ وَ خَلِيْلِكَ إبْرَاهِيْمَ عليهما السلام". اگر کسی اور کی طرف سے ذبح کر رہا ہو تو "مِنِّيْ" کی جگہ " مِنْ " کے بعد اس شخص کا نام لے لے۔ (صحيح مسلم:3/ 1557،1556)(الہندیہ، كِتَابُ الذَّبَائِحِ وَفِيهِ ثَلَاثَةُ أَبْوَابٍ، الْبَابُ الْأَوَّلُ فِي رُكْنِهِ وَشَرَائِطِهِ وَحُكْمِهِ وَأَنْوَاعِهِ، 285/5-287، دارالفکر)

(17)ذبح کرتے وقت "بسم الله اللہ اکبر" کہنا:

ذبح کرنے کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ "بسم اللہ أللہ أکبر" کہہ کر ذبح کرے، البتہ اگر ذبح کرنے والے نے "بسم اللہ"، "سبحان اللہ"، "الحمدللہ" یا "اللّٰہ اکبر" کہہ دیا، تو اس صورت میں بھی قربانی درست ہوجائے گی۔ (الدر مع الرد: ، 301/6، کتاب الذبائح، ط: سعید)

(18)حلال جانور کے سات ممنوع اجزاء:

واضح رہے کہ حلال جانور کے جسم کے مندرجہ ذیل سات اعضاء کھانا ممنوع ہیں:
(1، 2) : نر اور مادہ کی پیشاب گاہیں
(3) : کپورے
(4): غدود (جلد اور گوشت کے درمیان ایک سخت گوشت کا ٹکرا ہوتا ہے، جو بیماری کی وجہ سے بنتا ہے، اردو میں اسے گلٹی اور گانٹھ بھی کہا جاتا ہے)
(5) : مثانہ
(6): پتہ
(7):بہتا ہوا خون اور بعض فقہاء کے نزدیک ان سات اعضاء کے ساتھ حرام مغز بھی (دودھ کی طرح سفید ڈوری جو پیٹھ کی ہڈی کے اندر کمر سے لیکر گردن تک ہوتی ہے) ممنوع ہے۔
(الشامیۃ، 749/6،مسائل شتی، ط سعید)

(19)قربانی کے گوشت کا حکم:

قربانی کے گوشت میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ تین حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ اپنے گھر والوں کے لئے رکھ لے، دوسرا حصہ اپنے اقرباء اور رشتہ داروں میں تقسیم کردے، اور تیسرا حصہ فقراء اور محتاجوں کو دیدے، البتہ یہ تقسیم واجب اور ضروری نہیں ہے، اگر قربانی کرنے والے کے اہل وعیال زیادہ ہوں، اور گوشت کی اس کو خود ضرورت ہو، تو پورا گوشت گھر میں بھی استعمال کر سکتا ہے، اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔(ھندیۃ 300/5 ط:رشیدیہ)

(20)قربانی کے جانور کے خون کا حکم:

ذبح کرتے وقت جو خون جانور کی رگوں سے بہتا ہوا نکلتا ہے، وہ خون ناپاک ہے، اگر بدن یا کپڑوں پر لگ جائے، تو اس کو بھی ناپاک کر دے گا، البتہ جو خون جانور کے گوشت میں لگا رہ جاتا ہے، وہ پاک ہے، اس سے کپڑے ناپاک نہیں ہوتے۔(الدر مع الرد، 1/319، ط: سعید)

(21)صاحبِ نصاب شخص کا ایامِ عید میں انتقال ہونے کی صورت میں قربانی کا حکم:


اگر کسی صاحب نصابِ شخص نے قربانی کے لیے جانور خریدا، اور قربانی کے ایام میں جانور ذبح کرنے سے پہلے اس شخص کا انتقال ہوگیا، تو وہ جانور مرحوم کے ترکہ میں شمار ہو جائے گا اور تمام ورثاء کو اختیار ہوگا کہ اگر چاہیں تو مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے اس جانور کی قربانی کریں یا اس کو وراثت میں تقسیم کریں۔واضح رہے کہ اس جانور کو مشترکہ طور پر قربانی میں ایصالِ ثواب کرنے کی صورت میں تمام ورثاء کا دلی طور پر رضامند ہونا اور بالغ ہونا شرط ہے، نابالغ ورثاء کی اجازت معتبر نہیں ہوگی۔(الھندیۃ، کتاب الاضحیۃ، الباب الاول، 293/5، دارالفکر)

(22)میت کی طرف سے قربانی کرنا:

اگر استطاعت ہو تو میت کی طرف سے قربانی کرنا جائز، بلکہ مستحسن ہے، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہر میت کے لیے الگ الگ حصہ رکھنا ضروری ہے، ایک حصہ ایک سے زیادہ مرحومین کے لیے کافی نہیں ہے، البتہ اپنی طرف سے ایک نفلی قربانی کرکے اس کا ثواب ایک سے زائد مرحومین کو بخش سکتے ہیں، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری امت کی طرف سے ایک مینڈھا قربان کیا تھا۔اگر کسی کی گنجائش ہو، تو مردوں کو ثواب پہنچانے کے لیے قربانی کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ یہ بڑی فضیلت اور ثواب کا کام ہے، اور یہ عمل ان شاءاللہ مُردوں کے دفع عذاب اور رفع درجات کا باعث بنے گا۔ (مسلم شریف، مشکوٰۃ ص:127، ط: قدیمی)

(23)
مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے صدقہ افضل ہے یا قربانی؟
ایام قربانی میں مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے پیسہ یا کوئی اور چیز صدقہ کرنے سے بہتر قربانی کرنا ہے، کیوں کہ حدیث شریف کے مطابق ان دنوں میں سب سے زیادہ محبوب عمل جانور کو قربان کرنا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح، 127 ط: قدیمی)

(24)قربانی کے جانور کو وزن کے حساب سے خریدنا:

جانور کو وزن کرکے خریدنا اور بیچنا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ متعین جانور کا فی کلو کے حساب سے نرخ طے کرلیا گیا ہو، نیز جانور کا وزن کرنے کے بعد اس کی قیمت بھی متعین کر لی گئی ہو، جس کی صورت یوں ہوگی کہ خریدار کو مثلاً ایک بکرے کی ضرورت ہے، تاجر کے پاس جا کر وہ بکروں میں سے ایک بکرا منتخب کرلیتا ہے اور تاجر اس کو بتا دیتا ہے کہ اس بکرے کی قیمت پچاس روپے فی کلو ہے اور اس بکرے کو خریدار کے سامنے وزن کرکے بتا دیتا ہے کہ مثلاً یہ بیس کلو کا ہے، اب اگر خریدار اس کو قبول کرلے، تو بیع منعقد ہو جائے گی اور اس طرح کی گئی خرید و فروخت شرعاً جائز ہے۔(کذا فی حاشیہ فتاویٰ عثمانی، ج3، ص99، مکتبہ معارف القرآن، کراچی)

(25)قربانی کی کھال کا حکم:

قربانی کی کھال فروخت کرنے سے پہلے خود بھی استعمال کر سکتا ہے، اور مالداروں کو بھی ہدیہ کے طور پر دے سکتا ہے، اور فقراء و مساکین پر بھی صدقہ کر سکتا ہے، لیکن اگر کھال روپیہ پیسوں کے عوض فروخت کر دی، خواہ کسی نیت سے فروخت کی ہو، اس رقم کا صدقہ کردینا واجب ہو جاتا ہے، اور اس کا مصرف صرف فقراء و مساکین ہی ہیں۔(الشامی، 328/6، سعید)

(26)جانور کی کھال کا مصرف:

قربانی کے جانور کی کھال کو صدقہ کرنا افضل ہے، البتہ اگر خود استعمال کرنا چاہے، تو اس کی بھی اجازت ہے، چاہے مالدار ہو یا فقیر، لیکن اگر کھال فروخت کردی، تو اس کی رقم اپنے استعمال میں نہیں لا سکتا، بلکہ اس کو فقراء پر صدقہ کرنا واجب ہے، نیز کھال یا کھال کی رقم قصائی یا مزدور کو مزدوری میں دینا بھی جائز نہیں ہے۔(ھندیۃ، 301/5، ط:سعید)

(27)قربانی کرنے والے کا بال اور ناخن نہ کاٹنا:

قربانی کرنے والے کے لیے مستحب یہ ہے کہ اگر ناخن اور بال کاٹے ہوئے چالیس دن نہ ہوئے ہوں، تو یکم ذی الحجہ سے قربانی کا جانور ذبح ہونے تک اپنے جسم کے ناخن اور بال نہ کاٹے۔"مستحب" کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ کام کر لیا جائے، تو ثواب ہے اور نہ کیا جائے تو کوئی گناہ نہیں ہے، لہذا اگر کوئی ایسا نہ کرے، تو اس کو ملامت اور طعن وتشنیع کرنا صحیح نہیں ہے۔(جامع الترمذی، باب ترک اخذ الشعر لمن اراد ان یضحی، 511/3، رقم الحدیث 1523، ط: دارالحدیث قاہرہ)

(28)رات کو قربانی کا جانور ذبح کرنا:

اگر رات میں روشنی کا اچھا انتظام ہو اور کسی غلطی کا اشتباہ نہ رہے، تو رات کو بھی قربانی کا جانور ذبح کرنا درست ہے۔(بدائع الصنائع، فصل اما وقت الوجوب، 65/5، ط: سعید)

(29)گولی مار کر ذبح کرنا:

جانور کو پستول سے گولی مار کر اس لئے گرانا، تاکہ اسے باندھنے اور لٹانے کی زحمت نہ اٹھانی پڑے، مکروہ ہے، البتہ اگر جانور ایسا مست ہو کہ کسی صورت اس کو قابو نہ کیا جا سکتا ہو، تو ایسی مجبوری کی صورت میں جانور کو گولی مار کر گرا سکتے ہیں، بشرطیکہ جانور کے مرنے سے پہلے اسے شرعی طریقے پر ذبح کر لیا جائے۔(فتاویٰ رحیمیہ، 67/10 کتاب الذبائح)

(30)تمام حصہ داروں کے لئے "بسم اللہ" کہنا:

قربانی کرتے وقت ایک جانور میں جتنے بھی حصہ دار شریک ہوں، ان تمام حصہ داروں کے لئے جانور کو ذبح کرتے وقت "بسم اللہ" کہنا ضروری نہیں ہے، صرف ذبح کرنے والے اور اس کے ساتھ چھری پر یا ذبح کرنے والے کے ہاتھ پر وزن رکھنے والوں پر "بسم اللہ" کہنا ضروری ہے، البتہ جانور کے ہاتھ پاؤں پکڑنے والوں پر بسم اللہ کہنا ضروری نہیں ہے۔(الفتاویٰ الھندیۃ، الباب السابع، 304/5، ط: رشیدیہ)

(31)دوسرے ملک میں مقیم شخص کی طرف سے قربانی کرنا:

جس شخص پر قربانی واجب ہے، اگر وہ قربانی کے لیے کسی کو دوسرے ملک میں وکیل بنائے، تو اس صورت میں قربانی کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ جس دن قربانی کی جائے، وہ دن دونوں ممالک میں قربانی کا مشترکہ دن ہو، ورنہ قربانی درست نہیں ہوگی۔(بدائع الصنائع: 74/5 ط:سعید)

(32)قربانی کے شرکاء میں سے کسی شریک کا ایک سے کم حصہ ہونا:

کسی بھی بڑے جانور میں زیادہ سے زیادہ سات افراد تک شریک ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ کسی شریک کا حصہ ساتویں حصہ سے کم نہ ہو، لہذا اگر کوئی شریک ایک حصہ سے کم مثلاً آدھا یا تہائی وغیرہ حصہ میں شریک ہوا، تو قربانی درست نہیں ہوگی۔(البحر الرائق: 174/8، ط: سعید)

(33)سود یا حرام کمائی والے کو قربانی میں شریک کرنا:

قربانی میں اگر کوئی ایک شریک ایسا ہو، جس کا ذریعہ آمدنی صرف حرام ہو یا اس کی غالب آمدنی حرام ہو، تو شرکاء میں سے کسی کی بھی قربانی درست نہیں ہوگی، اس لیے حرام آمدنی والے کو قربانی میں شریک نہ کیا جائے، البتہ اگر وہ شخص کسی سے ادھار رقم لیکر قربانی میں حصہ ڈالے گا، تو اس کو قربانی میں شریک کرنا جائز ہے۔(شامی، 326/6 ط: سعید)

(34)قربانی کا جانور گم ہوجائے یا مرجائے تو کیا حکم ہے؟

اگر صاحبِ نصاب آدمی نے قربانی کے لیے جانور خریدا اور جانور قربانی سے پہلے مرگیا یا گم ہوگیا، تو اس صورت میں اس شخص پر دوسری قربانی کرنا واجب ہے۔اور اگر جانور خریدنے والا صاحبِ نصاب نہ ہو اور اسکا جانور قربانی سے پہلے مرگیا یا گم ہو گیا تو اس پر دوسری قربانی واجب نہیں ہے۔(بدائع الصنائع، 66/5، ط سعید)

(35)قرض لے کر قربانی کرنا:

اگر قربانی کسی پر فرض ہو، اور اس کے پاس نقد رقم موجود نہ ہو، تو اس کو قرض لے کر قربانی کرنا ضروری ہے، لیکن اگر قربانی فرض نہ ہو، تو قرض لے کر قربانی کرنے کی ضرورت نہیں ہے، شریعت بندوں کو ایسی چیز کا مکلف نہیں بناتی، جو ان کی استطاعت میں نہ ہو۔ البتہ اگر کسی نے قرض لے کر قربانی کرلی، تو قربانی ادا ہوجائے گی، اور اس کا ثواب بھی ملے گا۔(ھندیۃ، 292/5، ط: رشیدیہ)

(36)بالغ اولاد کی طرف سے قربانی کرنا:

قربانی صرف اپنی طرف سے کرنا واجب ہے، اپنی بالغ اولاد کی طرف سے کرنا واجب نہیں ہے، اگر بالغ اولاد صاحبِ نصاب ہے، تو وہ خود اپنی طرف سے قربانی کرے، یا باپ کو اپنی طرف سے قربانی کرنے کی اجازت دیدے، تو باپ بالغ اولاد کی اجازت سے ان کی طرف سے قربانی کر سکتا ہے، ورنہ نہیں۔(الھندیۃ، 293/5، دارالفکر)(بدائع الصنائع، فصل اما کیفیۃ الوجوب، 67/5 ط سعید)

(37)نابالغ اولاد کی طرف سے قربانی کرنا:

باپ پر اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے قربانی کرنا لازم نہیں ہے، البتہ اگر کسی نے اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے قربانی کرلی، تو ثواب ملے گا، اور اگر نہیں کی تو کوئی گناہ نہیں ہے۔(فتاویٰ قاضی خان، 345/3 ط: ماجدیہ)

(38)قربانی کے جانور میں دعوت کی نیت کرنا:

قربانی کے جانور میں اگر تقرب الی اللہ کی کوئی بھی نیت ہو، جیسے: عقیقہ، ولیمہ، تو اس نیت سے قربانی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اگر صرف گوشت حاصل کرنے کی نیت ہو، تو قربانی صحیح نہیں ہوگی۔(الھندیۃ، کتاب الاضحیۃ، الباب الثامن فیما یتعلق بالشرکۃ فی الضحایا، 304/5، دارالفکر)

(39)خصی جانور:

خصی جانور کی قربانی کرنا بلاشبہ جائز ہے، اس میں کسی قسم کی کوئی کراہت نہیں ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود خصی جانور کی قربانی فرمائی ہے، جس سے ثابت ہوا کہ خصی جانور کی قربانی کرنا افضل ہے۔
(ھندیۃ، 299/5، ط: رشیدیۃ)

(40)اوجھڑی حلال ہے؟

حلال جانوروں کی اوجھڑی کھانا جائز ہے۔(الدر مع الرد، 749/6، ط: سعید)

(41)قربانی کے جانور کے دودھ کا حکم:

قربانی کے جانور کا دُودھ نکالنا جائز نہیں ہے، اگر کسی نے ایسا کرلیا، تو دُودھ یا اس کی قیمت کا صدقہ کرنا واجب ہے۔(الفتاویٰ الھندیۃ: 301/5، ط:رشیدیہ)

(42)جانور کے ہار، گھنگرو، تاج اور رسی وغیرہ کا حکم:

قربانی کے جانور کو خریدتے وقت جو ہار، گھنگرو، تاج اور رسی وغیرہ جانور کے ساتھ آئے، ان کو صدقہ کرنا مستحب ہے، لیکن اگر ان کو فروخت کردیا، تو ان کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہے۔البتہ جو چیزیں ( ہار، گھنگرو، تاج، رسی وغیرہ ) جانور کے لیے مالک نے بعد میں خریدی ہوں، تو قربانی کے بعد ان کو فروخت کرنے کی صورت میں اس رقم کو صدقہ کرنا واجب نہیں ہے۔(ھندیۃ، 300/5، ط: رشیدیۃ)

(43)ذبح کی تیاری کرتے وقت عیب پیدا ہوجائے:

اگر ذبح کی تیاری کرتے وقت جانور میں کوئی عیب پیدا ہوجائے، تو ایسے جانور کی قربانی درست ہے۔
(الفتاویٰ الھندیہ، 299/5، ط: رشیدیہ)

(44)کمزور اور لاغر جانور کی قربانی:

واضح رہے کہ دبلے جانور کی قربانی درست ہے، البتہ ایسا دُبلا اور لاغر جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو، یا وہ خود چل کر ذبح کی جگہ تک نہ جاسکتا ہو، تو ایسے کمزور اور لاغر جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔(الدر مع الرد، 323/6، ط: سعید)

(45)خارش زدہ جانور کی قربانی:

خارش زدہ جانور کی قربانی درست ہے، لیکن اگر خارش کی وجہ سے جانور بالکل کمزور ہو گیا ہو یا خارش کا اثر کھال سے گزر کر گوشت تک پہنچ گیا ہو، تو اس کی قربانی درست نہیں ہے۔(الدر مع الرد، 323/6، ط: سعید)

(46)بھینگا، اندھا اور کانا جانور:

بھینگے جانور کی قربانی کرنا درست ہے، البتہ اندھے اور کانے جانور کی قربانی درست نہیں ہے۔(شامی، 323،325/6 کتاب الاضحیۃ ط: سعید)

(47)ٹوٹے ہوئے سینگ والا جانور:

اگر کسی جانور کے سینگ ٹوٹ گئے، تو اس کی قربانی درست ہے، البتہ اگر سینگ جڑ سے اکھڑ جائے، تو قربانی درست نہیں ہوگی۔ (ھندیۃ، 297/5، الباب الخامس فی بیان محل اقامۃ الواجب، ط:رشیدیۃ)

(48)باؤلا جانور:

باؤلے جانور کی قربانی کرنا جائز ہے، البتہ اگر وہ اپنے باؤلے پن کی وجہ سے کھا پی نہ سکتا ہو، تو اس کی قربانی درست نہیں ہے۔(ھندیۃ، 298/5، الباب الخامس ط: رشیدیہ)

(49)بانجھ جانور:

جانور کا بانجھ ہونا قربانی کے لئے عیب نہیں ہے، اس لئے بانجھ جانور کی قربانی کرنا جائز ہے، بلکہ بسا اوقات بانجھ جانور خوب موٹا تازہ ہوتا ہے، اور اس کا گوشت بھی عمدہ ہوتا ہے، اس لئے اس کی قربانی کرنا جائز ہے۔(رد المحتار، 325/6، ط: سعید)

(50)تھن کٹا ہوا جانور:

اگر جانور کا تھن نہیں ہو یا تھن کٹا ہوا ہو یا اس طرح زخمی ہو کہ بچے کو دودھ پلانا ممکن نہ ہو، تو ایسے جانور کی قربانی درست نہیں ہے۔ (ھندیۃ، 298/5، الباب الخامس ط: رشیدیہ)

(51)لنگڑا جانور:

گر جانور اس قدر لنگڑا ہو کہ تینوں پاؤں زمین پر رکھ کر چلتا ہو، اور چلنے میں چوتھے پاؤں کا سہارا بھی لیتا ہو، تو اس جانور کی قربانی درست ہے، لیکن اگر جانور کا لنگڑا پن اس قدر زیادہ ہو کہ صرف تین پاؤں سے چلتا ہو، اور چوتھا پاؤں زمین پر نہیں رکھ سکتا ہو یا پاؤں زمین پر رکھتا ہو، لیکن اس پر اپنے جسم کا وزن نہیں ڈال سکتا ہو، تو اس جانور کی قربانی درست نہیں ہے۔(شامی، 323/6 ط: سعید)

(52)اجتماعی قربانی میں گوشت کی تقسیم کا طریقہ کار:

ایک جانور میں کئی حصہ دار شریک ہوں، تو آپس میں گوشت وزن کرکے تقسیم کرنا ضروری ہے، اندازہ سے تقسیم نہ کیا جائے، اگرچہ حصہ دار ایک دوسرے کے لیے زیادتی کو حلال قرار دے دیں، اس لیے کہ اگر حصوں میں کمی بیشی ہوگی، تو سود ہوجائے گا، اور سود لینا، دینا اور کھانا سب حرام ہے، البتہ اگر گوشت کی تقسیم کرتے وقت قربانی کے جانور کے دیگر اعضاء مثلاََ کلہ، پائے، کلیجی وغیرہ کو بھی گوشت کے ساتھ رکھ کر تقسیم کرلیا جائے، اور ہر ایک کے حصے میں ان چیزوں میں سے کچھ نہ کچھ آجائے، تو پھر تول کر تقسیم کرنا لازم نہیں ہوگا، بلکہ اندازے سے کمی بیشی کے ساتھ تقسیم کرنا بھی جائز ہوگا۔ (ھندیۃ: 353/5 ، ط: دار الفکر بیروت)


والله أعلم بالصواب


Print Views: 842

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com