عنوان: مرحومين کی طرف سے قربانی کا حکم(101794-No)

سوال: السلام علیکم، کیا مرحومین کی طرف سے قربانی کر سکتے ہیں؟ اور 1 ہی حصے سے 2 مرحوم کو ثواب دے سکتے ہیں؟ یا 2 مرحوم کا الگ الگ حصہ دینا ہو گا قربانی میں ؟

جواب: اپنے مرحومین کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے، اگر میت نے قربانی کرنے وصیت کی ہو، تو ہر ایک مرحوم کے لیے الگ الگ حصہ رکھنا ہوگا، اور اس کا گوشت فقراء پر صدقہ کرنا واجب ہے، خود کھانا جائز نہیں ہے، اور اگر اپنی طرف سے نفلی قربانی کرکے اس کا ثواب تمام مرحومین کو پہنچانا چاہے، تو یہ بھی درست ہے، اس صورت میں ایک حصہ کا ایصال ثواب کئی لوگوں کے لیے کیا جاسکتا ہے، اور گوشت کو خود بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
روایات سے ثابت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک قربانی کرکے اس کاثواب پوری امت کو بخشا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

رد المحتار: (335/6)

قَوْلُهُ وَعَنْ مَيِّتٍ) أَيْ لَوْ ضَحَّى عَنْ مَيِّتٍ وَارِثُهُ بِأَمْرِهِ أَلْزَمَهُ بِالتَّصَدُّقِ بِهَا وَعَدَمِ الْأَكْلِ مِنْهَا، وَإِنْ تَبَرَّعَ بِهَا عَنْهُ لَهُ الْأَكْلُ لِأَنَّهُ يَقَعُ عَلَى مِلْكِ الذَّابِحِ وَالثَّوَابُ لِلْمَيِّتِ،

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 232
marhoomeen ki taraf say qurbani ka hukum, Ruling on sacrifice on the account of deceased

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Qurbani & Aqeeqa

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.