عنوان: ماتم سے متعلق وضاحت   (102070-No)

سوال: مفتی صاحب ! میرے 1 رشتہ دار ہیں، جو یہ ماتم دیکھنے جا رہے ہیں، وہ باہر سے آئے ہیں اور اِسْپیشَل یہ ماتم دیکھنے کے لیے انہوں نے اپنی ٹکٹ 11 ستمبر کی کرائی ہے، اگر وہ کہیں کہ کیوں جائز نہیں ہے تو کیا جواب ہو گا ؟

جواب: واضح رہے کہ "ماتم" عربی زبان کا لفظ ہے، کسی غمی یا خوشی میں مردوں اور عورتوں یا صرف عورتو ں کے اجتماع کو  "ماتم"  کہا جاتا ہے، پھر کسی کی موت پر عورتوں کے اجتماع کو "ماتم" کہا جانے لگا، جبکہ ہمارے عرف میں میت پر نوحہ کرنے کو "ماتم" کہتے ہیں۔

کذا فی النهاية في غريب الأثر:
"{ مأتم } ... في بعض الحديث [ فأقاموا عليه مَأتَماً ] المأتَم في الأصل : مُجْتَمَعُ الرجال والنساء في الحُزن والسُّرور ثم خُصَّ به اجتماع النساء الموت".
(ج4،ص456)

حدیث شریف میں مرنے والوں پر نوحہ کرنے کی سخت ممانعت آئی ہے۔

کذا فی الصحیح لمسلم:
النائحۃ إذا لم تتب قبل موتہا تقام یوم القیامۃ وعلیہا سربال من قطران ودرع من جرب۔
(کتاب الجنائز ، باب التشدید فی النیاحۃ)

ترجمہ: اگر چلاّ کر رونے والی اپنے اس عمل پر مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس حال میں کھڑی کی جائے گی کہ اس کے بدن پر گندھک کا کُرتا اور کھجلی کا دوپٹہ ہوگا۔

لما فی السنن ابن ماجہ:
عن عبد اللہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیس منا من شق الجیوب، وضرب الخدود، ودعا بدعوی الجاہلیۃ ۔
(کتاب الجنائز ، باب ماجاء فی النہی عن ضرب الخدود الخ)
ترجمہ: وہ ہم میں سے نہیں جو رخساروں کو پیٹے، گریبان پھاڑے اور زمانہ جاہلیت کے کلمات کہے۔

اور یہ بات بھی واضح رہے کہ شریعت میں کسی عزیز کے انتقال پر عام رشتہ داروں کے لئے تین دن اور بیوی کے لئے 4 مہینے دس دن سے زائد سوگ منانے کی قطعاً اجازت نہیں ہے، لہٰذا محرم کے مہینہ میں ہر سال سوگ منانا سراسر جہالت اور بے اصل ہے، اور روافض کی رائج کردہ خرافات ہیں، اس لئے ان سب جاہلانہ رسومات کو ترک کرنا لازم ہے۔ 
کما فی الصحیح البخاری:
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : ” كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ، وَلَا نَكْتَحِلَ وَلَا نَتَطَيَّبَ وَلَا نَلْبَسَ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ ، وَقَدْ رُخِّصَ لَنَا عِنْدَ الطُّهْرِ إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ كُسْتِ أَظْفَارٍ .
( البخاری،باب الطلاق )
ترجمہ : حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم مسلمان عورتوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے منع کیا گیا ہے کہ ہم کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائیں ، ہاں ! اپنے خاوند پر چار ماہ دس دن کا سوگ ہے ، اس درمیان نہ تو ہم سرمہ لگائیں نہ خوشبو لگائیں ، نہ رنگا ہوا کپڑا پہنیں ، مگر وہ کپڑا جس کی بناوٹ رنگین دھاگوں سے ہو ، البتہ ہمیں یہ رخصت دی گئی کہ حیض سے طہارت کے وقت معمولی قسط یا ظفار کی خوشبو استعمال کرلیں ۔


واضح رہے کہ دین کی سر بلندی کے لیے اپنا سب کچھ لٹا کر شہید ہوجانا بہت بڑی سعادت ہے،
اللہ پاک جس مسلمان کو اپنے مقامِ قرب سے نوازنا چاہتے ہیں، اسے شہادت نصیب فرمادیتے ہیں، اسی وجہ سے قرآن کریم میں شہید کو" زندہ "سے تعبیر کیا گیا ہے، لھذا جو" زندہ" ہوں، ان کا سوگ منانا اور ان کو یاد کرکے ماتم کرنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟

قال اللہ تعالیٰ:
وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ
(البقرہ، الایۃ154) 

نیز اگر کسی کی موت یا شہادت پر ماتم کرنا اور اپنے آپ کو پیٹنا ثابت ہوتا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ، تابعین یا تبع تابعین کی زندگی میں ایسے واقعات بکثرت ملتے، کیونکہ اس زمانے میں شہداء کی تعداد بکثرت ہوتی تھی، جبکہ ہمیں ان ادوار میں ایک واقعہ بھی حدیث میں ایسا نہیں ملتا جس سے ثابت ہو کہ آپ صلی الله عليه وسلم یا صحابہ میں سے کسی ایک نے ماتم یا نوحہ کیا ہو، لہذا یہ بدعت ہے اور اسلامی شعائر سے ہٹ کر ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اسلام میں خودکشی کرنا، اپنے جسم کو خواہ مخواہ تکلیف دینا، یہاں تک کہ جسم پر کچھ گدوانایا Tettos (ٹیٹوز) وغیرہ بنوانا ، چونکہ اس میں انسانی جسم کو تکلیف دینا اور تغییر خلق اللہ پایا جاتا ہے، اس لئے یہ تمام امور ناجائز اور حرام ہیں۔
اسی طرح زہر کھانا حتیٰ کہ مٹی کھانا بھی حرام ہے، کیونکہ اس سے انسانی صحت کو نقصان پہنچتا ہے، چونکہ یہ جسم اللہ کی دی ہوئی امانت ہے اور اسے ہم اپنی مرضی سے استعمال نہیں کرسکتے، اسی لیے کسی آدمی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے اعضاء عطیہ کرنے کی وصیت کرے یا اسے نکال کر فروخت کرے،جب اللہ پاک نے انسانی جسم کا اتنا خیال کرنے کا حکم دیا، یہانتک کہ ناخن اور غیر ضروری بال چالیس دن سے زائد نہ کاٹنے کو پسند نہیں فرمایا تو آپ خود فیصلہ فرمائیں کہ اللہ پاک کا دین اس بات کی اجازت کیسے دے سکتا ہے کہ ایک انسان اپنے منہ اور سینے پر تمانچے لگائے، کمر پر زنجیروں سے زخم لگائے یا اپنے جسم کو آگ پر گھسیٹے اور ان سب کو دین اور عبادت کا حصہ گردانے، جبکہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک جتنی بھی شریعتیں آئیں، کسی ایک آسمانی شریعت میں ان باتوں میں سے کسی ایک بات کا ثبوت نہیں ملتا، نہ ہی کسی نبی علیہ السلام نے اپنے کسی امتی کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہے، نیز ان جلوسوں میں اور کئی قباحتیں پائی جاتی ہیں، جیسے کئی دن سڑکوں کو عوام کے لیے بند کرنا، بازاروں کو بند کرکے روزانہ کمانے والوں کی کمائی کا ذریعہ ختم کرنا، مردوں اور عورتوں کا اختلاط، ماتمی نوحہ وغیرہ لاؤڈ اسپیکر پر دس دن تک پڑھنا اور اس میں یہ خیال تک نہ کرنا کہ کسی بیمار، بوڑھے یا پڑوسیوں کو تکلیف ہوگی، خلاصہ یہ ہے کہ ان تمام چیزوں کو دین اسلام میں عبادت کا درجہ دینا، خود دین اسلام کی حقانیت اور شفافیت پر ایک دھبہ ہے، لہذا ایسے جلوسوں میں جانا یا اس کو دیکھنا جس سے ان کی تعداد میں کثرت ہو، یہ سب" تعاون علی الاثم" یعنی گناہ پر تعاون کرنا ہے، جو کہ سراسر گناہ کبیرہ اور حرام ہے۔

لما فی الصحیح البخاری:
عن عائشۃ رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہا قالت: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من أحدث في أمرنا ہٰذا ما لیس منہ فہو رد۔ (الصلح / باب إذا اصطلحوا علی صلح جور فالصلح مردود رقم: ۲۶۹۷،)


(مزید سوال و جواب کیلئے وزٹ کریں)
http://AlikhlasOnline.com

بدعات و رسومات میں مزید فتاوی

15 Sep 2019
اتوار 15 ستمبر - 15 محرّم 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2019. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com