عنوان: جب مرنے کے اسباب مقرر ہیں تو پھر قاتل کو سزا کیوں؟(102555-No)

سوال: السلام علیکم، کیا ہر انسان کی موت کا وقت مقرر ہے؟ اس میں تقدیر کا کہاں تک دخل ہے؟ مثال کے طور پر ایک آدمی سڑک پر جا رہا ہے، اس کو کار والے نے ٹکر مار دی، اور وہ مر گیا، اب مرنے والے کی موت کار والے کے ہاتھ سے لکھی تھی، تو اس میں کار والے کا کیا قصور ہے؟ اس کے ہاتھ سے تو وہی ہوا جو تقدیر میں لکھا تھا، اسے کون روک سکتا ہے؟

جواب: واضح رہے کہ ہر انسان کی موت کا وقت مقرر ہے، اور جس کی موت حادثہ سے لکھی ہو، تو اس کی موت اسی طرح واقع ہوگی، لیکن کار والے شخص کو سزا اس کی بے احتیاطی کی وجہ سے دی جائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

وفی شرح العقائد:

والمقتول میت باجلہ ای: الوقت المقدر لموتہ۔۔۔۔۔۔ ان وجوب العقاب والضمان علی القاتل تعبدی، لارتکابہ المنھی وکسبہ الفعل اللذی یخلق اللہ تعالی عقبیہ الموت بطریق جری العادة، فان القتل فعل القاتل کسبا۔

(ص: ١٦٦)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 258

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.