عنوان: محفل میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم میں شرکت کا حکم (102694-No)

سوال: مفتی صاحب ! کیا میلاد میں جا سکتے ہیں؟

جواب: جواب سمجھنے سے قبل بطور تمہید یہ بات ذہن نشین فرمالیں کہ سرور کائنات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر خیر، آپ کی مبارک سیرت اور پاکیزہ احوال زندگی کو بیان کرنا، سننا، اس کی اشاعت کرنا، سال کے کسی بھی دن میں باعث فضیلت موجب برکت اور اجر وثواب کا کام ہے، اس بابرکت تذکرے کے لیے شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے اجتماعات منعقد کرنا بھی جائز ہے۔تاہم اس مبارک تذکرے کو کسی دن اور مہینے کے ساتھ مخصوص کرنا اور خاص اسی دن اور مہینے میں میلاد کے نام سے محافل منعقد کرنا اور اسے فرض واجب کا درجہ دیتے ہوئے اسے ضروری سمجھنا شریعت سے ثابت نہیں ہے۔
مروجہ محافل میلاد میں بہت سے خلاف شرع امور سرانجام دیے جاتے ہیں: عورتوں اور مردوں کا مخلوط اجتماع ہوتا ہے، ریلیاں نکالی جاتی ہیں جس سے راستے میں چلنے والوں کو پریشانی ہوتی ہے، بڑے بڑے لاوٴڈ اسپیکر استعمال کیے جاتے ہیں جس سے محلے میں مریض لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے ، ان تقاریب میں میوزک اور قوالیاں چلائی جاتی ہیں، ڈھول باجے پٹاخے استعمال کیے جاتے ہیں، بعض جگہ خانہ کعبہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہٴ اطہر کی شبیہ بناکر ان کا طواف کیا جاتا ہے۔
مذکورہ بالا تمام خرافات کی وجہ سے محافل میلاد میں شرکت کرنا ممنوع ہے۔
نیز ماہ ربیع الاول کی کسی خاص تاریخ میں میلاد کرنا اورجشن منانا نہ حضراتِ صحابہٴ کرام سے ثابت ہے نہ ائمہ مجتہدین اور فقہائے امت سے منقول ہے، شروع شروع میں اس کا آغاز سلطان ابوسعید المظفر نے سنہ ٦٠٧ میں کیا،
اس میں زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ نئی سے نئی بدعات ورسوم شامل ہوتی گئیں، جس کی وجہ سے خود بریلوی مکتب فکر کے مستند مفتیان کرام نے اس طرح کی محافل کو غیر شرعی قرار دیا ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

http://AlikhkasOnline.com

بدعات و رسومات میں مزید فتاوی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Bida'At & Customs

06 Dec 2019
جمعہ 06 دسمبر - 8 ربيع الثانی 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2019. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com