عنوان: ختم قرآن کے موقع پر مٹھائی تقسیم کرنا (104206-No)

سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ تراویح میں ختم قرآن کے موقع پر جو مٹھائی وغیرہ تقسیم کی جاتی ہے، کیا یہ مٹھائی تقسیم کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب: تراویح میں ختم قرآن کے موقع پر اگر مٹھائی تقسیم کرنے کو ضروری نہ سمجھا جائے اور لوگوں سے جبرًا اس کے لیے چندہ نہ کیا جائے، نیز مٹھائی کی تقسیم کے وقت مسجد کے آداب کا خیال رکھا جائے، تو اس کی گنجائش ہے، مگر بہتر یہ ہے کہ دروازے پر تقسیم کی جائے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کما فی الحدیث النبوی:

عن علی بن زید عن أبي حرۃ الرقاشيؓ عن عمہ: أن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال: ألا ! لایحل مال إمرئ مسلم إلا بطیب نفس منہ۔

(شعب الإیمان للبیہقي، باب في قبض الید عن الأموال المحرمۃ، دار الکتب العلمیۃ بیروت ۴/۳۸۷، رقم:۵۴۹۲)

کذا فی الشامیۃ:

قولہ: ویحرم لما أخرجہ المنذري مرفوعًا جنِّبوا مساجدکم صبیانکم ومجانینکم وبیعکم وشراء کم ورفع أصواتکم وسل سیوفکم وإقامۃ حدودکم وجمروہا في الجمع واجعلوا علی أبوابہا المطاہر۔

(شامي / باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، مطلب في أحکام المسجد ۲؍۴۲۹ زکریا)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 331
khatm e quran kay moqay par mithai / sweets taqseem karna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Taraweeh Prayers

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.