عنوان: قرب قیامت میں قرآن وسنت سے نزول عیسی کا ثبوت اور اس کے منکر کا حکم(104347-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! کیا حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام کا دنیا میں واپس آنا صحیح احادیث سے ثابت ہے؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ اگر کوئی اس بات کو نہ مانے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: واضح رہے کہ قرب قیامت میں حضرت عیسی علیہ السلام کا دنیا میں واپس زندہ سلامت آنا قرآن وسنت سے متعدد بار ثابت ہے، اور یہ مسلمانوں کا قطعی اور اجماعی عقیدہ ہے، جس کا منکر بلاشبہ کافر ہے۔

قرآن وسنت سے بطورِ مثال نزولِ عیسی کا ثبوت ملاحظہ فرمائیں، قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

"وان من أهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته"[النساء:159]

ترجمہ: "اور اہل کتاب میں سے ہر کوئی حضرت عیسی علیہ السلام پر اس کی موت سے پہلے ضرور ایمان لائے گا"

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر فرمائی ہے کہ اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ تشریف لانے کی خبر دی گئی ہے اور یہ کہ جب وہ تشریف لائیں گے تو ان کی موت سے پہلے سب اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے۔
(مستدرک حاکم ج:۲ ص:۳۰۹، در منثور ج:۲ ص:۲۴۱)

اور صحیح بخاری میں حضرت ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

" قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! البتہ قریب ہے کہ نازل ہوں تم میں ابن مریم حاکمِ عادل کی حیثیت سے، پس صلیب کو توڑدیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے، اور لڑائی کو موقوف کریں گے، اور مال کی ہراسانی ہوجائے گی، یہاں تک کہ نہیں قبول کرے گا، اس کو کوئی شخص، یہاں تک کہ ایک سجدہ بہتر ہوگا، دنیا بھر کی دولت سے، پھر ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ اگر چاہو تو قرآن کریم کی یہ آیت پڑھو:
"اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر ضرور ایمان لائے گا، حضرت عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے اور ہوں گے عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن ان پر گواہ۔"(صحیح بخاری ج:۱ ص:۴۹۰)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی القرآن الکریم:
وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ[النساء:159]

وفیہ ایضا:
یکلم الناس فی المهد وکهلا[آلعمران: 46]

وفي مشكوة المصابيح:
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ و الذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکماً وعدلاً۔الحدیث رواہ الشیخان وابوداؤد وابن ماجہ واحمد فی مسندہ وفی روایۃ البیہقی من المساء وفی روایۃ احمد ینزل الروحاء فیحج منہا او یعتمر اویجمعہما وبمعناہ اخرجہ الحاکم وزاد یقول ابوہریرہ ای بنی اخی ان رأیتموہ فقولوا ابوہریرۃ یقرء ک السلام ۔ وفی روایۃ نعیم بن حماد یتزوج۔
(مشکواۃ المصابیح ص۴۷۹ جلد۲ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 360
qurb e qiyamat / qiamat mai quran sunnat sai / say nuzool e eesa ka suboot

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.