عنوان: حضور اکرم ﷺ کے زمانہ میں کاغذ نہیں ہوتے تھے، تو وحی کس پر لکھی جاتی تھی؟(107334-No)

سوال: میں نے کسی سے سنا تھا کہ حضور اکرم ﷺ کے زمانہ میں کاغذ بالکل نہیں ہوتے تھے، اس سے میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا ہے کہ پھر وحی کس چیز پر لکھ کر محفوظ کی جاتی تھی، براہ مہربانی وضاحت فرمادیں؟

جواب: حضور اکرم ﷺ کے زمانہ میں بھی کاغذ موجود ہوتے تھے، لہذا یہ بات کہ آپ ﷺ کے زمانہ میں کاغذ بالکل نہیں ہوتے تھے، درست نہیں ہے، البتہ زیادہ مقدار میں کاغذ نہیں ہوتے تھے، کم مقدار میں کاغذ ہوتے تھے، یہی وجہ ہے کہ اس زمانہ میں لکھنے کی کمی کو پتوں، بڑے پتھروں اور چمڑے کے ٹکڑوں وغیرہ پر لکھ کر پورا کیا جاتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الصحیح للبخاری:

فلم یزل ابوبکر یراجعنی حتی شرح ﷲ صدری شرح لہ صدر ابی بکر وعمر فتتبعت القرآن اجمعہ من العسب واللحاف وصدور الرجال حتی وجدت آخر سورۃ التوبۃ۔

(باب قوله: {لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عنتم، حريص عليكم بالمؤمنين رءوف رحيم} «من الرأفة»، ج: 2، ص: 475)

وفی روح المعانی:

فقد اخرج الحاکم بسند علی شرط الشیخین عن زید بن ثابت قال کنا عند النبیﷺ نؤلف القرآن فی الرقاع۔

(خطبۃ المفسر، ج: 1، ص: 21)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 136

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com