عنوان: اگر چوری کرنا تقدیر میں لکھا ہے، تو پھر چور کا ہاتھ کیوں کاٹا جاتا ہے؟(107340-No)

سوال: میرے ذہن میں تقدیر سے متعلق ایک سوال ہے کہ اگر کوئی شخص چوری کرے، تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے، حالانکہ تقدیر میں چوری کرنا لکھا ہوا تھا، تو پھر چور کا ہاتھ کیوں کاٹا جاتا ہے؟

جواب: واضح رہے کہ ہر شخص کو اللہ تعالی نے خود مختار بنایا ہے، وہ جو کام کرتا ہے، اپنی رضا و خوشنودی اور اختیار سے کرتا ہے، لہذا جب اللہ تعالی نے چوری کرنے سے منع فرمایا ہے، تو شخص چوری کرے گا، اسے گناہ بھی ملے گا اور اس کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا اور جس طرح چوری کرنا تقدیر میں لکھا ہے، اسی طرح اس کی سزا میں ہاتھ کا کاٹا جانا بھی تقدیر میں لکھا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی شرح العقائد للنسفی:

لما استحق القاتل ذما ولا عقابا ولا دیۃ ولا قصاصا اذ لیس موت المقتول بخلقہ ولابکسبہ……ان وجوب العقاب والضمان علی القاتل تعبدی لارتکابہ المنہی وکسبہ الفعل الذی یخلق اﷲ تعالی عقیبہ الموت بطریق جری العادۃ فان القتل فعل القاتل کسبا و ان لم یخلق۔

(ص: 167)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 304

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com