عنوان: کیا حضور اکرم ﷺ نے معراج کے موقع پر اللہ رب العزت کی زیارت کی تھی؟(107491-No)

سوال: ہم چند رشتہ دار علمی مباحثہ کر رہے تھے کہ ایک نے کہا کہ معراج میں حضور اکرم ﷺ نے اپنی آنکھوں سے اللہ رب العزت کی زیارت نہیں کی تھی، جبکہ دوسرے رشتہ دار نے کہا کہ آنکھوں سے زیارت کی تھی، وضاحت فرمادیں کہ اس میں سے درست کس کی بات ہے؟

جواب: صورت مسئولہ میں مذکورہ مسئلہ میں اختلاف حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کے دور سے چلا آرہا ہے، چنانچہ حضرت عائشہ وغیرہ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے معراج میں کھلی آنکھوں سے اللہ رب العزت کی زیارت نہیں کی تھی، جبکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما اور دیگر حضرات فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے معراج میں کھلی آنکھوں سے اللہ رب العزت کی زیارت کی تھی اور یہی قول زیادہ راجح ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی القرآن المجید:

لَقَدْ رَأٰى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى۔

(النجم: 18)

وفی روح المعانی:

والظاھر ان ابن عباس لم یقل بالرؤیۃ الاعن سماع وقد اخرج عنہ احمد انہ قال :قال رسول ﷲﷺ رأیت ربی…… وجمع بعضھم بین قولی ابن عباس وعائشۃ بان قول عائشۃ محمول علی نفی رؤیتہ تعالی فی نورہ الذی ھونورہ المنعوت بانہ لایقوم لہ البصروقول ابن عباس محمول علی ثبوت رؤیتہ تعالی فی نورہ الذی لایذھب بالابصار ……… ثم ان القائلین بالرؤیۃ اختلفوا فمنھم من قال انہ علیہ السلام رأی ربہ سبحانہ بعینہ وروی ذلک عن ابن مردویۃ عن ابن عباس وھو مروی ایضا عن ابن مسعود وابی ھریرۃ واحمد بن حنبل ومنھم من قال رآہ عزوجل بقلبہ وروی ذلک عن ابی ذر ……ومنھم من ذھب الی ان احد الرؤیتین کانت بالعین والاخری بالفواد وھی روایۃ عن ابن عباس۔

(سورة النجم، ج: 27، ص: 53)

وفی الجامع لاحکام القرآن للقرطبی:

وعن ابن عباس انہ رآہ بعینہ ……قال ابن عباس ان الخلۃ تکون لابراھیم والکلام لموسی والرؤیۃ لمحمدﷺ وعلیھم اجمعین ……وحکی عبدالرزاق ان الحسن کان یحلف باللہ لقد رأی محمد ربہ ……عن احمد بن حنبل انہ قال انا اقول بحدیث ابن عباس بعینہ رآہ رآہ حتی انقطع نفسہ یعنی نفس احمد۔

(سورۃ الانعام، ج: 4، ص: 56)

وفی حاشیۃ النووی علی الصحیح لمسلم:

قال الامام النووی بعد بحث نفیس …… فالحاصل ان الراجح عند اکثر العلماء ان رسول ﷲﷺ رأی ربہ بعینی راسہ لیلۃ الاسراء لحدیث ابن عباس وغیرہ مماتقدم واثبات ھذا لایاخذ ونہ الا بالسماع من رسول ﷲﷺ ھذا مما لاینبغی ان یشک فیہ۔

(ج: 1، ص: 97)

کذا فی نجم الفتاوی:

(ج: 1، ص: 446)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 118

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com