عنوان: فقہ حنفی میں گستاخِ رسول کی سزا(107709-No)

سوال: مفتی صاحب ! فقہ حنفی میں گستاخِ رسول کی سزا کیا ہے؟

جواب: تمام امت مسلمہ بشمول امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالیٰ کا اس بات پر اجماع ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والا سراسر کافر، مرتد، زندیق اور ملحد ہے، اور توبہ سے قبل ایسا شخص اگر مسلمان ملک کے اندر موجود ہو، تو مسلمان حکومت پر ایسے شخص کا قتل کرنا واجب ہے، اس پر امت کا اجماع ہے، البتہ اگر کوئی مسلمان رسول اللہ صلی الله عليه وسلم کی شان میں گستاخی کرے اور مقدمہ فوج داری قائم ہونے اور گرفتاری سے پہلے سچے دل سے توبہ کرلے تو حنفی مسلک کے مطابق اس کی توبہ قبول ہے اور گرفتاری کے بعد اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔

اور اگر کوئی ذمی معاہد گستاخی کرنے کے بعد سچے دل سے توبہ کرلے تو اللہ کے نزدیک اس کا گناہ معاف ہوسکتا ہے، جہاں تک دنیاوی احکام کا تعلق ہے تو حضرات احناف کے نزدیک اس صورت میں تعزیر ہے اور حاکم کو اختیار حاصل ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے مرتکب کو سیاستا و تعزیرا قتل کرنے کا حکم جاری کرے۔

واضح رہے کہ آج کل کے زمانہ میں حرمتِ رسول علیہ السلام پر غیر مسلموں کی طرف سے مختلف طریقوں سے حملے جاری ہیں، حاکم وقت کی ذمہ داری ہے کہ گستاخِ رسول کو ایسی سزا دے، جس سے دوسروں کو عبرت ہو، اگرچہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرکے معافی مانگ لے، کیونکہ یہ معاملہ عصمت انبیاء علیہم السلام کا معاملہ ہے اور حاکم یا عدالت اس وقت ان کی طرف سے نائب ہے، اگر گستاخ رسول کو بغیر سزا کے چهوڑ دیا گیا تو آئندہ اوروں کو بهی اس قبیح جرم کے ارتکاب کی جرأت ہوگی۔

نیز واضح رہے کہ اگر ملکی قانون کے مطابق اس جرم پر علی الإطلاق قتل کی سزا مقرر کردی گئی ہو تو چونکہ شافعیہ، مالکیہ اور حنابلہ رحمهم الله تعالى کے نزدیک ذمی گستاخ کی سزا قتل ہے اور اس کی توبہ اسلام لانے سے پہلے مقبول نہیں اور احناف کے نزدیک حکم حاکم رافع خلاف(حاکم کا حکم اختلاف کو ختم کرنے والا) ہے، لہذا عدالت ملکی قوانین اور ائمہ ثلاثہ کے مطابق اسی تعزیری سزا(قتل) کو نافذ کرنے کی پابند ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الحدیث النبوی:

”عن معاذ بن جبل ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لہ حین بعثہ الی الیمن: ایما رجل ارتد عن الاسلام فادعہ، فان تاب، فاقبل منہ، وان لم یتب، فاضرب عنقہ، وایما امرأة ارتدت عن الاسلام فادعہا، فان تابت، فاقبل منہا، وان ابت فاستتبہا“۔

(مجمع الزوائد: ج:6 ص:263)

کذا فی اعلاء السنن:

قال محمد فی السیر الکبیر: وکذلک ان کانت تعلن بشتم رسول اللہ ﷺفلا باس بقتلھا۔

(اعلاء السنن، باب یقتل الذمی رجلاً کان او امرأۃ اذا اعلن بسب اللہ والرسول بما لا یدینہ وکذا اذا طعن فی دین الاسلام بنحوہ، ج:14 ص:539)

وفیہ ایضاً:

”وبالجملۃ فلا خلاف بین العلماء فی قتل الذمی او الذمیۃ اذا اعلن بشتم الرسول ﷺاو طعن فی دین الاسلام طعناً ظاھراً او نسب الی اللہ تعالیٰ مالا یعتقدہ ولا یتدین بہ وانما الخلاف فی انتقاض العھدبہ۔“

(اعلاء السنن، باب یقتل الذمی رجلاً کان او امراۃً، ج:12 ص:539)

کما فی الدر المختار مع رد المحتار:

ولفظ النتف من سب الرسول - صلى الله عليه وسلم - فإنه مرتد وحكمه حكم المرتد ويفعل به ما يفعل بالمرتد انتهى۔۔۔۔فبعد أخذه لا تقبل توبته اتفاقا فيقتل، وقبله اختلف في قبول توبته، فعند أبي حنيفة تقبل فلا يقتل

(ج: 4، ص: 234، ط: دار الفکر)

وفیہ ایضاً:

(ويؤدب الذمي ويعاقب على سبه دين الإسلام أو القرآن أو النبي) - صلى الله عليه وسلم - حاوي وغيره قال العيني: واختياري في السب أن يقتل. اهـ.

ورأيت في كتاب الصارم المسلول لشيخ الإسلام ابن تيمية الحنبلي ما نصه: وأما أبو حنيفة وأصحابه فقالوا: لا ينتقض العهد بالسب، ولا يقتل الذمي بذلك لكن يعزر على إظهار ذلك۔۔۔۔۔وكان حاصله: أن له أن يعزر بالقتل في الجرائم التي تعظمت بالتكرار، وشرع القتل في جنسها؛ ولهذا أفتى أكثرهم بقتل من أكثر من سب النبي - صلى الله عليه وسلم - من أهل الذمة وإن أسلم بعد أخذه، وقالوا يقتل سياسة

(ج: 4، ص: 214، ط: دار الفکر)



کذا فی الصارم المسلول

وقد حکی ابو بکر الفارسی من اصحاب الشافعی اجماع المسلمین علی ان حد من یسب النبی ﷺالقتل کما ان حد من سب غیرہ الجلد۔۔۔۔۔۔وقال الخطابی: لا اعلم احدا من المسلمین اختلف فی وجوب قتلہ۔

(الصارم المسلول علی شاتم الرسول، ص:9)

کذا فی الشامیۃ:

(قولہ: وسب النبیﷺ) ای اذا لم یعلن، فلوأعلن بشتمہ او اعتادہ قتل ولو امرأۃ وبہ یفتی الیوم درمنتقی وھذا حاصل ما سیذکرہ الشارح ھنا وقیدہ الخیر الرملی بقید آخر حیث قال اقول ھذا ان لم یشترط انتقاضہ بہ واما اذا شرط انتقض بہ کما ھو ظاھر۔

(شامیۃ، فصل فی الجزیۃ مطلب فی حکم سب الذمی النبی، ج:4 ص:213)

کذا فی نجم الفتاوی:

(ج1، ص308، ط: دارالعلوم یاسین القرآن)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 385

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com