عنوان: وتر میں اگر دعائے قنوت پڑھنا بھول گیا، تو سجدہ سہو واجب ہوگا(108712-No)

سوال: السلام علیکم، حضرت ! وتر میں اگر دعائے قنوت پڑھنا بھول جائیں، تو کیا وتر کی نماز دوبارہ پڑھنی ہوگی؟

جواب: اگر کوئی شخص وتر کی تیسری رکعت میں دعائے قنوت پڑھنا بھول گیا، تو اس پر سجدہ سہو واجب ہوگا، سجدہ سہو سے اس کی نماز درست ہو جائے گی، اور اگر اس نے سجدہ سہو بھی نہیں کیا، تو نماز کے وقت کے اندر اندر وتر کا اعادہ واجب ہوگا، وقت گزر جانے کے بعد اعادہ مستحب ہوگا۔

دلائل:




ردالمحتار:(9/1،ط:سعید)
(ولونسیہ) أی القنوت( ثم تذکرہ فی الرکوع لایقنت) فیہ لفوات محلہ (ولایعود الی القیام) فی الاصح لان فیہ رفض الفرض للواجب (فان عادالیہ وقنت ولم یعدا لرکوع لم تفسد صلا تہ)لکون رکوعہ بعدقراء ۃ تامۃ..(وسجد للسہو)قنت اولا لزوالہ عن محلہ۔

حاشیة الطحطاوی:(461،462/1،ط:دارالکتب العلمیة)
"وإن تكرر" بالإجماع كترك الفاتحة والاطمئنان في الركوع والسجود والجلوس الأول وتأخير القيام للثالثة بزيادة قدر أداء ركن ولو ساكنا "وإن كان تركه" الواجب "عمدا أثم ووجب" عليه "إعادة الصلاة"
"ووجب عليه إعادة الصلاة" فإن لم يعدها حتى خرج الوقت سقطت عنه مع كراهة التحريم هذا هو المعتمد.

فتاویٰ دارالعلوم دیوبند:جواب نمبر:67785

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 253

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.