عنوان: سورۃ المائدۃ کی آیت نمبر:101 کی تفسیر (109017-No)

سوال: مفتی صاحب ! سورۃ المائدہ، آیت نمبر 101 "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِن تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللَّهُ عَنْهَا ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ" کی تفسیر و تشریح بتادیں۔ جزاک اللہ خیرا

جواب: سوال میں ذکر کردہ آیت کا ترجمہ:

اے ایمان والو ! ایسی چیزوں کے بارے میں سوالات نہ کیا کرو، جو اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں، اور اگر تم ان کے بارے میں ایسے وقت سوالات کرو گے، جب قرآن نازل کیا جارہا ہو، تو وہ تم پر ظاہر کردی جائیں گی۔(البتہ) اللہ نے پچھلی باتیں معاف کردی ہیں، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا بردبار ہے۔

تفسیر و تشریح:
۱۔سوال میں ذکر کردہ آیت کی تفسیر میں علامہ قرطبی ؒ اور دیگر مفسرین کرام نے شانِ نزول بیان کرتے ہوئے کئی واقعات لکھیں ہیں، جن میں زیادہ مشہور واقعہ یہ ہے کہ حضرت علی رضہ اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت’’ ولله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا ‘‘’’اور لوگوں پر اللہ کے لیے حج (بیت اللہ) کرنا (فرض) ہے، بشرطیکہ وہ اس کی طاقت رکھتے ہوں‘‘۔ (ال عمران : 97) نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! کیا ہر سال (حج فرض ہے)۔ آپ ﷺ خاموش رہے، صحابہ کرام نے پھر کہا یا رسول اللہ ﷺ !کیا ہر سال (حج فرض ہے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا:نہیں، اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال لازم ہوجاتا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:’’ يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم ‘‘’’ اے ایمان والو ! ایسی چیزوں کے بارے میں سوالات نہ کیا کرو، جو اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں ‘‘۔

مسلم شریف میں ہے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا ہے،پس تم حج کرو تو ایک آدمی نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! کیا ہر سال حج فرض کیا گیا ہے؟ تو آپ ﷺ خاموش رہے، یہاں تک کہ اس نے آپ ﷺ نے تین مرتبہ عرض کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں کہتا ہاں تو ہر سال حج لازم ہوجاتا اور تم اس کی طاقت نہ رکھتے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جن باتوں کو میں چھوڑ دیا کروں، تم ان کے بارے میں مجھ سے نہ پوچھا کرو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ کثرت سوال کی وجہ سے ہلاک ہوئے اور وہ اپنے نبیوں سے اختلاف کرتے تھے، جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم کروں تو حسب استطاعت تم اسے اپنالو اور جب تمہیں کسی چیز سے روک دوں تو تم اسے چھوڑ دو۔
(صحیح مسلم:حدیث نمبر:1337)

۲۔ اس آیت میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض اوقات کوئی حکم مجمل طریقے سے آتا ہے، اگر اس حکم پر اسی اجمال کے ساتھ عمل کرلیا جائے تو کافی ہے، اگر اللہ تعالیٰ کو اس میں مزید تفصیل کرنی ہوتی، تو وہ خود قرآن کریم یا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کے ذریعے کردیتا، اب اس میں بال کی کھال نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سیدھے سادھے معاملہ میں بھی پابندیا ں لگ جاتی ہیں اور اس حکم میں سختی آجاتی ہے، اور جو چیز فرض نہیں ہوتی، وہ بھی فرض ہوجاتی ہے، جیسے بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اگر وہ کوئی بھی گائے ذبح کردیتے تو حکم پر عمل ہوجاتا، لیکن انہوں نے سوالات کرنا شروع کردیے کہ اس کا رنگ کیسا ہوناچاہیے، صفت کیا ہونی چاہیے، عمر کیا ہونی چاہیے؟تو اللہ تعالی نے ان ساری شرائط والی گائے ذبح کرنے کا حکم دیا، جس کی تلاش میں انہیں چالیس سال لگ گئے۔
یہ سای مشقت انہیں ایک حکم میں زیادہ سوالات کرنے کی وجہ اٹھانا پڑی، اسی لیے اگلی آیت میں اس قسم کے سوالات کرکے عمل نہ کرنے والی قوم کے بارے میں خبردی کہ ’’ تم سے پہلے ایک قوم نے اس قسم کے سوالات کیے تھے، پھر ان (کے جو جوابات دیے گئے ان) سے منکر ہوگئے۔ ‘‘

جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: :’’ مسلمانوں میں بڑا مجرم وہ ہے، جو کسی ایسی چیز کے متعلق سوال کرے، جو مسلمانوں پر حرام نہ کی گئی ہو، پھر اس کے سوال کی وجہ سے ان پر حرام کردی گئی ہو ‘‘(صحیح مسلم، حدیث نمبر:2358)
اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے کچھ فرائض مقرر فرمائے ہیں، تم انہیں ضائع نہ کرو اور کچھ حدود مقرر فرمائی ہے، تم ان سے آگے نہ بڑھو اور کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا ہے، تم ان کا ارتکاب نہ کرو، اور تم پر مہربانی فرماتے ہوئے بہت سی چیزوں سے خاموشی اختیار فرمائی اور یہ خاموشی بھولنے کی وجہ سے نہیں ہے، لہٰذا تم ان کے بارے میں سوال نہ کرو ۔( حلية الاولياء لابي نعيم: الأصبهاني:17/9،ط: السعادة)

۲۔ ختم نبوت اور سلسلہ وحی کے بند ہونے کے بعد ایسے سوالات کا اگرچہ یہ اثر نہ ہوگا کہ نئے احکام آجائیں، جوچیزیں فرض نہیں ہیں، وہ فرض ہو جائیں، لیکن بےضرورت سوالات گھڑ گھڑ کر ان کی تحقیقات میں پڑنا یا بےضرورت چیزوں کے متعلق سوالات کرنا بعد انقطاع نبوت کے بھی مذموم اور ممنوع ہی رہے گا، کیونکہ اس میں اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع کرنا ہے، جو بالکل فضول چیزوں کی تحقیق میں لگے رہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا کیا نام تھا، اور نوح (علیہ السلام) کی کشتی کا طول و عرض کیا تھا، اصحاب کہف کے کتے کا نام کیا تھا ،وہ کس رنگ کا تھا؟ یہ وہ فضول سوالات ہیں کہ جن کا کوئی اثر انسان کے عملی زندگی پر نہیں ہوتا ہے، اور اکثر ایسے سوالات کرنے والے حضرات ضروری اور اہم مسائلِ دین سے بےخبر ہوتے ہیں، کیونکہ فضول کاموں میں پڑنے کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ آدمی ضروری کاموں سے محروم ہو جاتا ہے۔

۳۔ اس آیت سے قطعاً یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ جن سوالات کی ضرورت ہو، ان کے بارے میں بھی نہیں پوچھنا چاہیے، بلکہ ایسے سوالات (جن کا تعلق انسان کے عملی زندگی سے ہو) کے پوچھنے کی ترغیب دی گئی ہے کہ " فسئلوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون" "اگر تمہیں علم نہیں ہے تواہلِ علم سے پوچھ لیا کرو"۔

خلاصہ کلام:
ان آیات میں فضول اور بلا ضرورت کثرت سے سوال کرنے اور کسی بھی حکم میں بال کی کھال نکالنے، کھود کرید کرنے اور اس میں باریکیاں تلاش کرنے سے منع کیا گیا ہے، کیونکہ اسلام کی تعلیمات میں یہ بھی ایک تعلیم ہے کہ علم ہو یا عمل، کوئی کام ہو یا کلام، جب تک اس میں کوئی دینی یا دنیوی فائدہ پیش نظر نہ ہو، اس میں لگ کر وقت ضائع نہ کریں، لہذا فضول اور بے جا سوالات کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

سنن الترمذی: (رقم الحدیث: 3055، ط: مطبعة مصطفى البابی)
عن علي، قال: لما نزلت: {ولله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا} [آل عمران: 97] قالوا: يا رسول الله، في كل عام؟ فسكت، قالوا: يا رسول الله في كل عام؟ قال: «لا، ولو قلت نعم لوجبت»، فأنزل الله: {يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم} [المائدة: 101]: «هذا حديث حسن غريب من حديث علي» وفي الباب عن أبي هريرة، وابن عباس.

صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 1337، ط: دار إحياء التراث العربی)
عن أبي هريرة، قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: «أيها الناس قد فرض الله عليكم الحج، فحجوا»، فقال رجل: أكل عام يا رسول الله؟ فسكت حتى قالها ثلاثا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لو قلت: نعم لوجبت، ولما استطعتم "، ثم قال: «ذروني ما تركتكم، فإنما هلك من كان قبلكم بكثرة سؤالهم واختلافهم على أنبيائهم، فإذا أمرتكم بشيء فأتوا منه ما استطعتم، وإذا نهيتكم عن شيء فدعوه».

حلية الاولياء لابي نعيم: (17/9، ط: السعادة)
عن أبي ثعلبة الخشني قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الله تعالى فرض فرائض فلا تضيعوها، وحد حدودا فلا تعتدوها، وحرم أشياء فلا تقربوها، وترك أشياء غير نسيان؛ رحمة لكم، فلا تبحثوها».

مسند احمد: (رقم الحديث: 1737، ط: دار الحدیث)
عن علي بن حسين عن أبيه قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "من حسن إسلام المرء تركه ما لا يَعْنيه".

تفسیر القرطبی: ( 331/6، ط: دار الكتب المصرية)
وروى الترمذي والدارقطني عن علي رضي الله عنه قال: لما نزلت هذه الآية" ولله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا" [آل عمران: 97]. قالوا: يا رسول الله أفي كل عام؟ فسكت، فقالوا: أفي كل عام؟ قال: لا ولو قلت نعم لوجبت ، فأنزل الله تعالى:" يا أيها الذين آمنوا لا تسئلوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم" إلى آخر الآية. ۔۔۔۔الثامنة- إن قال قائل: ما ذكرتم من كراهية السؤال والنهي عنه، يعارضه قوله تعالى:" فسئلوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون"[ النحل: 43] فالجواب، أن هذا الذي أمر الله به عباده
هو ما تقرر وثبت وجوبه مما يجب عليهم العمل به، والذي جاء فيه النهي هو ما لم يتعبد الله عباده به، ولم يذكره في كتابه. والله أعلم. التاسعة- روى مسلم عن عامر بن سعد عن أبيه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن أعظم المسلمين في المسلمين جرما من سأل عن شي لم يحرم على المسلمين فحرم عليهم من أجل مسألته.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 246
sorah almaida / almayeda ki ayat number 101 ki tafseer

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation of Quranic Ayaat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.