عنوان: قرآن کریم کو خود سمجھنا چاہیے یا کسی عالم سے پڑھنا ضروری ہے؟(100902-No)

سوال: السلام وعلیکم ورحمتہ وبرکاتہ حضرت ! قرآنِ کریم کو سمجھ کر پڑھنے کے بارے میں دو باتیں سنی ہیں، ایک تو یہ کہ قرآن عظیم کو خود سمجھ کر پڑھا جائے اور دوسری یہ کہ ایک عام سائنسی کتاب کو بغیر استاد کے نہیں سیکھا جاسکتا تو قرآن عظیم جو کہ اللہ رب العزت کی کتاب ہے، اس کو بغیر استاد کے کیسے سمجھا جاسکتا ہے؟ تو پوچھنا یہ ہے کہ کون سی بات صحیح ہے اور ہم قرآن عظیم کو سمجھ کر کیسے پڑھ سکتے ہیں؟

جواب: سوال میں مذکور دونوں باتوں میں سے دوسری بات زیادہ اچھی ہے۔ مگر یہ واضح ہوکہ قرآن کریم کے صرف اردو ترجمہ وتفسیر کو پڑھ کر اس کے صحیح مفہوم کو سمجھنا علومِ قرآن سے ناواقف شخص کے لیے عام طور سے ممکن نہیں، اس کو غلطی لگنے کا احتمال رہتا ہے، اس لیے کہ قرآن کریم تمام علوم ومعارف کا منبع ہے، چنانچہ علماء کرام قرآن کی تفسیر کے سلسلے میں نہایت احتیاط کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے قرآن کریم کی تفسیر بیان کرنے کے لیے عربی زبان کے پندرہ علوم میں مہارت کو لازمی قرار دیا ہے ۔
یہاں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ آج کل بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جب واضح طور پر قرآن کریم میں آ گیا : " ولقد یسّرنا القرآن للذّکر " .
(سورۃ القمر : ١٧)
ترجمہ : اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرآن کونصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنا دیا ہے۔

جب قرآن کریم آسان ہے، تو اس کی تشریح کے لیے لمبے چوڑے علوم وفنون کو پڑھنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس آیت کے معنی کو یہاں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے، وہ یہ کہ قرآن کریم کی آیات میں عام طور سے دو طرح کے مضمون ہوتے ہیں :
١- عام وعظ ونصیحت کی باتیں، سبق آموز واقعات، خوف الٰہی، فکر آخرت اور جنت وجہنم کا تذکرہ وغیرہ۔
٢- وہ آیات جن میں شریعت کے احکام وقوانین، عقائد وعبادات کے مسائل وغیرہ ذکر ہوتے ہیں۔
پہلی قسم کی آیات کے معنی ومفہوم کو معمولی عربی پڑھا ہوا شخص بھی ادنی غوروتدبر سے سمجھ سکتا ہے، سو اس اعتبار سے قرآن کریم بلا شبہ آسان ہے۔
البتہ دوسری قسم کی آیات کو کماحقہ سمجھنے کے لیے اسلامی علوم میں پوری مہارت اور بصیرت ضروری ہوتی ہے، لہذا احکام ومسائل کے مضمون والی آیات ان علوم میں پختگی حاصل کرلینے کے بعد آسان ہوں گی۔
یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام باوجود اہل زبان ہونے کے قرآن کریم کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں طویل مدتیں صرف کرتے تھے۔ جیسا کہ صحابہ کرام کے اس حوالے سے واقعات مشہور ہیں، موطّا امام مالک کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ نے صرف سورۃ البقرہ سیکھنے میں پورے آٹھ سال صرف کیے۔
( الاتقان فی علوم القرآن : ج ٢ص: ١٧۶ )

یہاں یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ صحابہ کرام کے لیے جب ان کی عربی دانی فہمِ قرآن کے لیے کافی نہیں تھی، بلکہ باقاعدہ ان کو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے قرآن کریم کی مراد و مفہوم کو سیکھنے کی ضرورت ہوتی تھی، تو آج چودہ سو سال بعد غیر اہل زبان کے لیے صرف عربی جاننا یا صرف اردو ترجمہ پڑھ کر قرآن کریم کے تمام مضامین کو سمجھنا کیسے ممکن ہوگا ؟

اور یہ بات بھی ہر ذی شعور سمجھتا ہےکہ صرف انگریزی زبان جاننے والا میڈیکل کی کتابیں پڑھ کر ڈاکٹر وانجینئر نہیں بن سکتا، بلکہ اس کے لیے باقاعدہ ڈاکٹری اور انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنی پڑتی ہے، تو قرآن کریم کے معانی ومطالب سمجھنے کے لیے صرف عربی سمجھنے کو کیوں کافی سمجھ لیا جاتا ہے؟ جبکہ بعض ستم ظریف تو صرف ترجمہ قرآن کو پڑھ کر ہی اپنے آپ کو قرآن کا عالم سمجھنے لگتے ہیں اور قرآن کریم کی من مانی تشریح کرتے ہیں، جو سلف صالحین کی تفسیر کے برخلاف ہوتی ہے۔

خوب سمجھ لینا چاہیے کہ یہ نہایت خطرناک طرز عمل ہے، جو دین کے معاملے میں بہت گمراہ کن اور ہلاکت کی طرف لے جانے والا ہے، اسی طرزعمل پر احادیث میں سخت وعید آئی ہے کہ "جس نے قرآن کے معاملے میں بغیرعلم کوئی بات کہی وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے "۔
"اور جس نے قرآن کے معاملے میں محض اپنی رائے سےگفتگو کی اور کوئی بات صحیح بھی کہہ دی، تب بھی اس نے غلطی کی ۔"
(ابو داود و نسائی، از الاتقان فی علوم القرآن : ج ٢ ص: ١٧٩ )

لہذا جو لوگ علوم عربیہ سے ناواقف ہوں، ان کے لیےبہتر یہ ہے کہ وہ مستند علماء کرام( جو تفسیرِقرآن کی صلاحیت رکھتے ہوں) سے روزانہ سبقاً سبقاً قرآن کریم پڑھیں یا ہفتہ میں ایک دن ان میں سے کسی ایک کے درس قرآن میں جاکر، ان کے درس کو سن کر قرآن کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو اردو کی معتبر ومستند تفسیر کو کسی معتبر عالم کی رہنمائی میں مطالعہ کریں، اس طور پر کہ جہاں جو بات سمجھ نہ آئے، خود سے فیصلہ کرنے کے بجائے ان سے رجوع کرلیا کریں، تاکہ قرآنی ہدایت کا نور اس کے آداب کی رعایت کرتے ہوئے حاصل ہو جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الاتقان فی علوم القرآن: (202/4، ط: الھیئۃ المصریۃ)
وقد قال أبو عبد الرحمن السلمي: حدثنا الذين كانوا يقرؤون القرآن كعثمان بن عفان وعبد الله بن مسعود وغيرهما أنهم كانوا إذا تعلموا من النبي صلى الله عليه وسلم عشر آيات لم يتجاوزوها حتى يعلموا ما فيها من العلم والعمل قالوا: فتعلمنا القرآن والعلم والعمل جميعا ولهذا كانوا يبقون مدة في حفظ السورة وقال أنس: كان الرجل إذا قرأ البقرة وآل عمران جد في أعيننا رواه أحمد في مسنده
وأقام ابن عمر على حفظ البقرة ثمان سنين أخرجه في الموطأ

و فیہ ایضاً: (210/4، ط: الھیئۃ المصریۃ)
وقال صلى الله عليه وسلم: "من تكلم في القرآن برأيه، فأصاب فقد أخطأ"، أخرجه أبو داود والترمذي والنسائي وقال: "من قال في القرآن بغير علم فليتبوأ مقعده من النار" أخرجه أبو داود

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 1110
Quran e Kareem ko khud samajhna chahiey ya kisi aalim say parhna chahiey, Karim, Quran-e-Kareem, padhna, Should Holy Quran be understood at own or is it necessary to read from some religious scholar?, read quran from some mufti, read quran from some aalim

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.