عنوان: قرضِ حسن پر دی ہوئی رقم کی زکوٰۃ (109421-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! کسی کو دیا گیا قرض حسنہ جو ابھی تک وصول نہیں ہوا، کیا وہ بھی نصاب میں جمع کر کے زکوٰۃ نکالی جائے گی؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب: اگر رقم قرض کے طور پر کسی کو دی ہوئی ہے، تو زکوۃ کی ادائیگی قرض دینے والے پر لازم ہے نہ کہ قرض لینے والے پر، البتہ زکوۃ کا ادا کرنا قرض وصول ہونے کے بعد لازم ہوگا، اور اگر قرض وصول ہونے سے پہلے زکوٰۃ ادا کر دی تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی، وصول ہونے کے بعد گزشتہ ادا کردہ زکوٰۃ دوبارہ دینا لازم نہیں ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

السنن الکبري للبیہقی: (باب زکوٰۃ الدین، رقم الحدیث: 7717، 69/6، ط: دار الفکر)

عن ابن عمر قال: زکوا ماکان فی ایدیکم ، فما کان من دین ثقۃ فزکوہ ، وماکان من دین ظنون فلا زکاۃ فیہ حتی یقضیہ صاحبہ.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 296
qarze hasan per / par de hui raqam ki zakat

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.