سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، محترم شیخ صاحب! گزارش ہے کہ براہِ کرم میرا پیغام پڑھ کر جواب عنایت فرمائیں، اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا ہے جس کے بارے میں میں شرعی رہنمائی حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ میں اپنے بستر پر لیٹی ہوئی ٹک ٹاک پر ویڈیوز دیکھ رہی تھی۔ مجھے نیند آنے لگی اور میں ایسی کیفیت میں تھی کہ نہ پوری طرح سوئی ہوئی تھی اور نہ مکمل طور پر بیدار تھی۔ اس حالت میں مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں اپنی والدہ سے بات کر رہی ہوں۔ میرے دائیں اور بائیں جانب دو اشخاص موجود تھے، جنہوں نے سفید لباس پہن رکھا تھا اور ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ان کے اردگرد نور ہو۔ میں ان کے چہروں کو واضح طور پر نہیں دیکھ پا رہی تھی، پھر میں نے اس خواب میں اپنی والدہ سے کہا: ’’میں آپ لوگوں کے ساتھ سفر پر جاؤں گی، لیکن واپس آپ لوگوں کے ساتھ نہیں آؤں گی، کیونکہ میں وہاں مرنا چاہتی ہوں۔‘‘
جب میری آنکھ کھلی تو مجھے ایک عجیب سا احساس ہوا اور میں بہت زیادہ خوف زدہ ہوگئی، حالانکہ اس واقعے سے پہلے میں موت کے بارے میں نہیں سوچ رہی تھی، اس کے بعد مجھے یاد آیا کہ تقریباً ایک ماہ بعد علاج کے لیے مجھے مراکش جانا ہے۔ اس بات سے میرا خوف مزید بڑھ گیا اور میں سوچنے لگی کہ کہیں اس خواب کا میرے سفر سے کوئی تعلق تو نہیں۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ میرے دائیں اور بائیں جانب موجود دونوں اشخاص کے چہرے جھریوں والے تھے اور ان میں سے ہر ایک کے پاس لوہے کی ایک چھڑی تھی۔
شیخ صاحب! براہِ کرم، اگر ممکن ہو تو قرآنِ کریم اور سنتِ نبویہ کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔
1) کیا اس خواب کی کوئی خاص شرعی تعبیر یا دلالت ہو سکتی ہے؟
2) کیا میرے لیے اس خواب سے یہ سمجھنا درست ہے کہ مراکش کے سفر کے دوران میرے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آئے گا یا میری موت کا وقت قریب آگیا ہے؟
3) کیا شرعی طور پر اس بات کی کوئی دلیل موجود ہے کہ خواب میں نظر آنے والے دونوں اشخاص یا ان کے پاس موجود لوہے کی چھڑیاں موت یا کسی خوف ناک واقعے کی علامت ہیں؟
4) سنتِ نبویہ کی روشنی میں مجھے اس خواب کے بارے میں کیا طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے؟
میں بہت زیادہ خوف زدہ ہوں اور خوف کی شدت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ مجھے سونے میں بھی دشواری پیش آ رہی ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اس خواب کا کوئی برا مطلب نہ ہو۔ مجھے آپ کی رہنمائی اور تسلی کی ضرورت ہے۔ براہِ کرم، جب بھی آپ کے لیے ممکن ہو، مجھے جواب عنایت فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو میری طرف سے بہترین جزائے خیر عطا فرمائے۔
جواب: ایک حدیث مبارکہ میں ہے:" اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں، پس جب کوئی اچھا خواب دیکھے تو اس کا ذکر صرف اسی سے کرے، جو اسے عزیز ہو اور جب برا خواب دیکھے تو اللہ کی اس خواب کے شر سے اور شیطان کے شر سے پناہ مانگے اور تین مرتبہ تھتکار دے اور اس کا کسی سے ذکر نہ کرے، پس وہ اسے ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا"۔ (صحیح بخاری، حدیث نمبر: 7044)
اس حدیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ برا خواب دیکھنے پر اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے اور اسے کسی سے بیان نہیں کرنا چاہیے، نیز برے خواب کی وجہ سے آپ کو پریشان نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات برے خواب کی تعبیر اچھی ہوتی ہے اور کبھی اچھے خواب کی تعبیر بری ہوتی ہے، لہٰذا محض کسی برے خواب کی وجہ سے زندگی کے معمولات اور ضروری معاملات ترک نہیں کرنے چاہیے، آپ کو چاہیے کہ اپنے علاج کے سلسلے میں مراکش کا سفر منسوخ نہ کریں، بلکہ اللہ تعالیٰ سے عافیت و حفاظت کی دعا کرتے ہوئے حسبِ استطاعت صدقہ کریں اور اپنے معمولات جاری رکھیں۔ اس تفصیل کے بعد آپ کے سوالات کے مختصر جوابات دیے جاتے ہیں:
(1) اس کی تعبیرات کی تلاش کے بجائے اعمال صالحہ کی طرف توجہ دیں اور اللہ تعالیٰ سے اس کے شر سے پناہ مانگیں۔
(2) اس خواب کی وجہ سے آپ مراکش کا سفر ترک نہ کریں۔
(3) چونکہ خواب حجت نہیں ہوتے، لہٰذا اس خواب میں نظر آنے والے دو افراد کو موت کی قطعی علامت سمجھنا درست نہیں۔
(4) مذکورہ بالا عبارت میں حدیث کی روشنی میں اس سوال کا جواب دیا جا چکا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*صحیح البخاری: (رقم الحدیث: 7044)*
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ، يَقُولُ : لَقَدْ كُنْتُ أَرَى الرُّؤْيَا فَتُمْرِضُنِي ، حَتَّى سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ يَقُولُ : وَأَنَا كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا تُمْرِضُنِي ، حَتَّى سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ مِنَ اللَّهِ ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلَا يُحَدِّثْ بِهِ إِلَّا مَنْ يُحِبُّ ، وَإِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ ، فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَلْيَتْفِلْ ثَلَاثًا وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا أَحَدًا ، فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ.
*سنن ابن ماجه: (رقم الحديث:3906)*
عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "الرؤيا ثلاث: فبشرى من الله، وحديث النفس، وتخويف من الشيطان، فإذا رأى أحدكم رؤيا تعجبه فليقصها إن شاء، وإن رأى شيئا يكرهه، فلا يقصه على أحد، وليقم يصلي.
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی