ماہ صفر کے فضائل، مسائل اور رسومات و منکرات
(دارالافتاء الاخلاص)

ماہ صفر اسلامی سال کا دوسرا قمری مہینہ ہے۔

صفر کی وجہ تسمیہ:

1۔ صفر کے لغوی معنی ''خالی ہونے'' کے آتے ہیں، چونکہ اس مہینے میں عرب کے لوگ مختلف مقامات سے اناج اکٹھا کرنے کے لیے گھروں سے نکلتے تھے، جس کی وجہ سے ان کے گھر خالی ہوجاتے تھے، اس لیے اس مہینے کو "صفر" کہتے تھے۔(۱)
2۔ صفر کا ایک معنی "پیلا اور زرد" ہونے کے آتے ہیں، جب ابتداء میں اس مہینے کا نام رکھا گیا، تو اس وقت موسمِ خزاں تھا، اور درختوں کے پتے زرد ہوجاتے تھے، اس وجہ سے اس مہینے کا نام "صفر" رکھا گیا۔(۲)
3۔ اہل ِعرب اشھر حرم (حرمت والے مہینے) کا احترام کرتے تھے، ان میں لوٹ مار، قتل وغارت کو حرام سمجھتے تھے، جب محرم کا مہینہ ختم ہوجاتا تھا، تو اہل ِعرب صفر کا مہینہ شروع ہوتے ہی جنگ کے لیے چلے جاتے، اور گھروں کو ''خالی'' چھوڑ دیتے تھے۔(۳)
اس مناسبت سے اس مہینے کو "صفر" کہا گیا ہے۔

صفر کے ساتھ لفظ "المظفر" یا "الخیر" کا اضافہ کرنا:

بعض لوگ صفر کے مہینے کے ساتھ ''المظفر'' یا ''الخیر'' کا اضافہ کرتے ہیں، اور اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ''مظفر'' کے معنی کامیابی، اور ''خیر'' کے معنی نیکی، سلامتی اور برکت کے ہیں، چونکہ زمانہ جاہلیت میں عرب کے لوگ صفر کے مہینے کو منحوس اور بُرا سمجھتے تھے اور اس مہینے کے متعلق یہ خیال رکھتے تھے کہ اس مہینے میں آفات ومصائب نازل ہوتی ہیں، اور آج بھی بعض لوگ اس مہینے کو منحوس سمجھتے ہیں، اس لیے اس مہینے کو ''صفر المظفر'' یا ''صفر الخیر'' کہتے ہیں، تاکہ اسے نحوست والا مہینہ نہ سمجھا جائے، بلکہ کامیابی اور خیر کا مہینہ سمجھا جائے۔
واضح رہے کہ اس مہینے کے ساتھ ''المظفر'' یا ''الخیر'' کا اضافہ کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
عام طور پر لوگ صفر کو ''صفر الخیر'' کہتے ہیں، بظاہر اس نام سے ان لوگوں کے غلط عقیدہ کی تردید مقصود ہوتی ہے، جو اس مہینے کو منحوس سمجھتے ہیں، یا پھر وہ لوگ صفر کو منحوس سمجھتے ہوئے، اس کے شر کو کم کرنے کے لیے نیک فال کے طور پر ''صفر الخیر'' کہہ دیتے ہیں،لہذا صفر کے ساتھ ''الخیر '' یا'' المظفر '' کا لاحقہ لگانے کو اس مہینہ کے نام کا لازمی حصہ نہیں سمجھنا چاہئے، تاہم لازمی حصہ یا احادیث سے ثابت شدہ سمجھے بغیر ''صفر المظفر'' یا ''صفر الخیر'' کہنے کی گنجائش ہے۔(۴)

صفر کے متعلق دور حاضر کی توہّم پرستیاں:

زمانہ جاہلیت سے لوگ صفر کے مہینے کے متعلق مختلف قسم کے توہمات کا شکار ہیں(۵)، اور آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی بہت سے مسلمان ماہ صفر کے بارے میں بڑی بد عقیدگی کا شکار ہیں، اور ان کے ذہنوں میں مختلف خیالات جمے ہوئے ہیں، اور جیسے ہی یہ مہینہ شروع ہوتا ہے، نادانوں کی جانب سے اس مہینے سے متعلق طرح طرح کی غلط فہمیوں پر مشتمل پیغامات پھیلائے جاتے ہیں، ان باطل نظریات و خیالات میں سے چند درج ذیل ہیں:

1۔ صفر کے مہینے کو منحوس سمجھنا:

آج کل مسلمانوں میں بھی اسلامی تعلیمات کی کمی کی وجہ سے تو ہم پرستی بہت زیادہ ذہنوں میں راسخ ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے لوگ صفر کے مہینے کو منحوس سمجھتے ہیں۔

بخاری شریف میں ہے:
"عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عن قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لا عدویٰ، ولا ھامۃ، ولا صفر۔۔۔۔۔۔الخ(۶)
(رواہ البخاری)
ترجمہ:
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوت چھات (بیماری کا دوسرے سے لگنے کا وہم)اور اُلو (کو منحوس سمجھنے)اور صفر (کے مہینہ کو منحوس سمجھنے) کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے واضح انداز میں تو ہم پرستی، چھوت چھات اور صفر کے مہینے کو منحوس سمجھنے کی نفی فرمائی ہے، لہذا کسی وقت اور زمانے میں کوئی نحوست اور برائی نہیں ہے۔

بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے:

عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’قال اللہ عز وجل: یؤذینی ابن آدم یسب الدہر، وأنا الدہر بیدی الأمر، أقلب اللیل والنہار‘‘( رواہ البخاری ومسلم) (۷)
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، زمانے کو برا بھلا کہتا ہے، حالانکہ میں ہی زمانہ کا پیدا کرنے والا ہوں، میرے ہی ہاتھ میں تمام کام ہیں، میں جس طرح چاہتا ہوں رات اور دن کو پھیرتا رہتا ہوں۔
لہذا پتہ چلا کہ نحوست کی اصل وجہ زمانہ وغیرہ نہیں ہے، نہ کوئی دن منحوس ہے اور نہ کوئی مہینہ، بلکہ نحوست کی اصل وجہ انسان کے اپنے برے اعمال ہیں، جیسا کہ سورۃ الشوریٰ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’ومااصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ‘‘۔الآیۃ
(سورۃ الشوریٰ:30)
ترجمہ:
جو مصیبت بھی تم پر پڑتی ہے، وہ تمہارے کئے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہوتی ہے۔

بدشگونی سے بچنے کی دعا:

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: أَحْمَدُ: الْقُرَشِيُّ، قَالَ: ذُكِرَتِ الطِّيَرَةُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَحْسَنُهَا الْفَأْلُ وَلَا تَرُدُّ مُسْلِمًا، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ لَا يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ۔ (رواہ ابوداؤد) (۸)

ترجمہ:

سیدنا عروۃ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں بدشگونی کا ذکر کیا گیا، توآپ نے ارشاد فرمایا: اچھا شگون، فالِ نیک ہے اور بد شگونی کسی مسلمان کے کام میں رکاوٹ نہیں بنتی، پس جب تم میں سے کوئی ایسی چیز دیکھے، جس کو وہ ناپسند کرتا ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ یہ دعاء پڑھے:

اللَّهُمَّ لاَ يَأْتِى بِالْحَسَنَاتِ إِلاَّ أَنْتَ وَلاَ يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلاَّ أَنْتَ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّبِاللّه۔
ترجمہ:

اے اللہ ہرقسم کی بھلائیوں کو لانے والا تو ہی ہے، اور تمام قسم کی برائیوں کودفع کرنے والابھی تو ہی ہے ، نہ برائی سے بچنے کی کوئی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی کوئی قوت ہے، مگر اللہ ہی کی مدد سے ۔

2۔کیا ماہ صفر کے ابتدائی تیرہ دن سخت ہیں؟

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ماہ صفر کے ابتدائی تیرہ دن نہایت منحوس، سخت اور برے ہیں اور ان دنوں کو "تیرہ تیزی" کہتے ہیں، تیزی کہا جاتا ہے۔
اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ان دنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت بیمار ہوگئے تھے، یہ بیماری اس مہینہ کی نحوست کے سبب تھی۔

تیرہ تیزی کے عقیدے کی شرعی حیثیت:

تیرہ تیزی کے عقیدے کی بنیاد اس بات پر ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفر کے شروع میں تیرہ دن بیمار رہے، اب سوال یہ ہے کہ
کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفرکے ابتدائی تیرہ دن بیمار رہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الوفات میں تیرہ دن تو بیمار رہے، مگر یہ تیرہ دن کون سے تھے؟
اس بارے میں دو اقوال ہیں:
( ۱) ایک یہ کہ صفر کے آخری اور ربیع الاول کے شروع میں بیمار ہوکر وفات پاگئے۔
( ۲ )دوسرا قول یہ ہے کہ آپ ربیع الاول ہی کے شروع میں بیمار ہوکر وفات پاگئے۔
ان دونوں اقوال سے واضح ہوتا ہے کہ تاریخی اعتبار سے یہ بات صحیح نہیں ہے کہ آپ صفر کے شروع میں تیرہ دن بیمار رہے؛ بلکہ صحیح یہ ہے کہ آپ کی بیماری صفر کے آخری دنوں میں شروع ہوئی، اور ربیع الاول میں جاکر ختم ہوئی۔
اب غور فرمائیے کہ جب تیرہ تیزی کی بدعت کی بنیاد ہی غلط ہوگئی، تو اس پر جو عقیدہ وعمل قائم کیا گیا ہے، وہ کیسے درست ہوسکتا ہے؟
لہذا یہ ایک باطل خیال ہے، جس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے۔(۹)

3۔ آفات اور جنات کا آسمان سے نزول:

بعض علاقوں میں مشہور ہے کہ اس مہینہ میں لنگڑے، لولے اور اندھے جنات آسمان سے اترتے ہیں، اور چلنے والوں کو کہتے ہیں کہ بسم اللہ پڑھ کر قدم رکھو! کہیں جنات کو تکلیف نہ ہو۔ بعض لوگ اس مہینہ میں صندوقوں، پیٹیوں اور در و دیوار کو ڈنڈے مارتے ہیں، تاکہ جنات بھاگ جائیں۔ یہ سب باتیں بھی بے بنیاد ہیں۔ اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔(۱۰)
ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے '' لا صفر'' (صفر کی کچھ حیثیت نہیں) فرما کر اس باطل خیال کی نفی فرمائی کہ اس ماہ میں بلائیں اور فتنے کثرت سے آتے ہیں۔(۱۱)

4۔ صفر میں شادی اور خوشی کی تقریبات منعقد نہ کرنا :

بعض لوگ صفر کے مہینے میں شادی بیاہ اور خوشی کی تقریبات منعقد نہیں کرتے، اور اعتقاد رکھتے ہیں کہ صفر میں کی ہوئی شادی صِفر (زیرو) اور ناکام ہوجاتی ہے، اور ربیع الاول کے مہینہ سے اپنی تقریبات شروع کر دیتے ہیں، اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ صفر کے مہینے کو نامبارک اور منحوس سمجھا جاتا ہے۔(۱۲)
؎
یہ خیال باطل اور توہم پرستی میں داخل ہے۔
حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جاہل عورتیں ذی قعدہ کو خالی کا چاند کہتی ہیں اور اس میں شادی کرنے کو منحوس سمجھتی ہیں، یہ اعتقاد بھی گناہ ہے، اس سے توبہ کرنی چاہیے، اسی طرح بعض جگہ تیرہ تاریخ صفر کے مہینے کو نامبارک سمجھتی ہیں۔ یہ سارے اعتقاد شرع کے خلاف اور گناہ ہیں، ان سے توبہ کرنی چاہیے۔ (۱۳)
واضح رہے کہ شریعت میں سال کے بارہ مہینوں اور دنوں میں کوئی مہینہ یا دن ایسا نہیں جس میں نکاح کی تقریب مکروہ اور ناپسندیدہ ہو یا اس میں نکاح منحوس اور شادی ناکام ہوجاتی ہو۔
زمانہ جاہلیت میں شوال کے مہینے میں نکاح کو پسند نہیں کیا جاتا تھا، اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے اس خیال کی تردید فرمائی، اور فرمایا: ''جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شوال میں شادی فرمائی، میری رخصتی بھی شوال میں ہوئی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں مجھ سے زیادہ خوش قسمت کون تھی؟"(۱۴)

امام نووی اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اہل عرب شوال میں نکاح کرنے کو یا شوال میں رخصتی کرا کر دلہن گھر لانے کو برا سمجھتے تھے، اور بدفالی لیتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کا مقصد اسی غلط خیال کی تردید ہے کہ اگر اس میں کوئی حقیقت ہوتی، تو تمام ازواج مطہرات میں سب سے زیادہ خوش نصیب میں کیوں کر ہوتی؟(۱۵)
اس خیال کے باطل ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نکاح ایک اہم عبادت ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء علیہم السلام کی سنت اور طریقہ ہے(۱۶)، نکاح کے ذریعہ سے آدمی بدنظری سے بچ جاتا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت ہوجاتی ہے(۱۷)، اور حدیث شریف میں ہے کہ ”بندہ نکاح کرکے اپنا آدھا دین محفوظ کر لیتا ہے‘‘۔ (۱۸)سوچنے کی بات ہے کہ جب نکاح اتنی اہم عبادت ہے، تو اس سے کیسے منع کیاجاسکتا ہے؟
لہذا اس مہینہ میں بھی نکاح کی عبادت کو انجام دینا چاہیے، تاکہ ایک باطل اور غلط عقیدہ کی تردید ہو، اور صفر میں نکاح کے جائز اور عبادت کے مٹ جانے کو زندہ کیا جاسکے۔

5۔ قرآن خوانی:

ماہ صفر کو منحوس سمجھنے کی وجہ سے بعض گھرانوں میں اجتماعی قرآن خوانی کا اس لیے اہتمام کروایا جاتا ہے، تاکہ اس مہینہ کی بلاؤں اور آفتوں سے حفاظت رہے۔ اول تو مروجہ طریقہ پر اجتماعی قرآن خوانی ہی محض ایک رسم بن کر رہ گئی ہے، اور اس میں کئی خرابیاں جمع ہوگئیں ہیں، دوسرے مذکورہ بالا نظریہ کی بنیاد پر قرآن خوانی کرنا اپنی ذات میں بھی جائز نہیں، کیونکہ مذکورہ نظریہ ہی شرعاً باطل ہے، کیونکہ شریعت نے واضح کردیا ہے کہ اس مہینے میں نہ کوئی نحوست ہے نہ کوئی بلا ہے اور نہ کوئی جنات کا آسمانوں سے نزول ہوتا ہے۔(۱۹)

6 ۔کاروبار کا آغاز نہ کرنا:

اس مہینے کی ایک بدعت یہ ہے کہ لوگ اس میں کاروبار کا افتتاح اور آغاز نہیں کرتے، اس لیے کہ اگر کاروبار شروع کر دیا تو وہ کاروبار کبھی بھی کامیاب نہیں ہوگا، اگر ہوگیا تو اس کاروبار میں فائدہ نہیں ہوگا، بلکہ نقصان ہی نقصان ہوگا۔ یہ عقیدہ بھی بالکل باطل ہے۔(۲۰)

7۔ صفر کا آخری بدھ :

ماہ صفر کے آخری بدھ سے متعلق بھی بہت باطل نظریات و خیالات ہمارے معاشرے میں پائے جاتے ہیں، اور یہ آخری بدھ ''سیربدھ '' کے نام سے مشہور ہے۔ بعض مرد اور عورتیں اِس دن سیر وتفریح کے لیے جاتے ہیں۔ بعض لوگ شرینی اور چُوری تقسیم کرتے ہیں، بعض علاقوں میں گھونگنیاں (پکے ہوئے چنے) تقسیم کرتے ہیں، عمدہ قسم کے کھانے پکانے کا اہتمام کرتے ہیں، اِس دن خوشی وتہوار مناتے ہیں، اور اس سب رسومات کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ صفر کے آخری بدھ کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیماری سے صحت یاب ہوئے اور آپ غسل صحت فرما کر سیر وتفریح کے لیے تشریف لے گئے تھے،
یہ تمام باتیں من گھڑت ہیں، اسلامی اعتبار سے ماہِ صفر کی آخری بدھ کی کوئی خاص اہمیت اَور اِس دن شریعت کی طرف سے کوئی خاص عمل مقرر نہیں ہے۔(۲۱)

ماہ صفر المظفر میں پاکستان کے بعض علاقوں میں چوری کی رسم:

پاکستان کے بعض علاقوں مثلاً صوبہ سرحد میں ماہ صفر کے آخری بدھ کو چوری بنائی جاتی ہے، اور اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحت یابی کی خوشی میں صفر کے آخری بدھ کو چوری بنائی تھی۔
واضح رہے کہ چوری بنانا نہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے، اور نہ آثار اور کتب فقہ سے، لہذا اس کو ثواب کی نیت سے بنانا بدعت سیئہ ہے اور رواج کی نیت سے بنانا رسم قبیحہ ہے، اور تاریخی روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ ماہ صفر کے آخری بدھ کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری بڑھ گئی تھی، اور یہودِ خیبر نے اس دن خوشیاں منائی اور دعوتیں تیار کی تھیں ، لہذا یہ طریقہ بدعت ہے، اس اجتناب کرنا چاہیے۔(۲۲)

صفر کی مخصوص نماز:

بعض لوگوں کاعقیدہ ہے کہ ماہ صفر کا آخری بدھ سال کا سب سے منحوس دن ہے، کیونکہ ہر سال ماہ صفر کی آخری بدھ کو تین لاکھ بیس ہزار بلائیں اترتی ہیں اوریہ سال کا سب سے خطرناک دن ہوتا ہےاس لئے وہ ان بلاؤں سے بچنےکے لئے ماہ صفر کی آخری بدھ کو چاشت کے وقت چار رکعات نفل نماز ایک سلام سے پڑھتے ہیں ،ہر رکعت میں ایک دفعہ سورۃ فاتحہ، سترہ مرتبہ سورہ کوثر، پندرہ مرتبہ سورۃ اخلاص اور ایک ایک بار معوذتین پڑھتے ہیں، ایسا ہی ہر رکعت میں کرتے ہیں ،پھر سلام پھیرتے ہیں اور سلام پھیرنے کے بعد (اللہ غا لب علی امرہ ولکن اکثر الناس لایعلمون) تین سوساٹھ مرتبہ اور جوھرۃ الکمال سے موسوم خود ساختہ درود تین مرتبہ پڑھ کر (سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین) پر اپنی دعا ختم کرتے ہیں، پھر فقیروں میں روٹی خیرات کرتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جو شخص مذکورہ طریقے پر نماز پڑھے گا اللہ تعالی اپنے فضل وکرم سے اسے اس دن اترنی والی ساری بلاؤں اور آفتوں سے محفوظ فرمائے گا اور۔ مذکورہ آیت پڑھنےکی برکت سےبھی ماہ صفر کی آخری بدھ کو اترنے والی بلائیں اور آفتیں ٹل جائیں گی۔(۲۳)
اسی طرح بعض لوگ کہتے ہیں کہ مذکورہ بالا طریقہ پر نفل پڑھنے کے بعد بسم اللہ پڑھ کر یہ دعا پڑھی جائے۔
"اللهم يا شديد القوة، ويا شديد المحال، يا عزيز، يا من ذلت لعزتك جميع خلقك. اكنفني من شر خلقك، يا محسن يا مجمل يا متفضل، يا منعم يا متكرم، يا من لا إله إلا أنت، ارحمني برحمتك يا أرحم الراحمين، اللهم بسر الحسن وأخيه وجده وأبيه وأمه وبنيه ، اكفني شر هذا اليوم وما ينزل فيه يا كافي المهمات ويا دافع البليات، فسيكفيكهم الله وهو السميع العليم، وصلى الله على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين"(۲۴)

اس قسم کی مخصوص طریقوں سے ادا کی جانے والی نمازوں کا حکم:

ان نمازوں کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں ہے، اس لیے ان نمازوں کا اس طرح سے التزام نہ کیا جائے، جس کو شریعت نے منع کیا ہو، کیونکہ ہر مباح کام کو اپنے اوپر لازم کرلینے سے شرعاً وہ مکروہ ہو جاتا ہے، اور ان نمازوں کے پڑھنے پر مخصوص ثواب کا اعتقاد بھی نہ رکھے۔ (۲۵)

ماہِ صفر کے آخری بدھ کو روزہ رکھنے کا شرعی حکم:

صفر کے آخری بدھ کو روزہ رکھنا بالکل غلط اور بے اصل ہے، اس (روزہ) کو خاص طور سے رکھنا اور اس پر ثواب کا عقیدہ رکھنا بدعت اور ناجائز ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہ رضوان اللہ علیہم سے کسی ایک ضعیف حدیث میں (بھی) اس کا ثبوت بالالتزام مروی نہیں اور یہی دلیل ہے اس کے بطلان و فساد اور بدعت ہونے کی؛ کیونکہ کوئی عبادت ایسی نہیں، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو تعلیم کرنے سے بخل کیا ہو۔ (۲۶)
ماہ صفر کے ختم ہونے کی بشارت دینے والی حدیث کا حکم:
”مَنْ بَشَّرَنِيْ بِخُرُوْجِ صَفَرَ، بَشَّرْتُہ بِالْجَنَّةِ “․
ترجمہ:
”جو شخص مجھے صفر کے مہینے کے ختم ہونے کی خوش خبری دے گا ،میں اُسے جنت کی خوش خبری دوں گا“۔
اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے صفر کے مہینے کو منحوس سمجھا جاتا ہے کہ چونکہ اس مہینہ میں نحوست تھی؛ اس لیے جناب رسول اللہ ﷺ نے اس مہینے کے صحیح سلامت گزرنے پر جنت کی خوش خبری دی ہے۔
یہ حدیث موضوع(من گھڑت) ہے، جناب رسول اللہ ﷺ کی طرف اس کی نسبت کرنا جائز نہیں ہے؛ چنانچہ ائمہ حدیث نے اس حدیث کے موضوع ہونے کو واضح کرتے ہوئے اس عقیدے کے باطل ہونے کو بیان کیا ہے، ان ائمہ میں امام رضی الدین صغانی ، امام محمدطاہرپٹنی ، ملا علی قاری، علامہ عجلونی اور علامہ شوکانی رحمہم اللہ وغیرہ شامل ہیں۔

چنانچہ امام رضی الدین صغانی لکھتے ہیں :

فَمن الْأَحَادِيث الْمَوْضُوعَة
موضوع احادیث میں سے بعض احادیث یہ ہیں۔۔۔ پھر اس کے تحت انہوں نے کئی موضوع روایتوں کو ذکر کیا ہے، اُنہیں میں سے ایک زیر بحث روایت بھی ہے۔(۲۷)
امام محمد طاہر پٹنی فرماتے ہیں :
یہ حدیث موضوع ہے۔(۲۸)
ملا علی القاري رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
)مَنْ بَشَّرَنِيْ بِخُرُوْجِ صَفَرَ، بَشَّرْتُہ بِالْجَنَّةِ( لَا أصْلَ لَہ“․(۲۹)
یعنی اس روایت کی کوئی اصل نہیں۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو ہر طرح کی بدعت، توہم پرستی، بدشگونی اور نحوست سے محفوظ رکھے اور سچا مومن بنائے۔
آمین

Print Views: 412

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com