ماہ صفر کے فضائل، مسائل اور رسومات و منکرات
(دارالافتاء الاخلاص)

ماہ صفر اسلامی سال کا دوسرا قمری مہینہ ہے۔

صفر کی وجہ تسمیہ:
1۔ صفر کے لغوی معنی ''خالی ہونے'' کے آتے ہیں، چونکہ اس مہینے میں عرب کے لوگ مختلف مقامات سے اناج اکٹھا کرنے کے لیے گھروں سے نکلتے تھے، جس کی وجہ سے ان کے گھر خالی ہوجاتے تھے، اس لیے اس مہینے کو "صفر" کہتے تھے۔(۱)
2۔ صفر کا ایک معنی "پیلا اور زرد" ہونے کے آتے ہیں، جب ابتداء میں اس مہینے کا نام رکھا گیا، تو اس وقت موسمِ خزاں تھا، اور درختوں کے پتے زرد ہوجاتے تھے، اس وجہ سے اس مہینے کا نام "صفر" رکھا گیا۔(۲)
3۔ اہل ِعرب اشھر حرم (حرمت والے مہینے) کا احترام کرتے تھے، ان میں لوٹ مار، قتل وغارت کو حرام سمجھتے تھے، جب محرم کا مہینہ ختم ہوجاتا تھا، تو اہل ِعرب صفر کا مہینہ شروع ہوتے ہی جنگ کے لیے چلے جاتے، اور گھروں کو ''خالی'' چھوڑ دیتے تھے۔(۳)
اس مناسبت سے اس مہینے کو "صفر" کہا گیا ہے۔

صفر کے ساتھ لفظ "المظفر" یا "الخیر" کا اضافہ کرنا:
بعض لوگ صفر کے مہینے کے ساتھ ''المظفر'' یا ''الخیر'' کا اضافہ کرتے ہیں، اور اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ''مظفر'' کے معنی کامیابی، اور ''خیر'' کے معنی نیکی، سلامتی اور برکت کے ہیں، چونکہ زمانہ جاہلیت میں عرب کے لوگ صفر کے مہینے کو منحوس اور بُرا سمجھتے تھے اور اس مہینے کے متعلق یہ خیال رکھتے تھے کہ اس مہینے میں آفات ومصائب نازل ہوتی ہیں، اور آج بھی بعض لوگ اس مہینے کو منحوس سمجھتے ہیں، اس لیے اس مہینے کو ''صفر المظفر'' یا ''صفر الخیر'' کہتے ہیں، تاکہ اسے نحوست والا مہینہ نہ سمجھا جائے، بلکہ کامیابی اور خیر کا مہینہ سمجھا جائے۔
واضح رہے کہ اس مہینے کے ساتھ ''المظفر'' یا ''الخیر'' کا اضافہ کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
عام طور پر لوگ صفر کو ''صفر الخیر'' کہتے ہیں، بظاہر اس نام سے ان لوگوں کے غلط عقیدہ کی تردید مقصود ہوتی ہے، جو اس مہینے کو منحوس سمجھتے ہیں، یا پھر وہ لوگ صفر کو منحوس سمجھتے ہوئے، اس کے شر کو کم کرنے کے لیے نیک فال کے طور پر ''صفر الخیر'' کہہ دیتے ہیں،لہذا صفر کے ساتھ ''الخیر '' یا'' المظفر '' کا لاحقہ لگانے کو اس مہینہ کے نام کا لازمی حصہ نہیں سمجھنا چاہئے، تاہم لازمی حصہ یا احادیث سے ثابت شدہ سمجھے بغیر ''صفر المظفر'' یا ''صفر الخیر'' کہنے کی گنجائش ہے۔(۴)

صفر کے متعلق دور حاضر کی توہّم پرستیاں:
زمانہ جاہلیت سے لوگ صفر کے مہینے کے متعلق مختلف قسم کے توہمات کا شکار ہیں(۵)، اور آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی بہت سے مسلمان ماہ صفر کے بارے میں بڑی بد عقیدگی کا شکار ہیں، اور ان کے ذہنوں میں مختلف خیالات جمے ہوئے ہیں، اور جیسے ہی یہ مہینہ شروع ہوتا ہے، نادانوں کی جانب سے اس مہینے سے متعلق طرح طرح کی غلط فہمیوں پر مشتمل پیغامات پھیلائے جاتے ہیں، ان باطل نظریات و خیالات میں سے چند درج ذیل ہیں:

صفر کے مہینے کو منحوس سمجھنا:
آج کل مسلمانوں میں بھی اسلامی تعلیمات کی کمی کی وجہ سے تو ہم پرستی بہت زیادہ ذہنوں میں راسخ ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے لوگ صفر کے مہینے کو منحوس سمجھتے ہیں۔
بخاری شریف میں ہے:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوت چھات (بیماری کا دوسرے سے لگنے کا وہم)اور اُلو (کو منحوس سمجھنے)اور صفر (کے مہینہ کو منحوس سمجھنے) کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ (۶)

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے واضح انداز میں تو ہم پرستی، چھوت چھات اور صفر کے مہینے کو منحوس سمجھنے کی نفی فرمائی ہے، لہذا کسی وقت اور زمانے میں کوئی نحوست اور برائی نہیں ہے۔
بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، زمانے کو برا بھلا کہتا ہے، حالانکہ میں ہی زمانہ کا پیدا کرنے والا ہوں، میرے ہی ہاتھ میں تمام کام ہیں، میں جس طرح چاہتا ہوں رات اور دن کو پھیرتا رہتا ہوں۔ (۷)

لہذا پتہ چلا کہ نحوست کی اصل وجہ زمانہ وغیرہ نہیں ہے، نہ کوئی دن منحوس ہے اور نہ کوئی مہینہ، بلکہ نحوست کی اصل وجہ انسان کے اپنے برے اعمال ہیں، جیسا کہ سورۃ الشوریٰ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
جو مصیبت بھی تم پر پڑتی ہے، وہ تمہارے کئے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہوتی ہے۔(سورۃ الشوریٰ:آیت نمبر:30)

بدشگونی سے بچنے کی دعا:
سیدنا عروۃ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں بدشگونی کا ذکر کیا گیا، توآپ نے ارشاد فرمایا: اچھا شگون، فالِ نیک ہے اور بد شگونی کسی مسلمان کے کام میں رکاوٹ نہیں بنتی، پس جب تم میں سے کوئی ایسی چیز دیکھے، جس کو وہ ناپسند کرتا ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ یہ دعاء پڑھے:
اللَّهُمَّ لاَ يَأْتِى بِالْحَسَنَاتِ إِلاَّ أَنْتَ وَلاَ يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلاَّ أَنْتَ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّبِاللّه۔
ترجمہ:
اے اللہ ہرقسم کی بھلائیوں کو لانے والا تو ہی ہے، اور تمام قسم کی برائیوں کودفع کرنے والابھی تو ہی ہے ، نہ برائی سے بچنے کی کوئی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی کوئی قوت ہے، مگر اللہ ہی کی مدد سے ۔(رواہ ابوداؤد) (۸)

کیا ماہ صفر کے ابتدائی تیرہ دن سخت ہیں؟
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ماہ صفر کے ابتدائی تیرہ دن نہایت منحوس، سخت اور برے ہیں اور ان دنوں کو "تیرہ تیزی" کہتے ہیں، تیزی کہا جاتا ہے۔
اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ان دنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت بیمار ہوگئے تھے، یہ بیماری اس مہینہ کی نحوست کے سبب تھی۔

تیرہ تیزی کے عقیدے کی شرعی حیثیت:
تیرہ تیزی کے عقیدے کی بنیاد اس بات پر ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفر کے شروع میں تیرہ دن بیمار رہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفرکے ابتدائی تیرہ دن بیمار رہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الوفات میں تیرہ دن تو بیمار رہے، مگر یہ تیرہ دن کون سے تھے؟
اس بارے میں دو اقوال ہیں:
( ۱) ایک یہ کہ صفر کے آخری اور ربیع الاول کے شروع میں بیمار ہوکر وفات پاگئے۔
( ۲ )دوسرا قول یہ ہے کہ آپ ربیع الاول ہی کے شروع میں بیمار ہوکر وفات پاگئے۔
ان دونوں اقوال سے واضح ہوتا ہے کہ تاریخی اعتبار سے یہ بات صحیح نہیں ہے کہ آپ صفر کے شروع میں تیرہ دن بیمار رہے؛ بلکہ صحیح یہ ہے کہ آپ کی بیماری صفر کے آخری دنوں میں شروع ہوئی، اور ربیع الاول میں جاکر ختم ہوئی۔
اب غور فرمائیے کہ جب تیرہ تیزی کی بدعت کی بنیاد ہی غلط ہوگئی، تو اس پر جو عقیدہ وعمل قائم کیا گیا ہے، وہ کیسے درست ہوسکتا ہے؟
لہذا یہ ایک باطل خیال ہے، جس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے۔(۹)

آفات اور جنات کا آسمان سے نزول:
بعض علاقوں میں مشہور ہے کہ اس مہینہ میں لنگڑے، لولے اور اندھے جنات آسمان سے اترتے ہیں، اور چلنے والوں کو کہتے ہیں کہ بسم اللہ پڑھ کر قدم رکھو! کہیں جنات کو تکلیف نہ ہو۔ بعض لوگ اس مہینہ میں صندوقوں، پیٹیوں اور در و دیوار کو ڈنڈے مارتے ہیں، تاکہ جنات بھاگ جائیں۔ یہ سب باتیں بھی بے بنیاد ہیں۔ اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔(۱۰)
ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے '' لا صفر'' (صفر کی کچھ حیثیت نہیں) فرما کر اس باطل خیال کی نفی فرمائی کہ اس ماہ میں بلائیں اور فتنے کثرت سے آتے ہیں۔(۱۱)

صفر میں شادی اور خوشی کی تقریبات منعقد نہ کرنا :
بعض لوگ صفر کے مہینے میں شادی بیاہ اور خوشی کی تقریبات منعقد نہیں کرتے، اور اعتقاد رکھتے ہیں کہ صفر میں کی ہوئی شادی صِفر (زیرو) اور ناکام ہوجاتی ہے، اور ربیع الاول کے مہینہ سے اپنی تقریبات شروع کر دیتے ہیں، اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ صفر کے مہینے کو نامبارک اور منحوس سمجھا جاتا ہے۔(۱۲)

یہ خیال باطل اور توہم پرستی میں داخل ہے۔
حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جاہل عورتیں ذی قعدہ کو خالی کا چاند کہتی ہیں اور اس میں شادی کرنے کو منحوس سمجھتی ہیں، یہ اعتقاد بھی گناہ ہے، اس سے توبہ کرنی چاہیے، اسی طرح بعض جگہ تیرہ تاریخ صفر کے مہینے کو نامبارک سمجھتی ہیں۔ یہ سارے اعتقاد شرع کے خلاف اور گناہ ہیں، ان سے توبہ کرنی چاہیے۔ (۱۳)
واضح رہے کہ شریعت میں سال کے بارہ مہینوں اور دنوں میں کوئی مہینہ یا دن ایسا نہیں جس میں نکاح کی تقریب مکروہ اور ناپسندیدہ ہو یا اس میں نکاح منحوس اور شادی ناکام ہوجاتی ہو۔
زمانہ جاہلیت میں شوال کے مہینے میں نکاح کو پسند نہیں کیا جاتا تھا، اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے اس خیال کی تردید فرمائی، اور فرمایا: ''جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شوال میں شادی فرمائی، میری رخصتی بھی شوال میں ہوئی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں مجھ سے زیادہ خوش قسمت کون تھی؟"(۱۴)

امام نووی اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اہل عرب شوال میں نکاح کرنے کو یا شوال میں رخصتی کرا کر دلہن گھر لانے کو برا سمجھتے تھے، اور بدفالی لیتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کا مقصد اسی غلط خیال کی تردید ہے کہ اگر اس میں کوئی حقیقت ہوتی، تو تمام ازواج مطہرات میں سب سے زیادہ خوش نصیب میں کیوں کر ہوتی؟(۱۵)
اس خیال کے باطل ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نکاح ایک اہم عبادت ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء علیہم السلام کی سنت اور طریقہ ہے(۱۶)، نکاح کے ذریعہ سے آدمی بدنظری سے بچ جاتا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت ہوجاتی ہے(۱۷)، اور حدیث شریف میں ہے کہ “بندہ نکاح کرکے اپنا آدھا دین محفوظ کر لیتا ہے‘‘۔ (۱۸)سوچنے کی بات ہے کہ جب نکاح اتنی اہم عبادت ہے، تو اس سے کیسے منع کیاجاسکتا ہے؟
لہذا اس مہینہ میں بھی نکاح کی عبادت کو انجام دینا چاہیے، تاکہ ایک باطل اور غلط عقیدہ کی تردید ہو، اور صفر میں نکاح کے جائز اور عبادت کے مٹ جانے کو زندہ کیا جاسکے۔

قرآن خوانی:
ماہ صفر کو منحوس سمجھنے کی وجہ سے بعض گھرانوں میں اجتماعی قرآن خوانی کا اس لیے اہتمام کروایا جاتا ہے، تاکہ اس مہینہ کی بلاؤں اور آفتوں سے حفاظت رہے۔ اول تو مروجہ طریقہ پر اجتماعی قرآن خوانی ہی محض ایک رسم بن کر رہ گئی ہے، اور اس میں کئی خرابیاں جمع ہوگئیں ہیں، دوسرے مذکورہ بالا نظریہ کی بنیاد پر قرآن خوانی کرنا اپنی ذات میں بھی جائز نہیں، کیونکہ مذکورہ نظریہ ہی شرعاً باطل ہے، کیونکہ شریعت نے واضح کردیا ہے کہ اس مہینے میں نہ کوئی نحوست ہے نہ کوئی بلا ہے اور نہ کوئی جنات کا آسمانوں سے نزول ہوتا ہے۔(۱۹)

6 ۔کاروبار کا آغاز نہ کرنا:
اس مہینے کی ایک بدعت یہ ہے کہ لوگ اس میں کاروبار کا افتتاح اور آغاز نہیں کرتے، اس لیے کہ اگر کاروبار شروع کر دیا تو وہ کاروبار کبھی بھی کامیاب نہیں ہوگا، اگر ہوگیا تو اس کاروبار میں فائدہ نہیں ہوگا، بلکہ نقصان ہی نقصان ہوگا۔ یہ عقیدہ بھی بالکل باطل ہے۔(۲۰)

صفر کا آخری بدھ :
ماہ صفر کے آخری بدھ سے متعلق بھی بہت باطل نظریات و خیالات ہمارے معاشرے میں پائے جاتے ہیں، اور یہ آخری بدھ ''سیربدھ '' کے نام سے مشہور ہے۔ بعض مرد اور عورتیں اِس دن سیر وتفریح کے لیے جاتے ہیں۔ بعض لوگ شرینی اور چُوری تقسیم کرتے ہیں، بعض علاقوں میں گھونگنیاں (پکے ہوئے چنے) تقسیم کرتے ہیں، عمدہ قسم کے کھانے پکانے کا اہتمام کرتے ہیں، اِس دن خوشی وتہوار مناتے ہیں، اور اس سب رسومات کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ صفر کے آخری بدھ کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیماری سے صحت یاب ہوئے اور آپ غسل صحت فرما کر سیر وتفریح کے لیے تشریف لے گئے تھے،یہ تمام باتیں من گھڑت ہیں، اسلامی اعتبار سے ماہِ صفر کی آخری بدھ کی کوئی خاص اہمیت اَور اِس دن شریعت کی طرف سے کوئی خاص عمل مقرر نہیں ہے۔(۲۱)

ماہ صفر المظفر میں پاکستان کے بعض علاقوں میں چوری کی رسم:
پاکستان کے بعض علاقوں مثلاً صوبہ سرحد میں ماہ صفر کے آخری بدھ کو چوری بنائی جاتی ہے، اور اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحت یابی کی خوشی میں صفر کے آخری بدھ کو چوری بنائی تھی۔
واضح رہے کہ چوری بنانا نہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے، اور نہ آثار اور کتب فقہ سے، لہذا اس کو ثواب کی نیت سے بنانا بدعت سیئہ ہے اور رواج کی نیت سے بنانا رسم قبیحہ ہے، اور تاریخی روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ ماہ صفر کے آخری بدھ کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری بڑھ گئی تھی، اور یہودِ خیبر نے اس دن خوشیاں منائی اور دعوتیں تیار کی تھیں ، لہذا یہ طریقہ بدعت ہے، اس اجتناب کرنا چاہیے۔(۲۲)

صفر کی مخصوص نماز:
بعض لوگوں کاعقیدہ ہے کہ ماہ صفر کا آخری بدھ سال کا سب سے منحوس دن ہے، کیونکہ ہر سال ماہ صفر کی آخری بدھ کو تین لاکھ بیس ہزار بلائیں اترتی ہیں اوریہ سال کا سب سے خطرناک دن ہوتا ہےاس لئے وہ ان بلاؤں سے بچنےکے لئے ماہ صفر کی آخری بدھ کو چاشت کے وقت چار رکعات نفل نماز ایک سلام سے پڑھتے ہیں ،ہر رکعت میں ایک دفعہ سورۃ فاتحہ، سترہ مرتبہ سورہ کوثر، پندرہ مرتبہ سورۃ اخلاص اور ایک ایک بار معوذتین پڑھتے ہیں، ایسا ہی ہر رکعت میں کرتے ہیں ،پھر سلام پھیرتے ہیں اور سلام پھیرنے کے بعد (اللہ غا لب علی امرہ ولکن اکثر الناس لایعلمون) تین سوساٹھ مرتبہ اور جوھرۃ الکمال سے موسوم خود ساختہ درود تین مرتبہ پڑھ کر (سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین) پر اپنی دعا ختم کرتے ہیں، پھر فقیروں میں روٹی خیرات کرتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جو شخص مذکورہ طریقے پر نماز پڑھے گا اللہ تعالی اپنے فضل وکرم سے اسے اس دن اترنی والی ساری بلاؤں اور آفتوں سے محفوظ فرمائے گا اور۔ مذکورہ آیت پڑھنےکی برکت سےبھی ماہ صفر کی آخری بدھ کو اترنے والی بلائیں اور آفتیں ٹل جائیں گی۔(۲۳)
اسی طرح بعض لوگ کہتے ہیں کہ مذکورہ بالا طریقہ پر نفل پڑھنے کے بعد بسم اللہ پڑھ کر یہ دعا پڑھی جائے۔
" اللهم يا شديد القوة، ويا شديد المحال، يا عزيز، يا من ذلت لعزتك جميع خلقك. اكنفني من شر خلقك، يا محسن يا مجمل يا متفضل، يا منعم يا متكرم، يا من لا إله إلا أنت، ارحمني برحمتك يا أرحم الراحمين، اللهم بسر الحسن وأخيه وجده وأبيه وأمه وبنيه ، اكفني شر هذا اليوم وما ينزل فيه يا كافي المهمات ويا دافع البليات، فسيكفيكهم الله وهو السميع العليم، وصلى الله على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين"(۲۴)

اس قسم کی مخصوص طریقوں سے ادا کی جانے والی نمازوں کا حکم:
ان نمازوں کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں ہے، اس لیے ان نمازوں کا اس طرح سے التزام نہ کیا جائے، جس کو شریعت نے منع کیا ہو، کیونکہ ہر مباح کام کو اپنے اوپر لازم کرلینے سے شرعاً وہ مکروہ ہو جاتا ہے، اور ان نمازوں کے پڑھنے پر مخصوص ثواب کا اعتقاد بھی نہ رکھے۔ (۲۵)

ماہِ صفر کے آخری بدھ کو روزہ رکھنے کا شرعی حکم:
صفر کے آخری بدھ کو روزہ رکھنا بالکل غلط اور بے اصل ہے، اس (روزہ) کو خاص طور سے رکھنا اور اس پر ثواب کا عقیدہ رکھنا بدعت اور ناجائز ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہ رضوان اللہ علیہم سے کسی ایک ضعیف حدیث میں (بھی) اس کا ثبوت بالالتزام مروی نہیں اور یہی دلیل ہے اس کے بطلان و فساد اور بدعت ہونے کی؛ کیونکہ کوئی عبادت ایسی نہیں، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو تعلیم کرنے سے بخل کیا ہو۔ (۲۶)
ماہ صفر کے ختم ہونے کی بشارت دینے والی حدیث کا حکم:
“جو شخص مجھے صفر کے مہینے کے ختم ہونے کی خوش خبری دے گا ،میں اُسے جنت کی خوش خبری دوں گا”۔
اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے صفر کے مہینے کو منحوس سمجھا جاتا ہے کہ چونکہ اس مہینہ میں نحوست تھی؛ اس لیے جناب رسول اللہ ﷺ نے اس مہینے کے صحیح سلامت گزرنے پر جنت کی خوش خبری دی ہے۔
یہ حدیث موضوع(من گھڑت) ہے، جناب رسول اللہ ﷺ کی طرف اس کی نسبت کرنا جائز نہیں ہے؛ چنانچہ ائمہ حدیث نے اس حدیث کے موضوع ہونے کو واضح کرتے ہوئے اس عقیدے کے باطل ہونے کو بیان کیا ہے، ان ائمہ میں امام رضی الدین صغانی ، امام محمدطاہرپٹنی ، ملا علی قاری، علامہ عجلونی اور علامہ شوکانی رحمہم اللہ وغیرہ شامل ہیں۔

چنانچہ امام رضی الدین صغانی لکھتے ہیں :موضوع احادیث میں سے بعض احادیث یہ ہیں۔۔۔ پھر اس کے تحت انہوں نے کئی موضوع روایتوں کو ذکر کیا ہے، اُنہیں میں سے ایک زیر بحث روایت بھی ہے۔(۲۷)
امام محمد طاہر پٹنی فرماتے ہیں :یہ حدیث موضوع ہے۔(۲۸)
ملا علی القاري رحمہ اللہ فرماتے ہیں:مَنْ بَشَّرَنِيْ بِخُرُوْجِ صَفَرَ، بَشَّرْتُہ بِالْجَنَّةِ( لَا أصْلَ لَہ)․(۲۹)
یعنی اس روایت کی کوئی اصل نہیں۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو ہر طرح کی بدعت، توہم پرستی، بدشگونی اور نحوست سے محفوظ رکھے اور سچا مومن بنائے۔
آمین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

(1) المحكم و المحيط الأعظم لابن سيده: (307/8، ط: دار الكتب العلمية، بيروت)
وصفر الشهر الذي بعد المحرم قال بعضهم إنما سمي صفرا لأنهم كانوا يمتارون الطعام فيه من المواضع وقال بعضهم سمي بذلك لإصفار مكة من أهلها إذا سافروا وروي عن رؤبة أنه قال سموا الشهر صفرا لأنهم كانوا يغزون فيه القبائل فيتركون من لقوا صفرا من المتاع وذلك أن صفرا بعد المحرم

(2) الإبانة في اللغة العربية للصُحاري: (751/4، ط: وزارة التراث القومي و الثقافة)
سمي صفرا لأنه كانت تصفر فيه الأشجار۔

(3) الإبانة في اللغة العربية للصُحاري: (751/4، ط: وزارة التراث القومي و الثقافة)
وقيل أيضا: إنهم يخرجون فيه إلى بلاد يقال لها الصفرية. وقيل: سمي صفرا لأنهم كانوا إذا خرج المحرم عنهم خرجوا في طلب الغارات، فتبقى المواضع صفرا لا أحد بها۔

مدة الكتاب لأبي جعفر النَّحَّاس: (ص98، ط: دار ابن حزم)
وسمي صفر لأنهم كانوا يخرجون فيه إلى المغارات، فتبقى بيوتهم صفرا، هذا أصح ما قيل فيه.

تفسیرابن كثير: (146/4، ط: دار طيبة للنشر)
صفر: سمي بذلك لخلو بيوتهم منه، حين يخرجون للقتال والأسفار، يقال: "صفر المكان": إذا خلا ويجمع على أصفار كجمل وأجمال

(4) مجموع فتاويٰ و رسائل للشيخ محمد بن صالح العثيمين: (114/2، ط: دار الوطن)
والأزمنة لا دخل لها في التأثير وفي تقدير الله عز وجل، فصفر كغيره من الأزمنة يقدر فيه الخير والشر، وبعض الناس إذا انتهى من شيء في صفر أرخ ذلك وقال: انتهى في صفر الخير، وهذا من باب مداواة البدعة ببدعة، والجهل بالجهل، فهو ليس شهر خير ولا شهر شر.

معجم المناهي اللفظية وفوائد في الألفاظ المؤلف لعلامۃ بكر بن عبد الله: (ص336، ط: دار العاصمة)
وقد شاع بين المسلمين أن يصفوا شهر صفر بقولهم: صفر الخير. فلا أدري: هل أرادوا به الرد على من يتشاءم به، أو أرادوا التفاؤل لتلطيف شره كما يقال للملدوغ: السليم؟ وأيا ما كان فذلك الوصف مؤذن بتأصل عقيدة التشاؤم بهذا الشهر عندهم.
وفیہ ایضا: وبعض يقول: ((صفر الخير)) تفاؤلا يرد ما يقع في نفسه من اعتقاد التشاؤم فيه. وهذه لوثة جاهلية من نفسه من نفس لم يصقلها التوحيد بنور(ص331)

(5) مرقاۃ المفاتیح لملاعلی القاری: (392/7، ط: دار الفکر)
(ولا صفر) قال شارح: كانت العرب يزعمون أنه حية في البطن، واللدغ الذي يجده الإنسان عند جوعه من عضه. قال أبو داود في سننه، قال بقية: سألت محمد بن راشد عنه؟ قال: كانوا يتشاءمون بدخول صفر، فقال النبي - صلى الله عليه وسلم: " «لا صفر» " قال: وسمعت من يقول: هو وجه يأخذ في البطن يزعمون أنه يعدي. قال أبو داود، وقال مالك: كان أهل الجاهلية يحلون صفرا عاما ويحرمونه عاما، فقال - صلى الله عليه وسلم: " «لا صفر» ".
قال النووي، قيل: كانت العرب تعتقد أن في البطن دابة تهيج عند الجوع، وربما قتلت صاحبها، وكانت العرب تراها أعدى من الحرب، وهذا التفسير هو الصحيح، وبه قال مطرف، وابن عبيد وغيرهما، وقد ذكره مسلم عن جابر بن عبد الله راوي الحديث، فتعين اعتماده. قلت: الأظهر الجمع بين المعاني، فإنها كلها باطلة كما سبق نظيره. قال القاضي: ويحتمل أن يكون نفيا لما يتوهم أن شهر صفر تكثر فيه الدواهي والفتن

(6 ) صحیح البخاري: (بابُ لاَ صَفَرَ، وَهْوَ دَاءٌ يَأْخُذُ الْبَطْن، رقم الحدیث: 5717)
عن ابن شهاب ، قال : اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن وغيره ، ان ابا هريرة رضي الله عنه ، قال : إن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قال : لا عدوى ولا صفر ، ولا هامة۔

(7) صحیح البخاري: (رقم الحدیث: 7491) صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 5863)
عن ابي هريرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " قال الله عز وجل: يؤذيني ابن آدم، يسب الدهر وانا الدهر، اقلب الليل والنهار

(8) سنن ابي داود: (باب فِي الطِّيَرَةِ، رقم الحدیث: 3919)
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: أَحْمَدُ: الْقُرَشِيُّ، قَالَ: ذُكِرَتِ الطِّيَرَةُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَحْسَنُهَا الْفَأْلُ وَلَا تَرُدُّ مُسْلِمًا، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ لَا يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ

(9) جواہر شریعت مجموعة رسائل: (397/2، ط: مكتبة مسیح الامت، دیوبند)

(10) فتاويٰ حقانیة: (227/1، ط: دار العلوم حقانیة)

(11) مرقاۃ المفاتیح لملا علی القاري: (392/7، ط: دار الفکر)
قَالَ الْقَاضِي: وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ نَفْيًا لِمَا يُتَوَهَّمُ أَنَّ شَهْرَ صَفَرَ تَكْثُرُ فِيهِ الدَّوَاهِي وَالْفِتَنُ.

عمدۃ القاري لعلامة بدر الدين العيني: (2/9، ط: دار إحياء التراث العربي)
وَكَانُوا يَتَطَيَّرُونَ بِهِ وَيَقُولُونَ: (إِن الْأُمُور فِيهِ منغلقة، والآفات فِيهِ وَاقعَة.

(12) الهندية: (38/5، ط: دار الفکر)
سَأَلْته فِي جَمَاعَةٍ لَا يُسَافِرُونَ فِي صَفَرٍ وَلَا يَبْدَؤُنَ بِالْأَعْمَالِ فِيهِ مِنْ النِّكَاحِ وَالدُّخُولِ وَيَتَمَسَّكُونَ بِمَا رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - «مَنْ بَشَّرَنِي بِخُرُوجِ صَفَرٍ بَشَّرْته بِالْجَنَّةِ» هَلْ يَصِحُّ هَذَا الْخَبَرُ؟ وَهَلْ فِيهِ نُحُوسَةٌ وَنَهْيٌ عَنْ الْعَمَلِ؟ وَكَذَا لَا يُسَافِرُونَ إذَا كَانَ الْقَمَرُ فِي بُرْجِ الْعَقْرَبِ وَكَذَا لَا يَخِيطُونَ الثِّيَابَ وَلَا يَقْطَعُونَهُمْ إذَا كَانَ الْقَمَرُ فِي بُرْجِ الْأَسَدِ هَلْ الْأَمْرُ كَمَا زَعَمُوا قَالَ أَمَّا مَا يَقُولُونَ فِي حَقِّ صَفَرٍ فَذَلِكَ شَيْءٌ كَانَتْ الْعَرَبُ يَقُولُونَهُ وَأَمَّا مَا يَقُولُونَ فِي الْقَمَرِ فِي الْعَقْرَبِ أَوْ فِي الْأَسَدِ فَإِنَّهُ شَيْءٌ يَذْكُرُهُ أَهْلُ النُّجُومِ لِتَنْفِيذِ مَقَالَتِهِمْ يَنْسِبُونَ إلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ كَذِبٌ مَحْضٌ كَذَا فِي جَوَاهِرِ الْفَتَاوَيٰ.

(مجموع فتاويٰ العلامة عبد العزيز بن باز رحمه الله: (357/28)
س: يتردد كثيرا أن شهر صفر شهر شؤم يتشاءم منه بعض العوام في كثير من الأمور، فلا يعقد فيه النكاح على سبيل المثال، وأيضا فإنه في مجلس عقد النكاح يعتقد البعض أنه لا يجوز كسر العود أو عقد الحبال أو تشبيك الأصابع؛ حيث إن هذا يؤدي إلى فشل هذا الزواج وعدم التوفيق بين الزوجين.
وبما أن هذا يمس العقيدة فنرجو النصح وبيان الحكم الشرعي. وفق الله الجميع لما يحبه ويرضاه.
ج: التشاؤم بصفر من أمر الجاهلية، ولا يجوز ذلك،بل هو كسائر الشهور ليس عنده خير ولا شر، وإنما الخير من الله سبحانه، والشر بتقديره، وقد صح عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه أبطل ذلك فقال: «لا عدوى، ولا طيرة، ولا هامة، ولا صفر » متفق على صحته.
وهكذا التشاؤم بتشبيك الأصابع أو كسر العود أو نحو ذلك عند عقد الزواج أمر لا أصل له، ولا يجوز اعتقاده، بل هو باطل. وفق الله الجميع۔

فتاويٰ اللجنة الدائمة: (258/1، ط: ریاسة إدارة البحوث العلمية و الإفتاء)
س: لقد سمعنا أن هناك اعتقادات تفيد أن شهر صفر لا يجوز فيه الزواج والختان وما أشبه ذلك، نرجو إفادتنا في ذلك حسب الشرع الإسلامي والله يحفظكم.
ج: ما ذكر من عدم التزوج أو الختان ونحو ذلك في شهر صفر نوع من التشاؤم من هذا الشهر، والتشاؤم من الشهور أو الأيام أو الطيور ونحوها من الحيوانات لا يجوز؛ لما رواه البخاري ومسلم عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا عدوى ولا طيرة ولا هامة ولا صفر » والتشاؤم بشهر صفر من جنس الطيرة المنهي عنها، وهو من عمل الجاهلية وقد أبطله الإسلام.

مجموع فتاويٰ و رسائل للشيخ محمد بن صالح العثيمين: (562/9، ط: دار الوطن)
(قوله): ولا صفر) . قيل: إنه شهر صفر، كانت العرب يتشاءمون به ولا سيما في النكاح.

(13) اسلامي شادي، لتھانوي: (ص14، ط: مکتبة الحسن)

(14) صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 3482)
عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ، وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ، فَأَيُّ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحْظَى عَنْدَهُ مِنِّي "، قَالَ: وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شَوَّالٍ۔

(15) شرح النووي علی صحيح مسلم: (209/9، ط: دار إحياء التراث العربي)
وَقَصَدَتْ عَائِشَةُ بِهَذَا الْكَلَامِ رَدَّ مَا كَانَتِ الْجَاهِلِيَّةُ عَلَيْهِ وَمَا يَتَخَيَّلُهُ بَعْضُ الْعَوَامِّ الْيَوْمَ مِنْ كَرَاهَةِ التَّزَوُّجِ وَالتَّزْوِيجِ وَالدُّخُولِ فِي شَوَّالٍ وَهَذَا بَاطِلٌ لَا أَصْلَ لَهُ وَهُوَ مِنْ آثَارِ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَتَطَيَّرُونَ بِذَلِكَ لِمَا فِي اسْمِ شَوَّالٍ مِنَ الْإِشَالَةِ والرفع۔

(16) سنن الترمذي: (رقم الحدیث: 1080)
عن ابي ايوب، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اربع من سنن المرسلين: الحياء، والتعطر، والسواك، والنكاح۔

(17) سنن الترمذي: (رقم الحدیث: 1081)
عن عبد الله بن مسعود، قال: خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم ونحن شباب لا نقدر على شيء، فقال: " يا معشر الشباب، عليكم بالباءة فإنه اغض للبصر واحصن للفرج، فمن لم يستطع منكم الباءة فعليه بالصوم، فإن الصوم له وجاء"

صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 1746)
عن عائشة ، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" النكاح من سنتي، فمن لم يعمل بسنتي فليس مني، وتزوجوا فإني مكاثر بكم الامم، ومن كان ذا طول فلينكح، ومن لم يجد فعليه بالصيام، فإن الصوم له وجاء۔

(18) المعجم الأوسط للطبراني: (335/8، ط: دار الحرمين)
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَزَوَّجَ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ نِصْفَ الْإِيمَانِ، فَلْيَتَّقِ اللَّهَ فِي النِّصْفِ الْبَاقِي۔

(19) الاعتصام للشاطبي: (389/1، ط: دار ابن عفان، السعودية)
[فَصْلٌ مِنَ الْبِدَعِ الْإِضَافِيَّةِ إِخْرَاجُ الْعِبَادَةِ عَنْ حَدِّهَا الشَّرْعِيِّ] إِذَا ثَبَتَ هَذَا؛ فَالدُّخُولُ فِي عَمَلٍ عَلَى نِيَّةِ الِالْتِزَامِ لَهُ، إِذَا ثَبَتَ هَذَا، فَالدُّخُولُ فِي عَمَلٍ عَلَى نِيَّةِ الِالْتِزَامِ لَهُ إِنْ كَانَ فِي الْمُعْتَادِ، بِحَيْثُ إِذَا دَاوَمَ عَلَيْهِ؛ أَوْرَثَ مَلَلًا، يَنْبَغِي أَنْ يُعْتَقَدَ أَنَّ هَذَا الِالْتِزَامَ مَكْرُوهٌ ابْتِدَاءً، إِذْ هُوَ مُؤَدٍّ إِلَى أُمُورِ جَمِيعُهَا مَنْهِيٌّ عَنْهُ:
أَحَدُهَا: أَنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أَهْدَى فِي هَذَا الدِّينِ التَّسْهِيلَ وَالتَّيْسِيرَ، وَهَذَا الْمُلْتَزِمَ يُشْبِهُ مَنْ لَمْ يَقْبَلْ هَدِيَّتَهُ، وَذَلِكَ يُضَاهِي رَدَّهَا عَلَى مُهْدِيهَا، وَهُوَ غَيْرُ لَائِقٍ بِالْمَمْلُوكِ مَعَ سَيِّدِهِ، فَكَيْفَ يَلِيقُ بِالْعَبْدِ مَعَ رَبِّهِ؟ ۔۔۔۔۔وَالْخَامِسُ): الْخَوْفُ مِنَ الدُّخُولِ تَحْتَ الْغُلُوِّ فِي الدِّينِ؛ فَإِنَّ الْغُلُوَّ هُوَ الْمُبَالَغَةُ فِي الْأَمْرِ، وَمُجَاوَزَةُ الْحَدِّ فِيهِ إِلَى حَيِّزِ الْإِسْرَافِ۔

الاعتصام للشاطبي: (391/1، ط: دار ابن عفان، السعودية)
وَمِنَ الْبِدَعِ الْإِضَافِيَّةِ الَّتِي تَقْرُبُ مِنَ الْحَقِيقِيَّةِ: أَنْ يَكُونَ أَصْلُ الْعِبَادَةِمَشْرُوعًا؛ إِلَّا أَنَّهَا تُخْرَجُ عَنْ أَصْلِ شَرْعِيَّتِهَا بِغَيْرِ دَلِيلٍ تَوَهُّمًا أَنَّهَا بَاقِيَةٌ عَلَى أَصْلِهَا تَحْتَ مُقْتَضَى الدَّلِيلِ، وَذَلِكَ بِأَنْ يُقَيَّدَ إِطْلَاقُهَا بِالرَّأْيِ، أَوْ يُطْلَقَ تَقْيِيدُهَا، وَبِالْجُمْلَةِ؛ فَتَخْرُجُ عَنْ حَدِّهَا الَّذِي حُدَّ لَهَا.۔۔۔۔ وَمِنْ ذَلِكَ قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ بِهَيْئَةِ الِاجْتِمَاعِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فِي الْمَسْجِدِ لِلدُّعَاءِ تَشَبُّهًا بِأَهْلِ عَرَفَةَ.

نفع المفتي و السائل: (ص: 134)

فتاويٰ رحیمیة: (203/2، ط: دار الا شاعت) احسن الفتاويٰ: (361/1، ط: سعید)
ان ختم القرآن بالجماعۃ جہرا ویسمی بالفارسیۃ سیپارہ خواندن مکروہ

(20) الهندية: (38/5، ط: دار الفکر)
سَأَلْته فِي جَمَاعَةٍ لَا يُسَافِرُونَ فِي صَفَرٍ وَلَا يَبْدَؤُنَ بِالْأَعْمَالِ فِيهِ مِنْ النِّكَاحِ وَالدُّخُولِ وَيَتَمَسَّكُونَ بِمَا رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - «مَنْ بَشَّرَنِي بِخُرُوجِ صَفَرٍ بَشَّرْته بِالْجَنَّةِ» هَلْ يَصِحُّ هَذَا الْخَبَرُ؟ وَهَلْ فِيهِ نُحُوسَةٌ وَنَهْيٌ عَنْ الْعَمَلِ؟ وَكَذَا لَا يُسَافِرُونَ إذَا كَانَ الْقَمَرُ فِي بُرْجِ الْعَقْرَبِ وَكَذَا لَا يَخِيطُونَ الثِّيَابَ وَلَا يَقْطَعُونَهُمْ إذَا كَانَ الْقَمَرُ فِي بُرْجِ الْأَسَدِ هَلْ الْأَمْرُ كَمَا زَعَمُوا قَالَ أَمَّا مَا يَقُولُونَ فِي حَقِّ صَفَرٍ فَذَلِكَ شَيْءٌ كَانَتْ الْعَرَبُ يَقُولُونَهُ وَأَمَّا مَا يَقُولُونَ فِي الْقَمَرِ فِي الْعَقْرَبِ أَوْ فِي الْأَسَدِ فَإِنَّهُ شَيْءٌ يَذْكُرُهُ أَهْلُ النُّجُومِ لِتَنْفِيذِ مَقَالَتِهِمْ يَنْسِبُونَ إلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ كَذِبٌ مَحْضٌ كَذَا فِي جَوَاهِرِ الْفَتَاوَيٰ.

(21) فتاويٰ الشبكة الإسلامية: (3595/1)
فالتشاؤم بيوم الأربعاء وبشهر صفر هو من الأمور التي كانت معروفة عند أهل الجاهلية فأبطلها الإسلام وجعلها من الشرك، كما تقدم في الفتوى رقم: 25680.فالأمور كلها بيد الله تعالى فلا تأثير ليوم من الأيام في جلب نعمة أو بلاء أو دفعها، قال الباجي في المنتقى: فالأيام لا تأثير لها في شؤم ولا سعادة. وفي العتبية: سئل مالك عن الحجامة والاطلاء يوم السبت ويوم الأربعاء؟ فقال: لا بأس بذلك وليس يوم إلا وقد احتجمت فيه ولا أكره شيئاً من هذا حجامة ولا اطلاء ولا نكاحاً ولا سفراً في شيء من الأيام من الخروج والسفر.

الاعتداء في الدعاء لسعود العقيلي: (ص102، ط: دار كنوز اشبيليا)
فكثير من الجهال يتشائم بصفر وقد قال بعض الجهال: ذكر بعض العارفين أنه ينزل في كل سن ثلاثمائة وعشرون ألفا من البليات، وكل ذلك يوم الأربعاء الأخير من صفر فيكون ذلك اليوم أصعب أيام السنة۔۔۔۔۔۔والتشاؤم من الاعتقادات الجاهلية التي ا نتشرت وللأسف الشديد بين كثير من جهال المسلمين نتيجة جهلهم بالدين عموما وضعف عقيدة التوحيد خصوصا.والتشاؤم مما ينافي تحقيق التوحيد وتحقيق التوحيد فيه ما يكون واجبا ومنه ما يكون مندوبا، فالواجب تخليصه وتصفيته عن الشرك والبدع والمعاصي. فلا يكون العبد محققا التوحيد حتى يسلم من الشرك بنوعيه ويسلم من البدع والمعاصي.

موجز دائرة المعارف الإسلامية: (6/1، ط: مركز الشارقة للإبداع الفكري)
وآخر جهار شنبه هو يوم الأربعاء الأخير من شهر صفر. ويحتفل المسلمون فى الهند بهذا اليوم لأن النبى إبان مرضه الأخير خفت آلامه فيه بعض الشئ على ما يقال. ومع ذلك فالهنود من الشيعة يتشاءمون به ويطلقون عليه "جهار شنبه سور" ومعناها يوم الأربعاء الذى تصدر فيه آخر نفخة فى الصور يوم الحشر. ومن أجل هذا اليوم تخبز الفطائر وتقرأ الفاتحة عليها عدة مرات للنبى، وثم عادة أخرى هى شرب التسليمات السبع أى الآيات القرآنية السبع (الآية 58 من سورة يس؛ الآية 77 من سورة الصافات، الآية 109 من سورة الصافات، الآية 120 من الصافات، الآية 130 من الصافات الآية 73 من سورة الزمر، الآية 5 من سورة القدر). ويكتب هذه الآيات "مُلا" على ورق الموز أو المانجو أو على صحيفة من الورق ثم تغسل الكتابة ولما يجف المداد، فمن يشرب من الماء الذى غسلت به يتحقق له هدوء۔

فتاويٰ محمودیة: (278/3، ط: ادارۃ الفاروق) کفایت المفتي: (302/2، ط: ادارۃ الفاروق) فتاويٰ رحیمیة: (69/2، ط: دار الا شاعت) فتاويٰ حقانیة: (85/2، ط: دارالعلوم حقانیة) فتاويٰ قاسمیة: (596/1، ط: مکتبة اشرفیة دیوبند)

(22) فتاويٰ حقانیة: (46/2، ط: دارالعلوم حقانیة) فتاويٰ فریدیة: (296/1، 297، 298، ط: دارالعلوم صدیقیة، زروبی)

(23) حكم نافلة يوم الأربعاء من آخر شهر صفر، السؤال الرابع من الفتويٰ: (رقم: 1619)
س4: إن بعض العلماء في بلادنا يزعمون أن في دين الإسلام نافلة يصليها يوم الأربعاء آخر من شهر صفر وقت صلاة الضحى أربع ركعات بتسليمة واحدة تقرأ في كل ركعة فاتحة الكتاب وسورة الكوثر سبع عشرة مرة، وسورة الإخلاص خمسين مرة، والمعوذتين مرة مرة تفعل ذلك في كل ركعة وتسلم، وحين تسلم تشرع في قراءة: {والله غالب على أمره ولكن أكثر الناس لا يعلمون} ثلاثمائة وستين مرة، وجوهرة الكمال ثلاث مرات، واختتم بسبحان ربك رب العزة عما يصفون وسلام على المرسلين والحمد لله رب العالمين، وتصدق بشيء من الخبز إلى الفقراء، وخاصية هذه الآية لدفع البلاء الذي ينزل في الأربعاء الأخير من شهر صفر، وقولهم: إنه ينزل في كل سنة ثلاثمائة وعشرون ألفا من البليات، وكل ذلك في يوم الأربعاء الأخير من شهر صفر فيكون ذلك اليوم أصعب الأيام في السنة كلها فمن صلى هذه الصلاة بالكيفية المذكورة حفظه الله بكرمه من جميع البلايا التي تنزل في ذلك اليوم ولم يحسم حوله لتكون محوا يشرب منه من لا يقدر على أداء الكيفية كالصبيان، وهل هذا هو الحل أو لا؟
ج: هذه النافلة المذكورة في السؤال لا نعلم لها أصلا من الكتاب ولا من السنة، ولم يثبت لدينا أن أحدا من سلف هذه الأمة وصالحي خلفها عمل بهذه النافلة، بل هي بدعة منكرة، وقد ثبت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد » وقال: «من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد ومن نسب هذه الصلاة وما ذكر معها إلى النبي صلى الله عليه وسلم أو إلى أحد من الصحابة رضي الله عنهم فقد أعظم الفرية، وعليه من الله ما يستحق من عقوبة الكذابين.

فتاويٰ اللجنة الدائمة: (498/2، ط: رئاسة إدارة البحوث العلمية و الإفتاء)

(24) البدع الحولية لعبدالله بن عبد العزيز التويجري: (126/1، ط: دار الفضيلة)
وقد قال بعض هؤلاء الجهال: ذكر بعض العارفين أنه ينزل في كل سنة ثلاثمائة وعشرون ألفا من البليات، وكل ذلك في يوم الأربعاء الأخير من صفر، فيكون ذلك اليوم أصعب أيام السنة كلها، فمن صلى في ذلك اليوم أربع ركعات، يقرأ في كل ركعة فاتحة الكتاب مرة، وسورة الكوثر سبع عشرة مرة والإخلاص خمس عشرة مرة، والمعوذتين مرة، ويدعو بعد السلام بهذا الدعاء، حفظه الله بكرمه من جميع البليات التي تنزل في ذلك اليوم ولم تحم حوله بلية في تلك السنة، وهذا هو الدعاء:
((بعد البسملة....... اللهم يا شديد القوة، ويا شديد المحال، يا عزيز، يا من ذلت لعزتك جميع خلقك. اكنفني من شر خلقك، يا محسن يا مجمل يا متفضل، يا منعم يا متكرم، يا من لا إله إلا أنت، ارحمني برحمتك يا أرحم الراحمين، اللهم بسر الحسن وأخيه وجده وأبيه وأمه وبنيه ، اكفني شر هذا اليوم وما ينزل فيه يا كافي المهمات ويا دافع البليات، فسيكفيكهم الله وهو السميع العليم، وصلى الله على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين))

(25) الآثار المرفوعة فى الأخبار الموضوعة لعبد الحي اللكنوي: (ص:122، ط: دار الکتب العلمیة)
والحكم في هذين القسمين أن نفس أداء تلك الصلوات المخصوصة بتراكيب مختصة لا يضر ولا يمنع عنه ما لم تشتمل تلك الكيفية على أمر يمنع عنه الشرع ويزجر عنه، فإن وجدت كيفية تخالف الشريعة فلا رخصة في أدائها لأحد من أرباب المشيخة زعما منهم أن هذا ثابت في الطريقة وإن خالف الشريعة لما ذكرنا سابقا أن الطريقة ليست مباينة للشريعة ومن توهم ذلك فهو إما جاهل أو مجنون وإما غافل وإما مفتون لكن يشترط في الأخذ بها لا أن لا يهتم بها أزيد من اهتمام العبادات المروية لا سيما الواجبات والفرائض الشرعية وأن لا يظنها منسوبة إلى صاحب الشريعة ولا يتوهم ثبوت تلك الأحاديث المروية ولا يعتقد نسبتها واستحبابها كاستحباب العبادات الشرعية ولا يلتزمها التزاما زجر عنه الشرع فإن كل مباح أدى إلى التزام ما لم يلزم يكون مكرها في الشرع ولا يعتقد ترتب الثواب المخصوص عليه كترتب الثواب المخصوص على ما نص عليه الرسول ويشترط مع ذلك في كليهما ألا يجر التزامها وأدائها إلى إفساد عقائد الجهلة ولا يقضى إلى المفسدة بأن يظن ما ليس نسبه سنة وما هو سنة بدعة۔۔۔۔۔۔ ولعمري وجود من يشتغل بها مع الشروط التي ذكرناها في زماننا هذا نادر وحكم أدائها بدون هذه الشرائط مما أسلفنا ذكره ظاهر وكعلم من التزم بأنواع العبادات الثابتة بتركها الواردة كفى ذلك له في الدنيا والآخرة من غير حاجة إلى التزام هذه الصلوات المخترعة والعمل بالأحاديث المختلفة فافهم واستقم.

(26) امداد المفتین: (فصل في صوم النذر و صوم النفل، ص: 416، دارالاشاعت)

(27) الموضوعات للصغاني: (ص:61، ط: دار المأمون للتراث)
من الْأَحَادِيث الْمَوْضُوعَة۔۔۔ وَمِنْهَا قَوْلُهُمْ: " مَنْ بَشَّرَنِي بِخُرُوجِ صَفَرٍ، بَشَّرْتُهُ بِدُخُولِ الْجَنَّةِ ".

(28) تذكرة الموضوعات لمحمد طاهر الفَتَّنِي: (115، ط: إدارة الطباعة المنيرية)
يَوْمُ الأَرْبِعَاءِ يَوْمُ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ» مَوْضُوع، وَكَذَا «مَنْ بَشَّرَنِي بِخُرُوجِ صَفَرَ بَشَّرْتُهُ بِدُخُول الْجنَّة» قزويني وَكَذَا قَالَ أَحْمد بن حَنْبَل.

(29) الفوائد المجموعة في الأحاديث الموضوعة لعلامة الشوكاني: (138، ط: دار الكتب العلمية)
مَنْ بَشَّرَنِيْ بِخُرُوْجِ صَفَرَ، بَشَّرْتُہ بِالْجَنَّةِ( لَا أصْلَ لَہ“․

الأسرار المرفوعة المعروف بالموضوعات الكبرى لملا علی القاري: (ص:337، ط: دار الأمانة)
أَحَادِيثُ الأَدْعَيَةِ وَالْعِبَادَاتِ فِي الشُّهُورِ:حديث: "مَنْ بَشَّرَنِي بِخُرُوجِ صَفَرٍ بَشَّرْتُهُ بالجنة.
قال الصنعاني: موضوع. وكذا قال العراقي.

كشف الخفاء ومزيل الإلباس لإسماعيل العجلوني: (280/2، ط: المكتبة العصرية)
من بشرني بخروج صفر بشرته بالجنة.
قال القاري: في الموضوعات، تبعًا للصغاني: لا أصل له.

Print Views: 4907

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.