غذا کی منصوبہ بندی (Diet Plan) شریعت کی روشنی میں
( دارالافتاء الاخلاص)

غذا کی منصوبہ بندی (Diet Plan) شریعت کی روشنی میں

اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ حلال ،پاکیزہ اور عمدہ غذا کھاکر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا عبادت اور تقویٰ میں شامل ہے،لیکن کھانا اتنا کھایا جائے جس سے آدمی صحت مند اور چست رہ سکے،اتنا زیادہ کھانا پینا جس سےآدمی بیمار پڑجائے یا چستی ختم ہوکر کاہلی اور سستی پیدا ہوجائے، شریعت اور عقل دونوں کے خلاف ہے۔اسی لئے رسول اللہ ﷺنے حد اعتدال سے زیادہ کھانے پینے کو ناپسند فرمایا ہے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے:
حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’ آدمی (اگر اپنے پیٹ کو حد سے زیادہ بھرلے تو اس ) نے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرا،(کیونکہ پیٹ کو بھرنے کی خرابیاں بہت زیادہ ہیں)آدمی کے لیے بس چند لقمے کافی ہیں، جو اس کی پُشت کو کھڑا رکھ سکیں،(تاکہ وہ اپنی ضروریات اور عبادات سر انجام دے سکے)ہاں، اگر ضروری ہو(یعنی اگر کوئی زیادہ کھاناہی چاہتا ہے،تو اس کو چاہیے کہ پیٹ کے تین حصے کرلے) ایک تہائی (1/3)کھانے کے لیے،ایک تہائی (1/3)پانی کے لئے،اور ایک تہائی (1/3)سانس (کی آمد ورفت ) کےلئے۔‘‘
(سنن الترمذی، رقم الحدیث:2380)

لہٰذاکھانے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ایک تہائی کھانے کی عادت ڈالی جائے،نیز طبی لحاظ سے بھی بہتر ہے کہ صرف بھوک لگنے پر ہی کھایا جائے،اور مکمل طور پر سیر ہونے ( یعنی پیٹ بھرنے)سے پہلے کھانا چھوڑ دیا جائے، کیونکہ زیادہ کھانا صحت کے لیے نقصان دہ ہے،جو آگے چل کرحقوق اللہ و حقوق العباد کی ادائیگی میں رکاوٹ، اور بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

سنن الترمذی: (رقم الحدیث: 2380)
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا إسماعيل بن عياش، حدثني ابو سلمة الحمصي، وحبيب بن صالح , عن يحيى بن جابر الطائي، عن مقدام بن معد يكرب، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " ما ملا آدمي وعاء شرا من بطن بحسب ابن آدم اكلات يقمن صلبه، فإن كان لا محالة، فثلث لطعامه وثلث لشرابه وثلث لنفسه ".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Views: 1235

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.