ماہ ذیقعدہ کے فضائل، مسائل اور رسومات و منکرات
(دارالافتاء الاخلاص)


ماہ ذیقعدہ کے فضائل، مسائل اور بدعات و منکرات

ماہ ذیقعدہ اسلامی سال کا شوال کے بعد آنے والا گیارہواں قمری مہینہ ہے۔

ذیقعدہ کے نام کی لغوی تحقیق:

اس مہینے کو عربی میں " ذوالقعدہ " یا " ذی القعدہ " کہا جاتا ہے۔
ذوالقعدہ یہ دو لفظوں کا مجموعہ ہے۔(1) ذو (2) القعدہ "ذو" کا معنی اردو میں "والے" کے آتے ہیں اور " قعدة" کے معنی
بیٹھنے کے آتے ہیں۔

"ذیقعدہ" کو ذیقعدہ کہنے کی وجہ:
زمانہ جاہلیت میں اہلِ عرب اس مہینے میں جنگ و جدال کو حرام سمجھتے تھے اور اسلحہ رکھ دیتے تھے، کوئی کسی کو قتل نہیں کرتا تھا، حتی کہ باپ، بیٹے کے قاتل کو بھی اس مہینہ میں کچھ نہیں کہا جاتا تھا، چونکہ وہ لوگ اس مہینے میں قتل و قتال سے الگ تھلک ہو کر بیٹھ جایا کرتے تھے، اس لئے اس مہینہ کا نام "ذو القعدہ" یعنی بیٹھنے والا مہینہ رکھا گیا۔(2)

فضائل ذیقعدہ:
1۔ ذیقعدہ چار عظمت والے مہینوں میں سے ہے:
ذیقعدہ کا مہینہ ان چار مہینوں میں سے ہے، جن کو اللہ تعالی نے "اشہُر حُرُم" یعنی حرمت والے مہینے قرار دیا ہے۔

سورة توبہ میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ مہینے ہے۔ جو اللہ کی کتاب (یعنی لوح محفوظ) کے مطابق اس دن سے نافذ چلی آتی ہے، جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ ان (بارہ مہینوں) میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں۔(آسان ترجمۂ قرآن، مفتی محمد تقی عثمانی) (3)
اس کی تفصیل حضرت ابو بکرہؓ کی روایت میں اس طرح آئی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک زمانہ پھر اپنی پہلی اسی ہیئت پر آگیا ہے، جس پر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے، ان میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں۔ تین تو لگاتار یعنی ذیقعدہ، ذی الحجۃ ، محرم اور چوتھا رجب مضر جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں پڑتا ہے۔(4)

1۔ان مہینوں کو اشہُر حُرُم کہنے کی وجہ:

ان مہینوں کو حرمت والا مہینہ دو معنی کے اعتبار سے کہا گیا: ایک اس لیے کہ ان میں قتل وقتال حرام ہے، دوسرے اس لیے کہ یہ مہینے متبرک اور واجب الاحترام ہیں، ان میں عبادات کا ثواب زیادہ ملتا ہے، البتہ ان میں سے پہلا حکم تو شریعتِ اسلام میں منسوخ ہوگیا، جبکہ دوسرا حکم ادب واحترام اور عبادت گزاری کا اہتمام، شریعت میں اب بھی باقی ہے۔(5)

2-ماہ ذیقعدہ حج کی تیاری کا دوسرا مہینہ ہے:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ترجمہ:حج کے مہینےطے شدہ اور معلوم ہیں۔(6)
علماء کا اس پر اجماع ہے کہ اشہرِ حج تین ہیں، جن میں سے پہلا شوال اور دوسرا ذیقعدہ اور تیسرا ذی الحجہ کے دس دن ہیں۔(7)
حضرت عمرؓ، حضرت عبد اللہؓ بن عمر، حضرت علیؓ، حضرت ابن مسعودؓ، حضرت عبداللہ ابن عباسؓ اور حضرت عبداللہ ابن زبیرؓ رضی اللہ عنہم وغیرہ سے یہی روایت کیا گیا ہے اور یہی اکثر تابعینؒ کا قول ہے۔(8)
یہ بات ماہِ ذیقعدہ کی عظمت و فضیلت کو اور بڑھا دینے والی ہے کہ یہ حج کا درمیانی مہینہ ہے، اور آج بھی اکثر لوگ اسی مہینے سے حج کی تیاریاں کرتے ہیں اور حج کے لیے رختِ سفر باندھتے ہیں۔

3۔ ماہ ذیقعدہ میں موسی علیہ السلام نے کوہ طور پر اعتکاف فرمایا:

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے، جن تیس دن اور دس دنوں کا وعدہ فرمایا تھا، وہ تیس دن یہی ماہِ ذیقعدہ اور دس دن ماہِ ذی الحجہ کے ہیں۔(9)

4۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارے عمرے ماہ ذیقعدہ میں ادا کئے:

جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارے عمرے ذیقعدہ میں ادا کئے، سوائے آخری عمرے کے، وہ حج کے مہینہ میں کیا، البتہ اس کا احرام ذیقعدہ میں باندھا تھا، جیسا کہ سنن ابی داؤد کی روایت میں ہے۔(10)
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ راجح قول کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے ادا فرمائے، ان میں سے تین تو ذیقعدہ میں، جب کہ ایک عمرہ بروز اتوار 4؍ذی الحجہ 10ھ کو حجۃ الوداع کے ساتھ ادا فرمایا، مدینہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روانگی ماہِ ذیقعدہ میں ہوئی تھی، اور احرام بھی آپ نے اسی مہینے میں باندھا تھا، اور اس کے اعمال ذی الحجہ میں سرانجام دیئے تھے۔(11)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مہینہ کو عمرہ کے لیے کیوں خاص کیا؟
علماء کرام فرماتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ ذیقعدہ میں یہ عمرے اس لیے ادا فرمائے، تاکہ لوگ اس مہینے کی فضیلت اور عظمت سے واقف ہوجائیں اور اہلِ جاہلیت کی مخالفت بھی ہوجائے، کیونکہ وہ اس مہینے میں عمرہ کرنا بڑا گناہ سمجھتے تھے، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ و سلمنے پے در پے اس مہینے میں عمرے ادا فرمائے، تاکہ لوگ اس کے جواز کو اچھی طرح سمجھ لیں اور ان کے ذہنوں سے زمانۂ جاہلیت کے اثرات پوری طرح ختم ہو جائیں۔(12)

5۔ ماہ ذیقعدہ میں روزے رکھنا:

ذیقعدہ اور بقیہ اشہُر حُرُم میں نفلی روزے رکھنا باعث فضیلت ہے۔
جیبہ باہلیہ اپنے والد یا چچا سے روایت کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، پھر چلے گئے اور ایک سال بعد دوبارہ آئے، اس مدت میں ان کی حالت و ہیئت بدل گئی تھی، کہنے لگے: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے پہچانتے نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون ہو؟“ جواب دیا: میں باہلی ہوں، جو کہ پہلے سال بھی حاضر ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”تمہیں کیا ہو گیا؟ تمہاری تو اچھی خاصی حالت تھی؟“ جواب دیا: جب سے آپ کے پاس سے گیا ہوں، رات کے علاوہ کھایا ہی نہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے آپ کو تم نے عذاب میں کیوں مبتلا کیا؟“ پھر فرمایا: ”صبر کے مہینہ (رمضان) کے روزے رکھو، اور ہر مہینہ میں ایک روزہ رکھو“ انہوں نے کہا: اور زیادہ کیجئے، کیونکہ میرے اندر طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو دن روزہ رکھو“، انہوں نے کہا: اس سے زیادہ کی میرے اندر طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دن کے روزے رکھ لو“، انہوں نے کہا: اور زیادہ کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھو اور (باقی) چھوڑ دو، حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھو اور (باقی) چھوڑ دو، حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھو اور (باقی) چھوڑ دو“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تین انگلیوں سے اشارہ کیا، پہلے بند کیا پھر چھوڑ دیا۔(13)

فائدہ:
محدثین کرام نے لکھا ہے کہ تین انگلیوں سے اشارہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اشہُر حُرُم کےجتنے روزے چاہو، رکھو، لیکن تین دن مسلسل رکھنے کے بعد ایک دن یا دو دن چھوڑ دیا کرو۔
بعض محدثین نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اشہُر حُرُم میں تین دن روزے رکھو اور تین دن چھوڑ دو ، پھر تین دن روزے رکھ کر تین دن چھوڑ دو، پھر تین دن روزے رکھ کر تین دن چھوڑ دو اور یہ مطلب زیادہ بہتر ہے۔(13)
اس حدیث کے پیش نظر فقہائے کرام نے ان چار مہینوں میں نفلی روزے رکھنے کو مستحب قرار دیا ہے۔(15)
ماہ ذیقعدہ میں عبادت کی فضیلت اور برے اعمال کے گناہ کی شدت:
ذیقعدہ اور باقی حرمت والے مہینوں میں نیک اعمال کرنا دوسرے مہینوں کی بنسبت زیادہ افضل ہے، اور ان مہینوں میں ظلم (گناہ) کرنا دوسرے مہینوں کی بنسبت زیادہ سخت گناہ ہے۔
امام ابوبکر جصاص نے لکھا ہے: "ان بابرکت مہینوں میں جو شخص عبادت کرتا ہے، اس کو دوسرے مہینوں میں بھی عبادت کی توفیق ہوجاتی ہے، اور جو شخص ان مہینوں میں گناہوں سے بچنے کی کوشش کرے گا، تو اس کے لیے سال کے باقی مہینے بھی گناہوں سے بچنا آسان ہوجاتا ہے"۔(16)
علامہ ابو طالب مکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ذیقعدہ کے مہینہ کی افضلیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں دو وصف ایک ساتھ جمع ہیں اور وہ "اشہُر حُرُم" میں سے ہونا اور "اشہر حج" میں سے ہونا ہے"۔(17)
اس لیے ان مہینوں میں عبادت کرنے اور گناہوں سے بچنے کے انوار و برکات سے فائدہ اٹھانے کی سعی و کوشش کرنی چاہیے۔

ماہ ذیقعدہ کی بدعات:
1۔ ماہ ذیقعدہ کو منحوس سمجھنا سخت غلطی ہے۔

واضح رہے کہ دین اسلام میں بعض خصوصیات کی بنا پر بعض اوقات کے فضائل وبرکات کو تو بیان کیا گیا ہے، لیکن کسی زمانے اور وقت کی نحوست کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے۔
حدیث شریف میں آتا ہے:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، زمانے کو بُرا بھلا کہتا ہے، حالانکہ میں ہی زمانے کا پیدا کرنے والا ہوں۔ میرے ہی ہاتھ میں تمام کام ہیں، میں جس طرح چاہتا ہوں، رات اور دن کو پھیرتا رہتا ہوں۔(18)
اس سے پتہ چلا کہ نحوست وسعادت کا سبب زمانہ وغیرہ نہیں ہے، نہ کوئی دن منحوس ہے، نہ کوئی مہینہ، نہ کسی مکان میں نحوست ہے، نہ کسی انسان میں، بلکہ اصل نحوست معصیت اور گناہ کے اعمال میں ہے۔ لہذا ماہ ذیقعدہ کو منحوس سمجھنا جیسا کہ عام لوگ سمجھتے ہیں ، یہ بڑی سخت بات اور باطل عقیدہ ہے۔(19)

2- ماہ ذیقعدہ کو "خالی کا مہینہ" کہنا:

بعض جہلاء ذیقعدہ کے مہینے کو "خالی کا مہینہ" کہتے ہیں اور اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ مہینہ اپنے سے پہلے اور بعد کے مہینہ کے برعکس عیدالفطر اور عیدالاضحی سے خالی ہوتا ہے، اور "خالی" کا مطلب وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس مہینے میں کسی نیک عمل و طاعت کی بالکل ضرورت نہیں، یہ خیال بالکل غلط، فاسد اور سراسر جہالت پر مبنی ہے۔
حضرت مفتی عبدالرحیم لاجپوری رحمہ اللہ "فتاوی رحیمیہ "میں لکھتے ہیں: اس ماہ مبارک کو نامبارک اور برکت سے خالی سمجھ کر ’’خالی‘‘ کہا جاتا ہے، یہ بھی جائز نہیں ہے۔ ذیقعدہ کہنا چاہیے، خالی نہیں کہنا چاہئے، جیسا کہ آنحضرت ﷺ کی طرف سے نماز عشاء کو عشاء کے بجائے عتمہ کہنے کی ممانعت آئی ہے (مرقاۃ ج: ۱ص: ۳۹۹) ایسے ہی اس غلط نام کے استعمال کرنے میں بھی احتیاط کرنی چاہئے۔(20)
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں اس عظیم الشان مہینے کی برکتوں سے خوب مالا مال فرمائے، اور اس ماہ مبارک میں بدعات و خرافات سے بچائے اور اس حرمت و عظمت والے مہینے کی قدر کرنے اور اس میں خوب عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔۔۔۔۔


دلائل:

(١) "وَذُو الْقَعْدَةِ بِفَتْحِ الْقَافِ وَالْكَسْرُ لُغَةٌ شَهْرٌ وَالْجَمْعُ ذَوَاتُ الْقَعْدَةِ وَذَوَاتُ الْقَعَدَاتِ وَالتَّثْنِيَةُ ذَوَاتَا الْقَعْدَةِ وَذَوَاتَا الْقَعْدَتَيْنِ فَثَنَّوْا الِاسْمَيْنِ وَجَمَعُوهُمَا وَهُوَ عَزِيزٌ لِأَنَّ الْكَلِمَتَيْنِ بِمَنْزِلَةِ كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ وَلَا تَتَوَالَى عَلَى كَلِمَةٍ عَلَامَتَا تَثْنِيَةٍ وَلَا جَمْعٍ۔(المصباح المنير في غريب الشرح الكبيرلأبی العباس، احمد بن محمد الحموي، ج:2،ص: 510، ط:المكتبة العلمية )

(٢) "وَذُو القَعْدَةِ) بِالْفَتْح (ويُكْسَر: شَهْرٌ) يَلِي شَوَّالاً، سُمِّيَ بِهِ لأَن العرَبَ (كَانُوا يَقْعُدُونَ فِيه عَنه الأَسْفَارِ) والغَزْوِ والمِيرَةِ وطَلَبِ الكَلإِ ويَحُجُّون فِي ذِي الحِجَّةِ".( تفسیر الطبری، ج:3، ص:579، ط:مؤسسة الرسالة)

(٣) إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ ۚ۔۔۔الخ(سورة توبه، آیت نمبر: 36)

(٤) صحیح بخاری حدیث نمبر:4662، صحیح مسلم حدیث نمبر: 4406

(٥) معارف القرآن، ج: 4، ص:372 ط:ادارةالمعارف۔

(٦) الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ ۚ (سورةبقرہ، آیت نمبر: 197)

(٧) وَأَجْمَعَ الْعُلَمَاءُ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِأَشْهُرِ الْحَجِّ ثَلَاثَةٌ أَوَّلُهَا شَوَّالٌ(فتح الباری، ج: 3،ص: 420،ط:دار المعرفة)

(٨) لطائف المعارف لابن رجب، ص 471، ط: دارابن کثیر۔

(٩) "لذي القعدة فضيلة أخرى وهي أنه قد قيل: إنه الثلاثون يوما الذي واعد الله فيه موسى عليه السلام قال ليث عن مجاهد في قوله تعالى: {وَوَاعَدْنَا مُوسَى ثَلاثِينَ لَيْلَةً} [الأعراف: 142] قال ذو القعدة {وَأَتْمَمْنَاهَا بِعَشْرٍ} [الأعراف: 142] قال عشر ذي الحجة"۔ (لطائف المعارف لابن رجب، ص: 256، ط: دارابن کثیر)

(١٠) عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ:‏‏‏‏ عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالثَّانِيَةَ حِينَ تَوَاطَئُوا عَلَى عُمْرَةٍ مَنْ قَابِلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالثَّالِثَةَ مِنْ الْجِعْرَانَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالرَّابِعَةَ الَّتِي قَرَنَ مَعَ حَجَّتِهِ۔
( سنن ابی داود، حدیث نمبر:1993)
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمْ يَعْتَمِرْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا فِي ذِي الْقَعْدَةِ۔(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 2996، 2997)

(١١) شرح النووی علی مسلم،ج:8، ص: 235،ط: دار إحياء التراث العربي

(١٢) "قَالَ الْعُلَمَاءُ وَإِنَّمَا اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْعُمْرَةَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ لِفَضِيلَةِ هَذَا الشهر وَلِمُخَالَفَةِ الْجَاهِلِيَّةِ فِي ذَلِكَ فَإِنَّهُمْ كَانُوا يَرَوْنَهُ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُورِ كَمَا سَبَقَ فَفَعَلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّاتٍ فِي هَذِهِ الْأَشْهُرِ لِيَكُونَ أَبْلَغَ فِي بَيَانِ جَوَازِهِ فِيهَا وَأَبْلَغَ فِي إِبْطَالِ مَا كَانَتِ الْجَاهِلِيَّةُ عَلَيْهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ"۔(شرح النووی علی مسلم،ج:8، ص: 236،ط: دار إحياء التراث العربي)

(١٣) "عن مجيبة الباهلية، عن ابيها او عمها، انه اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم انطلق. فاتاه بعد سنة وقد تغيرت حاله وهيئته. فقال: يا رسول الله، اما تعرفني؟ قال: ومن انت؟ قال: انا الباهلي الذي جئتك عام الاول. قال: فما غيرك وقد كنت حسن الهيئة؟ قال: ما اكلت طعاما إلا بليل منذ فارقتك. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لم عذبت نفسك؟ ثم قال:" صم شهر الصبر ويوما من كل شهر". قال: زدني فإن بي قوة. قال: صم يومين. قال: زدني. قال: صم ثلاثة ايام. قال: زدني. قال: صم من الحرم واترك، صم من الحرم واترك، صم من الحرم واترك". وقال باصابعه الثلاثة، فضمها ثم ارسلها".( سنن ابی داود، حدیث نمبر: 2428)

(١٤) "وقال بأصابعه الثلاثة" أي صم منها ما شئت وأشار بالأصابع الثلاثة إلى أنه لا يزيد على الثلاث المتواليات وبعد الثلاث يترك يوما أو يومين والأقرب أن الإشارة لإفادة أنه يصوم ثلاثا ويترك ثلاثا والله أعلم۔(عون المعبود شرح سنن أبي داود لأبي عبد الرحمن، شرف الحق، العظيم آبادي، ج:7، ص: 58، ط: دارالکتب العلمیہ بیروت )

(١٥) "صَوْمُ الأْشْهُرِ الْحُرُمِ: ذَهَبَ جُمْهُورُ الْفُقَهَاءِ - الْحَنَفِيَّةُ وَالْمَالِكِيَّةُ وَالشَّافِعِيَّةُ - إِلَى اسْتِحْبَابِ صَوْمِ الأْشْهُرِ الْحُرُمِ.وَصَرَّحَ الْمَالِكِيَّةُ وَالشَّافِعِيَّةُ بِأَنَّ أَفْضَل الأْشْهُرِ الْحُرُمِ: الْمُحَرَّمُ، ثُمَّ رَجَبٌ، ثُمَّ بَاقِيهَا: ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ. وَالأْصْل فِي ذَلِكَ قَوْل النَّبِيِّ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَل الصَّلاَةِ بَعْدَ الصَّلاَةِ الْمَكْتُوبَةِ الصَّلاَةُ فِي جَوْفِ اللَّيْل، وَأَفْضَل الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ صِيَامُ شَهْرِ اللَّهِ الْمُحَرَّمِ۔وَمَذْهَبُ الْحَنَفِيَّةِ: أَنَّهُ مِنَ الْمُسْتَحَبِّ أَنْ يَصُومَ الْخَمِيسَ وَالْجُمُعَةَ وَالسَّبْتَ مِنْ كُل شَهْرٍ مِنْ الأْشْهُرِ الْحُرُمِ.وَذَهَبَ الْحَنَابِلَةُ إِلَى أَنَّهُ يُسَنُّ صَوْمُ شَهْرِ الْمُحَرَّمِ فَقَطْ مِنَ الأْشْهُرِ الْحُرُمِ.وَذَكَرَ بَعْضُهُمُ اسْتِحْبَابَ صَوْمِ الأْشْهُرِ( موسوعةالفقهية الكويتية، ج:28،ص:95)

(١٦) احکام القرآن،ج: 4، ص:308، ط: دار إحياء التراث العربي۔

(١٧) ومن الفاضل الشهور الأربعة الحرم وهي ذو القعدة وذو الحجة والمحرم ورجب خصهن الله عزّ وجلّ بالنهي عن الظلم فيهن لعظم حرمتهن، فكذلك الأعمال لها فيهن فضل على غيرها وأفضلها ذو الحجة لوقوع الحج فيه ولما خصّ به من الأيام المعلومات والأيام المعدودات ثم ذو القعدة لجمعه الوصفين معاً وهو من الأشهر الحرم ومن أشهر الحج۔( قوت القلوب في معاملة المحبوب لأبي طالب المكي، ج:1،ص:115،ط: دار الكتب العلمية )

(١٨) عن ابي هريرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " قال الله عز وجل: يؤذيني ابن آدم، يسب الدهر وانا الدهر، اقلب الليل والنهار۔ ( صحیح بخاری حدیث نمبر:7491، مسلم حدیث نمبر: 5863)

(١٩) اسلامی شادی، ص: 141، مکتبة الحسن۔

(٢٠) فتاوی رحیمیہ، ج:2، ص: 113 ط:دارالاشاعت۔


والله أعلم بالصواب

Print Views: 1055

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com