ماہ ذی الحجہ کے فضائل ،مسائل اور رسومات و منکرات
(دارالافتاء الاخلاص)


ماہ ذی الحجہ کے فضائل اور شرعی مسائل واحکام

ماہ ذی الحجہ اسلامی سال کا بارہواں اور آخری قمری مہینہ ہے۔

ذی الحجہ کے نام کی لغوی تحقیق:

اس مہینے کو عربی میں "ذوالحجہ" یا "ذی الحجہ" کہا جاتا ہے۔ذی الحجہ یہ دو لفظوں کا مجموعہ ہے، جس کے معنی "قمری سال کے آخری مہینہ" اور "حج کے مہینہ" کے آتے ہیں۔
فائدہ: "الحجہ" کو حاء کے زیر اور زبر دونوں کے ساتھ پڑھا جاسکتا ہے۔

(1)

ذی الحجہ کو ذی الحجہ کہنے کی وجہ:

پہلی وجہ: الحجہ کے معنی "حج کرنا" چونکہ اس مہینے میں فریضۂ حج ادا کیا جاتا ہے، اس لیے اسے ذی الحجہ کہا گیا ہے۔ دوسری وجہ: "الحجہ" کے معنی "سال" کے بھی آتے ہیں، چونکہ اس ماہ کے اختتام پر ایک ہجری سال مکمل ہوتا ہے، اس لیے اسے ذی الحجہ کہا گیا ہے۔(2)

فضائل ذی الحجہ:
1 -
ذی الحجہ چار عظمت والے مہینوں میں سے ہے:
ذی الحجہ کا مہینہ ان چار مہینوں میں سے ہے، جن کو اللہ تعالی نے "اشہُر حُرُم "یعنی حرمت والے مہینے قرار دیا ہے۔
سورة توبہ میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِيْ كِتَابِ اللهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَالاَرْضَ مِنْهَا اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ۔۔الآیۃ (سورۃ التوبہ،36)
ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ مہینے ہے۔ جو اللہکی کتاب (یعنی لوح محفوظ) کے مطابق اس دن سے نافذ چلی آتی ہے، جسدن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ ان (بارہ مہینوں) میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں۔

ان مہینوں کو اشہُر حُرُم کہنے کی وجہ:

ان مہینوں کو حرمت والا مہینہ دو معنی کے اعتبار سے کہا گیا ہے۔ ایک اس لیے کہ ان میں قتل وقتال حرام ہے، دوسرے اس لیے کہ یہ مہینے متبرک اور واجب الاحترام ہیں، ان میں عبادات کا ثواب زیادہ ملتا ہے، البتہ ان میں سے پہلا حکم تو شریعتِ اسلام میں منسوخ ہوگیا، جبکہ دوسرا حکم ادب واحترام اور عبادت گزاری کے متعلق اب بھی باقی ہے۔(3)

2۔ "ماہ ذی الحجہ" حج جیسی عظیم عبادت کا مہینہ ہے:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اَلْحَجُّ اَشْہُرٌ مَعْلُوْمٰتٍ۔(سورۃ البقرۃ،197)
ترجمہ:حج کے مہینےطے شدہ اور معلوم ہیں۔علماء کا اس پر اجماع ہے کہ اشہُرِ حج تین ہیں، جن میں سے پہلا شوال اور دوسرا ذیقعدہ اور تیسرا ذی الحجہ کے دس دن ہیں-(4)
اسی طرح قرآن شریف کی آیت {وَیَذْکُرْوْا اسْمَ اللّٰہِ فِیْ اَیَّامٍ مَعْلُوْمَاتٍ} میں "ایام معلومات" سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔(5)
ماہِ ذی الحجہ کی اس سے بڑھ کر اور کیا فضیلت ہوگی کہ وہ عبادتیں جو سال بھر کے دوسرے دنوں میں انجام نہیں دی جاسکتیں، ان کی انجام دہی کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسی زمانے کو منتخب فرمایا ہے۔ مثلاً حج ایک ایسی عبادت ہے، جو اِن ایام کے علاوہ دوسرے ایام میں انجام نہیں دی جاسکتی۔ دوسری عبادتوں کا یہ حال ہے کہ انسان فرائض کے علاوہ جب چاہے نفلی عبادت کرسکتا ہے۔ مثلاً نماز پانچ وقت کی فرض ہے، لیکن ان کے علاوہ جب چاہے نفلی نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ رمضان میں روزہ فرض ہے؛ لیکن نفلی روزہ جب چاہیں رکھیں۔ زکوٰۃ سال میں ایک مرتبہ فرض ہے؛ لیکن نفلی صدقہ جب چاہے ادا کردیں۔ ان سے ہٹ کر دو عبادتیں ایسی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے وقت مقرر فرمادیا ہے، ان اوقات کے علاوہ دوسرے اوقات میں اگر ان عبادتوں کو کیا جائے گا، تو وہ عبادت ہی نہیں شمار ہوگی۔ ان میں سے ایک عبادت حج ہے، حج کے ارکان مثلاً عرفات میں جاکر ٹھہرنا، مزدلفہ میں رات گزارنا، جمرات کی رمی کرنا وغیرہ یہ وہ اعمال ہیں کہ اگر انہی ایام میں انجام دیے جائیں، تو عبادت ہے اور ان کے علاوہ دوسرے دنوں میں اگر کوئی شخص عرفات میں دس دن ٹھہرے تو یہ کوئی عبادت نہیں، سال کے بارہ مہینے منیٰ میں کھڑے رہنا کوئی عبادت نہیں ،اسی طرح سال کے دوسرے ایام میں کوئی شخص جاکرجمرات پر کنکریاں مارے تو یہ کوئی عبادت نہیں، تو حج جیسی اہم عبادت کے لیے اللہ تعالی نے ان ہی ایام کو مقرر فرما دیا کہ اگر بیت اللہ کا حج ان ہی ایام میں انجام دو گے، تو عبادت ہوگی، اور اس پر ثواب ملے گا۔
دوسری عبادت قربانی ہے، قربانی کے لیے اللہ تعالی نے ذی الحجہ کے تین دن یعنی دس، گیارہ اور بارہ تاریخ مقرر فرما دیئے ہیں، ان ایام کے علاوہ اگر کوئی شخص قربانی کی عبادت کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا، البتہ اگر کوئی شخص صدقہ کرنا چاہے، تو بکرا ذبح کر کے اس کا گوشت صدقہ کر سکتا ہے، لیکن یہ قربانی کی عبادت ان تین دنوں کے سوا کسی اور دن میں انجام نہیں پا سکتی، لہذا اللہ تعالی نے اس زمانے کو یہ امتیاز بخشا ہے، اسی وجہ سے علماء کرام نے لکھا ہے کہ رمضان المبارک کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والے ایام عشرہ ذی الحجہ کے ایام ہیں، ان میں عبادتوں کا ثواب بڑھ جاتا ہے، اور اللہ تعالی ان ایام میں اپنی خصوصی رحمتیں نازل فرماتے ہیں۔ (اصلاحی خطبات ،ج:2،ص: 142)

3۔ تکمیل دین کی بشارت کا مہینہ:

ذی الحجہ وہ عظیم الشان مہینہ ہے، جس میں اللہ تعالی نے قرآن کریم کی وہ آیت نازل فرمائی ، جس میں تکمیل دین کی نعمت کا اعلان کیا گیا ہے۔ اور بخاری شریف میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق یہ آیت ذی الحجہ کے مہینے میں عرفہ کے دن نازل ہوئی ہے۔(6)
اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لُکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا۔(سورۃ المائدۃ:3)
ترجمہ: آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا، تم پر اپنی نعمت پوری کردی، اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر (ہمیشہ کے لیے) پسند کرلیا۔

4۔ ذی الحجہ میں مسلمانوں کو عید کی مسرت اور خوشی کا حاصل ہونا:

ذی الحجہ کا مہینہ وہ مسرت اور خوشی کا مہینہ ہے، جس کی دس تاریخ کو تمام مسلمان عیدِ قربان مناتے ہیں۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے (تو دیکھا کہ) اہل مدینہ کے لیے (سال میں) دو دن ہیں، جن میں وہ کھیلتے کودتے ہیں، تو آپ نے پوچھا: ”یہ دو دن کیسے ہیں؟“ تو ان لوگوں نے کہا: جاہلیت میں ہم ان دو دِنوں میں کھیلتے کودتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے تمہیں ان دو دِنوں کے عوض ان سے بہتر دو دن عطا فرما دیئے ہیں: ایک عید الاضحی کا دن اور دوسرا عید الفطر کا دن“۔(7)

5۔ ذی الحجہ کے پہلے عشرے کی فضیلت:

ماہِ ذی الحجہ کا پہلا عشرہ قرآن و حدیث کے مطابق سال کے تمام دنوں میں افضل ترین عشرہ ہے، چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالی نے اس کی عظمت و اہمیت کو بیان فرمایا:وَ الۡفَجۡرِ وَ لَیَالٍ عَشۡرٍ۔ وَالشَّفۡعِ وَ الۡوَتۡرِ۔(سورۃ الفجر:1،2،3)

ترجمہ:
قسم ہے فجر کے وقت کی، اور دس راتوں کی، اور جفت کی اور طاق کی۔ اکثر مفسرین کے نزدیک ان دس راتوں سے مراد ذی الحجہ کے شروع کے دس دن ہیں اور علامہ ابن جریر طبری اور ابن رجب حنبلی نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔(8)
بعض احادیث سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ دس راتوں سے مراد ذی الحجہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں۔نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے کہ دس راتوں سے مراد ذی الحجہ کا پہلا عشرہ ہے اور طاق سے مراد یوم عرفہ ہے اور جفت سے مراد عید الاضحی کا دن ہے۔(9)
ایک حدیث میں ہے کہ ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن دنیا کے تمام دنوں میں سب سے افضل ہیں۔(10)

عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت کا سبب:

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:تمام دلائل سے جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ کہ عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت اور خصوصیت کی وجہ صرف یہ ہے کہ تمام بڑی اور اصل عبادتیں اس کے اندر یکجا ہیں۔ جیسے نماز، روزہ، صدقہ وخیرات (قربانی) اور حج، جبکہ کسی بھی موقع پر یہ ساری عبادتیں اکھٹی نہیں ہوتیں۔(11)

عشرہ ذی الحجہ افضل ہے یا رمضان المبارک کا آخری عشرہ؟

علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ ذی الحجہ کے دس دن افضل ہیں یا رمضان المبارک کے آخری دس دن؟تو آپ نے جواب دیا: ذی الحجہ کے دس دن رمضان المبارک کے آخری دس دنوں سے افضل ہیں اور رمضان کے آخری عشرے کی راتیں عشرہ ذی الحجہ کی راتوں سے افضل ہیں۔(12)

6۔ عشرہ ذی الحجہ میں نیک اعمال کی فضیلت:

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا:کوئی دن ایسا نہیں ہے کہ جس میں نیک عمل اللہ تعالی کے یہاں ان (ذی الحجہ کے) دس دنوں کے نیک عمل سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہو، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول!کیا یہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے سے بھی بڑھ کر ہے؟تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے سے بھی بڑھ کر ہے، مگر وہ شخص جو جان اور مال لے کر اللہ کے راستے میں نکلے، پھر ان میں سے کوئی چیز بھی واپس لے کر نہ آئے، یعنی سب اللہ کے راستے میں قربان کردے، اور شہید ہوجائے، یہ ان دنوں کے نیک عمل سے بھی بڑھ کر ہے۔(13)

7۔ عشرہ ذی الحجہ میں چار کلمات کی تسبیح:

قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عشرہ ذی الحجہ میں تسبیح و تہلیل اور ذکر کثرت سے کرنا چاہیے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی نے فرمایا:وَیَذْکُرْوْا اسْمَ اللّٰہِ فِیْ اَیَّامٍ مَعْلُوْمَاتٍ۔(سورۃ الحج:28)
ترجمہ:اور چند مقررہ دنوں میں اللہ کا نام لیں۔ ان مقررہ دنوں سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں(14)
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:کوئی دن بھی اللہ تعالی کے نزدیک زیادہ عظیم اور پسندیدہ نہیں ہے، جن میں کوئی عمل کیا جائے، ذی الحجہ کے ان دس دنوں کے مقابلے میں ،تم ان دس دنوں میں تہلیل، تکبیر اور تحمید کی کثرت کیا کرو۔
ایک روایت میں فرمایا کہ تم ان دس دنوں میں تسبیح ،تکبیر اور تہلیل کی کثرت کیا کرو۔(15)
واضح رہے کہ جتنے بھی ایسے کلمات ہیں، جن کے ذریعہ اللہ تعالی کی حمد و ثنا کی جاتی ہے، ان سب کے سردار یہ چار کلمات ہیں:
(1) سبحان اللہ (2) الحمدللہ (3) اللہ اکبر (4) لا إله الا الله۔
.
8۔ عشرہ ذی الحجہ کے روزوں کی فضیلت:

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذی الحجہ کے (ابتدائی) دس دنوں سے بڑھ کر کوئی دن ایسا نہیں جس کی عبادت اللہ کو زیادہ محبوب ہو، ان ایام میں سے ہر دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے اور ان کی ہر رات کا قیام لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہے۔(16)

نویں ذی الحجہ یعنی عرفہ کے روزے کی فضیلت:

عرفہ کے دن کے روزے کی خاص فضیلت احادیث میں بیان کی گئی ہے۔ حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے عرفہ ( یعنی نویں ذی الحجہ) کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئندہ ( کے صغیرہ گناہوں ) کا کفارہ کردیتا ہے۔(17)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے عرفہ (نو ذی الحجہ ) کا روزہ رکھا، تو اس کے لگاتار دو سال کے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔(18)
واضح رہے کہ ان احادیث مبارکہ میں عرفہ کے روزے کی وجہ سے گناہوں کی معافی سے مراد صغیرہ گناہوں کی معافی ہے، جبکہ کبیرہ گناہوں کی معافی کے لیے توبہ شرط ہے۔(19)

ماہ ذی الحجہ کے خاص شرعی احکام ومسائل:
بال اور ناخن نہ کاٹنا:

ماہِ ذی الحجہ کا چاند نظر آتے ہی سب سے پہلا حکم بال اور ناخن کے نہ کاٹنے کا ہے۔حدیث شریف میں ہے:حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو، تو وہ اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے رک جائے۔(20)
اس حدیث کو پیش نظر رکھتے ہوئے فقہائے کرام نے فرمایا کہ قربانی کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی کرنے تک اپنے ناخن اور سر، بغل اور زیر ناف بال نہ کاٹے۔(21)
واضح رہے کہ یہ (عمل) مستحب ہے واجب نہیں۔"مستحب" کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ کام کر لیا جائے تو ثواب ہے اور نہ کیا جائے تو کوئی گناہ نہیں ہے۔لہذا اگر کوئی اس پر عمل نہ کرے تو اس کو ملامت اور طعن و تشنیع نہیں کرنی چاہیے۔

ایام تشریق کے روزوں کی ممانعت:

دس، گیارہ، بارہ اور تیرہ ذی الحجہ ایامِ تشریق کہلاتے ہیں، اس میں روزہ رکھنا جائز نہیں ہے، اور ایک عید الفطر کا دن ہے، تو یہ سال میں کل پانچ دن ہوگئے، جس میں روزہ رکھنا مکروہ تحریمی ہے۔(22)
اور اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایام اللہ تعالی کی طرف سے کھانے، پینے اور مہمان نوازی کے ایام ہیں۔(23)

تکبیرات تشریق پڑھنے کا حکم:

ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں تکبیر وتہلیل اور تسبیح کا ورد رکھنے کی تلقین فرمائی گئی ہے، اور بطور خاص ایام تشریق میں تکبیراتِ تشریق کے پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
مسئلہ:نویں ذی الحجہ کی فجر سے تیرہ ذی الحجہ کی عصر تک( کل تیئس نمازوں میں ) مرد وعورت، مسافر و مقیم، شہری و دیہاتی، باجماعت نماز پڑھنے والے اور تنہا نماز پڑھنے والے سب پر ہر فرض نماز کے ایک مرتبہ تکبیرات تشریق پڑھنا واجب ہے،(24)
البتہ مرد بلند آواز سے اور عورتیں آہستہ آواز پڑھیں گی۔(25)

تکبیرات تشریق کے الفاظ:

حضرت علی رضی اللہ عنہ نویں ذی الحجہ کی نماز فجر سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن یعنی تیرہ ذی الحجہ کی نماز عصر تک ان الفاظ کے ساتھ تکبیر کہتے تھے۔" اَللهُ أَكْبَرُ ، اَللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَاللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْد۔(26)
واضح رہے کہ روایات میں تکبیرات تشریق کے مختلف الفاظ وارد ہوئے ہیں، لیکن حضرت عمر، حضرت علی اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہم سے مروی الفاظ زیادہ جامع ہونے کے ساتھ امت میں مشہور و متعارف بھی ہیں، اس لیے فقہائے احناف نے اسی کو اختیار کیا ہے۔(27)

فریضۂ حج:

اس ماہ میں اسلام کا ایک بنیادی اور عظیم رکن حج ادا کیا جاتا ہے، جس کے افعال اس ماہ کی آٹھ تاریخ سے تیرہ تاریخ کے درمیان ادا کیے جاتے ہیں۔ قربانی کا وجوباس ماہ کا عظیم، عاشقانہ، والہانہ اور بے حد فضیلت والا حکم قربانی ہے، جس کے لیے اللہ تعالی نے اس ماہ کے تین دن (دس، گیارہ اور بارہ ذی الحجہ) مقرر فرمائے ہیں۔
حضرت عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کے دن اللہ کے نزدیک آدمی کا سب سے محبوب عمل خون بہانا ہے، قیامت کے دن قربانی کے جانور اپنی سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئیں گے، قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے قبولیت کا درجہ حاصل کر لیتا ہے، اس لیے خوش دلی کے ساتھ قربانی کرو"۔(28)





دلائل


(1)الحجة بكسر الحاء قلت وفتحها سمي بذلك لإقامتهم الحج فيه، ويجمع على ذوات الحجة۔
(تفسير ابن كثير،ج:4،ص:129،ط: دار الكتب العلمية )

(2)حجہ بالکسر و تشدید جیم بمعنے یکبار حج کردن و قیاس آنست کہ بالفتح باشد نہ بکسر چرا کہ وزن فعلہ بالفتح برائے مرة آید و فعلة بالکسر برائے حالت و نوع آید پس چون درین ماہ یک بار حج کردہ میشود لہذا ذی الحجہ گویند یا آنکہ حج بالخسر و تشدید جیم بمعنے سال ہم آمدہ است چوں ایں ماہ منتہائے سال باشد و سال برین کامل میگردد گویا کہ این ماہ صاحب سال بہیمین ذی الحجہ میگفتہ باشند.
(غیاث اللغات، ص: 239، ط: نظامی کانپور)

(3)معارف القرآن، ج: 4، ص:372 ط:ادارةالمعارف

(4)وجمهور العلماء على أن هذاهوَأَجْمَعَ الْعُلَمَاءُ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِأَشْهُرِ الْحَجِّ ثَلَاثَةٌ أَوَّلُهَا شَوَّالٌ
(فتح الباری، ج: 3،ص: 420،ط: دار المعرفة)

(5)الأيام المعلومات هي عشر ذي الحجة منهم ابن عمر وابن عباس والحسن وعطاء ومجاهد وعكرمة وقتادة والنخعي وهو قول أبي حنيفة والشافعي وأحمد في المشهور عنه.
( لطائف المعارف لابن رجب، ص: 471، ط: دارابن کثیر، بیروت)

(6)عن طارق بن شهاب، قالت اليهود لعمر: إنكم تقرءون آية لو نزلت فينا لاتخذناها عيدا، فقال عمر:" إني لاعلم حيث انزلت، واين انزلت، واين رسول الله صلى الله عليه وسلم حين انزلت يوم عرفة، وإنا والله بعرفة"، قال سفيان:" واشك كان يوم الجمعة ام لا، اليوم اكملت لكم دينكم سورة المائدة آية ٣۔
(بخاری حدیث نمبر:4606)

(7)عن انس، قال: قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة ولهم يومان يلعبون فيهما، فقال:" ما هذان اليومان؟" قالوا: كنا نلعب فيهما في الجاهلية، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إن الله قد ابدلكم بهما خيرا منهما: يوم الاضحى، ويوم الفطر".
(سنن ابی داود، حدیث نمبر: 1134)

(8)والصواب من القول في ذلك عندنا: أنها عشر الأضحى، لإجماع الحجة من أهل التأويل عليه۔
(تفسیر طبری،ج: 24،ص: 348، ط: دار ھجر)
أما اللیالي العشر فھي عشر ذي الحجة ھذا الصحیح الذي علیه جمھور المفسرین من السلف وغیرهم، و هو الصحيح عن ابن عباس‘‘
(لطائف المعارف للابن رجب، ص:470، ط: دار ابن کثیر)

(9)عن جابر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: والفجر وليال عشر، قال:"العشر عشر الأضحى، والوتر يوم عرفة، والشفع يوم النحر۔
(شعب الايمان للبيهقي، ج: 5، ص: 304، ط: مكتبة الرشد)

(10)وعن جابر أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: " «أفضل أيام الدنيا أيام العشر " يعني عشر ذي الحجة - قيل: ولا مثلهن في سبيل الله؟ قال: " ولا مثلهن في سبيل الله إلا رجل عفر وجهه في التراب ". وذكر يوم عرفة فقال: " يوم مباهاة» " فذكر الحديث. وقد تقدم بطوله.رواه البزار، وإسناده حسن، ورجاله ثقات.
( مجمع الزوائد و منبع الفوائد للھیثمی، ج:4، ص:17، ط:مكتبة القدسي)

(11)والذي يظهر أن السبب في امتياز عشر ذي الحجة لمكان اجتماع أمهات العبادة فيه وهي الصلاة والصيام والصدقة والحج ولا يتأتى ذلك في غيره‘‘
(فتح الباري لابن الحجر،ج:2،ص: 260، ط: دارالمعرفة)

(12)وسئل: (*)عن عشر ذي الحجة والعشر الأواخر من رمضان. أيهما أفضل؟فأجاب:أيام عشر ذي الحجة أفضل من أيام العشر من رمضان والليالي العشر الأواخر من رمضان أفضل من ليالي عشر ذي الحجة.
(مجموع الفتاوی لابن تیمیة،ج:25،ص:287،ط: مجمع الملك فهد، كذا في الشامية: ج٢،ص: 510،ط: دار الفكر بيروت)

(13) عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ما من ايام العمل الصالح فيهن احب إلى الله من هذه الايام العشر " فقالوا: يا رسول الله ولا الجهاد في سبيل الله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ولا الجهاد في سبيل الله إلا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشيء۔
(سنن الترمذی، حدیث نمبر:757)

(14)الأيام المعلومات هي عشر ذي الحجة۔
( لطائف المعارف لابن رجب، ص: 471، ط: دارابن کثیر، بیروت)
(15) عن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما من أيام أحب إلى الله فيهن العمل من هذه الأيام أيام العشر، فأكثروا فيهن التكبير والتهليل والتحميد"
(مصنف ابن أبي شيبة،ج:3،ص: 250،ط: مكتبة الرشد)
عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " ما من أيام أعظم عند الله، ولا أحب إليه من العمل فيهن من هذه الأيام العشر،فأكثروا فيهن من التهليل، والتكبير، والتحميد"
(مسند احمد، ج:9،ص: 324، حدیث نمبر :5446، ط: الرسالة)

(16)عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " ما من ايام احب إلى الله ان يتعبد له فيها من عشر ذي الحجة، يعدل صيام كل يوم منها بصيام سنة، وقيام كل ليلة منها بقيام ليلة القدر
( سنن الترمذی، حدیث نمبر:758)

(17)عن ابي قتادة الانصاري رضي الله عنه، رسول الله صلى الله عليه وسلم: سئل عن صومه، قال: " فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم "، فقال عمر رضي الله عنه: رضينا بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسولا وببيعتنا بيعة، قال: فسئل عن صيام الدهر، فقال: " لا صام ولا افطر، او ما صام وما افطر "، قال: فسئل عن صوم يومين وإفطار يوم، قال: " ومن يطيق ذلك "، قال: وسئل عن صوم يوم وإفطار يومين، قال: " ليت ان الله قوانا لذلك "، قال: وسئل عن صوم يوم وإفطار يوم، قال: " ذاك صوم اخي داود عليه السلام "، قال: وسئل عن صوم يوم الاثنين، قال: " ذاك يوم ولدت فيه، ويوم بعثت او انزل علي فيه "، قال: فقال: " صوم ثلاثة من كل شهر، ورمضان إلى رمضان صوم الدهر "، قال: وسئل عن صوم يوم عرفة، فقال: " يكفر السنة الماضية والباقية "، قال: وسئل عن صوم يوم عاشوراء، فقال: " يكفر السنة الماضية “
(صحیح مسلم، حدیث نمبر:2747)
(18)عن سهل بن سعد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من صام يوم عرفة غفر له ذنب سنتين متتابعتين"
(المعجم الكبير للطبراني، ج:6،ص: 179، ط: مكتبة ابن تيمية )

(من صام يوم عرفة غفر الله له سنتين سنة أمامه وسنة خلفه)(19)
وفي رواية لمسلم يكفر السنة التي قبله أي التي هو فيها والسنة التي بعده أي التي بعدها أي الذنوب الصادرة في العامين
قال النووي: والمراد غير الكبائر ۔
وقال البلقيني: الناس أقسام: منهم من لا صغائر له ولا كبائر فصوم عرفة له رفع درجات ومن له صغائر فقط بلا إصرار فهو مكفر له باجتناب الكبائر ومن له صغائر مع الإصرار فهي التي تكفر بالعمل الصالح كصلاة وصوم ومن له كبائر وصغائر فالمكفر له بالعمل الصالح الصغائر فقط ومن له كبائر فقط يكفر عنه بقدر ما كان يكفر من الصغائر۔
(فیض القدیر للمناوی، ج:6، ص:162،ط:المكتبة التجارية الكبرى)

(20)عن ام سلمة ، ان النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " إذا رايتم هلال ذي الحجة واراد احدكم ان يضحي، فليمسك عن شعره واظفاره۔
(صحیح مسلم، حدیث نمبر: 5119، جامع الترمذي، حدیث نمبر:1523،سنن أبي داود، حدیث نمبر:2791، سنن ابن ماجه، حدیث نمبر:3150،سنن النسائى الصغرى، حدیث نمبر:4366
(21) ﻭﻣﻤﺎ ﻭﺭﺩ ﻓﻲ ﺻﺤﻴﺢ ﻣﺴﻠﻢ ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ - ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ - «ﺇﺫا ﺩﺧﻞ اﻟﻌﺸﺮ ﻭﺃﺭاﺩ ﺑﻌﻀﻜﻢ ﺃﻥ ﻳﻀﺤﻲ ﻓﻼ ﻳﺄﺧﺬﻥ ﺷﻌﺮا ﻭﻻ ﻳﻘﻠﻤﻦ ﻇﻔﺮا» ﻓﻬﺬا ﻣﺤﻤﻮﻝ ﻋﻠﻰ اﻟﻨﺪﺏ ﺩﻭﻥ اﻟﻮﺟﻮﺏ ﺑﺎﻹﺟﻤﺎﻉ.
(الشامية: ج:2، ص:181،ط:دار الفكر بيروت )
(22) ذهب الجمهور إلى تحريم صوم الأيام التالية: صوم يوم عيد الفطر، ويوم عيد الأضحى، وأيام التشريق، وهي ثلاثة أيام بعد يوم النحر۔
(الموسوعة الفقهية الكويتية، ج:28، ص: 17، ط:وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية ،كويت)
والثاني" الذي كره تحريما "صوم العيدين" الفطر والنحر للإعراض عن ضيافة الله ومخالفة الأمر "و" منه صوم "أيام التشريق" لورود النهي عن صيامها وهذا التقسيم ذكره المحقق الكمال بن الهمام رحمه الله وقد صرح بحرمة صوم العيدين وأيام التشريق في البرهان۔
(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح ص:640،ط: دار الكتب العلمية بيروت )

(23)صوم عيد الفطر والأضحى وأيام التشريق بعده: مكروه تحريما عن الحنفية، حرام لا يصح عند باقي الأئمة ، سواء أكان الصوم فرضا أم نفلا، ويكون عاصيا إن قصد صيامها، ولا يجزئه عن الفرض لما روى أبو هريرة: «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن صيام يومين: يوم فطر، ويوم أضحى"
والنهي عند غير الحنفية يقتضي فساد المنهي عنه وتحريمه. وروى مسلم في صحيحه عن النبي صلى الله عليه وسلم: «أيام منى أيام أكل وشرب وذكر الله تعالى"
وقصر المالكية تحريم صوم التشريق على يومين بعد الأضحى،
وقال الجمهور: ثلاثة أيام بعده، وأما صوم اليوم الرابع عند المالكية فمكروه فقط۔
(الفقه الإسلامي و أدلته، ج:3ص:1634،ط: مكتبہ رشیدیہ، کوئٹہ، کذا فی مجمع الانهر، ج:1، ص: 232، ط: داراحیاءالتراث العربی)

(24) وﺃﻣﺎ ﻋﻨﺪﻫﻤﺎ ﻓﻬﻮ ﻭاﺟﺐ ﻋﻠﻰ ﻛﻞ ﻣﻦ ﻳﺼﻠﻲ اﻟﻤﻜﺘﻮﺑﺔ؛ ﻷﻧﻪ ﺗﺒﻊ ﻟﻬﺎ ﻓﻴﺠﺐ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺴﺎﻓﺮ ﻭاﻟﻤﺮﺃﺓ ﻭاﻟﻘﺮﻭﻱ ﻗﺎﻝ ﻓﻲ اﻟﺴﺮاﺝ اﻟﻮﻫﺎﺝ ﻭاﻟﺠﻮﻫﺮﺓ ﻭاﻟﻔﺘﻮﻯ ﻋﻠﻰ ﻗﻮﻟﻬﻤﺎ ﻓﻲ ﻫﺬا ﺃﻳﻀﺎ ﻓﺎﻟﺤﺎﺻﻞ ﺃﻥ اﻟﻔﺘﻮﻯ ﻋﻠﻰ ﻗﻮﻟﻬﻤﺎ ﻓﻲ ﺁﺧﺮ ﻭﻗﺘﻪ ﻭﻓﻲﻣﻦ ﻳﺠﺐ ﻋﻠﻴﻪ۔
(البحر الرائق، ج:2،ص:179،ط:دارالکتاب الاسلامی )

(25)ﺃﻭﻟﻪ (ﻣﻦ ﻓﺠﺮ ﻋﺮﻓﺔ) ﻭﺁﺧﺮﻩ (ﺇﻟﻰ ﻋﺼﺮ اﻟﻌﻴﺪ) ﺑﺈﺩﺧﺎﻝ اﻟﻐﺎﻳﺔ ﻓﻬﻲ ﺛﻤﺎﻥ ﺻﻠﻮاﺕ ﻭﻭﺟﻮﺑﻪ (ﻋﻠﻰ ﺇﻣﺎﻡ ﻣﻘﻴﻢ) ﺑﻤﺼﺮ (ﻭ) ﻋﻠﻰ ﻣﻘﺘﺪ (ﻣﺴﺎﻓﺮ ﺃﻭ ﻗﺮﻭﻱ ﺃﻭ اﻣﺮﺃﺓ) ﺑﺎﻟﺘﺒﻌﻴﺔ ﻟﻜﻦ اﻟﻤﺮﺃﺓ ﺗﺨﺎﻓﺖ ﻭﻳﺠﺐ ﻋﻠﻰ ﻣﻘﻴﻢ اﻗﺘﺪﻯ ﺑﻤﺴﺎﻓﺮ (ﻭﻗﺎﻻ ﺑﻮﺟﻮﺑﻪﻓﻮﺭ ﻛﻞ ﻓﺮﺽ ﻣﻄﻠﻘﺎ) ﻭﻟﻮ ﻣﻨﻔﺮﺩا ﺃﻭ ﻣﺴﺎﻓﺮا ﺃﻭ اﻣﺮﺃﺓ ﻷﻧﻪ ﺗﺒﻊ ﻟﻠﻤﻜﺘﻮﺑﺔ (ﺇﻟﻰ) ﻋﺼﺮ اﻟﻴﻮﻡ اﻟﺨﺎﻣﺲ (ﺁﺧﺮ ﺃﻳﺎﻡ اﻟﺘﺸﺮﻳﻖ ﻭﻋﻠﻴﻪ اﻻﻋﺘﻤﺎﺩ) ﻭاﻟﻌﻤﻞ ﻭاﻟﻔﺘﻮﻯ ﻓﻲ ﻋﺎﻣﺔ اﻷﻣﺼﺎﺭ ﻭﻛﺎﻓﺔ اﻷﻋﺼﺎﺭ۔
(الدرالمختار، ج:2،ص: 180، ط: دار الفكر بيروت )

(26)عن الحارث عن علي رضي الله عنه أنه كان يكبر من صلاة الغداة يوم عرفة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق يقول الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله والله أكبر ولله الحمد۔(فضل عشر ذی الحجةللطبراني، ج:1،ص: 48،ط:مكتبة العمرين العلمية )
عن أبي الأحوص، عن عبد الله " أنه كان يكبر أيام التشريق: الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله، والله أكبر، الله أكبر، ولله الحمد۔
( مصنف ابن أبي شيبة،ج:1،ص: 490، ط: مکتبة الرشد )

(27) فقد اﺧﺘﻠﻔﺖ اﻟﺮﻭاﻳﺎﺕ ﻋﻦ اﻟﺼﺤﺎﺑﺔ - ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﻢ - ﻓﻲ ﺗﻔﺴﻴﺮ اﻟﺘﻜﺒﻴﺮ، ﺭﻭﻱ اﻟﻠﻪ ﺃﻛﺒﺮ اﻟﻠﻪ ﺃﻛﺒﺮ ﻻ ﺇﻟﻪ ﺇﻻ اﻟﻠﻪ، ﻭاﻟﻠﻪ ﺃﻛﺒﺮ اﻟﻠﻪ ﺃﻛﺒﺮ ﻭﻟﻠﻪ اﻟﺤﻤﺪ ﻭﻫﻮ ﻗﻮﻝ ﻋﻠﻲ ﻭاﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ - ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﻤﺎ -، ﻭﻛﺎﻥ اﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﻳﻘﻮﻝ: اﻟﻠﻪ ﺃﻛﺒﺮ اﻟﻠﻪ ﺃﻛﺒﺮ اﻟﻠﻪ ﺃﻛﺒﺮ ﻭﺃﺟﻞ، اﻟﻠﻪ ﺃﻛﺒﺮ ﻭﻟﻠﻪ اﻟﺤﻤﺪ، ﻭﺑﻪ ﺃﺧﺬ اﻟﺸﺎﻓﻌﻲ.ﻭﻛﺎﻥ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﻳﻘﻮﻝ: اﻟﻠﻪ ﺃﻛﺒﺮ اﻟﻠﻪ ﺃﻛﺒﺮ ﻻ ﺇﻟﻪ ﺇﻻ اﻟﻠﻪ اﻟﺤﻲ اﻟﻘﻴﻮﻡ ﻳﺤﻴﻲ ﻭﻳﻤﻴﺖ ﻭﻫﻮ ﻋﻠﻰ ﻛﻞ ﺷﻲء ﻗﺪﻳﺮ، ﻭﺇﻧﻤﺎ ﺃﺧﺬﻧﺎ ﺑﻘﻮﻝ ﻋﻠﻲ ﻭاﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ - ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﻤﺎ -؛ ﻷﻧﻪ اﻟﻤﺸﻬﻮﺭ ﻭاﻟﻤﺘﻮاﺭﺙ ﻣﻦ اﻷﻣﺔ؛ ﻭﻷﻧﻪ ﺃﺟﻤﻊ ﻻﺷﺘﻤﺎﻟﻪ ﻋﻠﻰ اﻟﺘﻜﺒﻴﺮ ﻭاﻟﺘﻬﻠﻴﻞ ﻭاﻟﺘﺤﻤﻴﺪ ﻓﻜﺎﻥ ﺃﻭﻟﻰ۔
(بدائع الصنائع، ج1، ص: 195، ط: دارالکتب العلمیہ بیروت)

(28)عن عائشة، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ما عمل ابن آدم يوم النحر عملا أحب إلى الله عز وجل، من هراقة دم، وإنه ليأتي يوم القيامة، بقرونها، وأظلافها، وأشعارها، وإن الدم، ليقع من الله عز وجل، بمكان قبل أن يقع على الأرض، فطيبوا بها نفسا"۫
( سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 3126)

والله أعلم بالصواب

Print Views: 559

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com