ڈاکٹر کا مریض کو اطمینان، تسلی اور حوصلہ دینا
(باشتراک املا و دارالافتاءالاخلاص)

ڈاکٹر کا مریض کو اطمینان،تسلی اور حوصلہ دینا
طبی اخلاقیات میں سے ایک اہم اخلاق مریض کو اس کی صحت سے متعلق اطمینان ،تسلی اور حوصلہ دینا ہے،احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مریض کے ڈر اور خوف کو دُور کرنا بھی اسلامی تعلیمات میں سے ہے۔

چنانچہ ایک حدیث میں ہے،آپﷺ نے ارشادفرمایا :’’جب تم مریض کے پاس جا ؤ، تو اس کی زندگی کے بارے میں اس کا غم دور کرو (یعنی تسلی و تشفی دلاؤ کہ فکر و غم نہ کرو تم جلد ہی صحت یاب ہوجاؤ گے اور تمہاری عمر دراز ہوگی ) اس لئے کہ (یہ تسلی و تشفی اگرچہ) کسی چیز کو (یعنی مقدر کے لکھے کو) ٹال نہیں سکتی (مگر) مریض کا دل (ضرور)خوش ہوتا ہے۔‘‘
(صحيح البخاري، حدیث نمبر: 3616)

اسی طرح آپ ﷺ جب کسی مریض کی عیادت کے لیے تشریف لےجاتے تو اس کو تسلی دینے کے لیے یہ ارشاد فرماتے: " لابأس طهور ان شاء الله"
ترجمہ:"(اس بیماری سے تمہارا) کوئی حرج نہیں ہے،( لہٰذا گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے)، ان شاء اللہ یہ تمہارے لئے (گناہوں سے ) پاکی کا سبب ہوگا"۔
(سنن الترمذي، حدیث نمبر: 2087)

مذکورہ بالا احادیث سے یہ تعلیم ملتی ہے کہ ڈاکٹر کو چاہیےکہ جب اس کے پاس کوئی مریض آئے، تو اس کو تسلی اور اطمینان دلائے،تاکہ بیماری سے متعلق اس کا خوف دو رہو اور وہ ذہنی طور پر پُرسکون ہوکر اپنا علاج کروائے،نیز ڈاکٹرکے اچھے ہونے کی ایک نشانی یہ بھی سمجھی جاتی ہے کہ وہ مریض کو نفسیاتی طور پر مطمئن کردے،چنانچہ علاج کے اس طریقۂ کار کو آج کی میڈیکل سائنس نفسیاتی علاج (Psychotherapy ) سے تعبیر (Interpret)کرتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحيح البخاري: (4/ 202، رقم الحدیث: 3616
حدثنا معلى بن أسد، حدثنا عبد العزيز بن مختار، حدثنا خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل على أعرابي يعوده، قال: وكان النبي صلى الله عليه وسلم إذا دخل على مريض يعوده قال: «لا بأس، طهور إن شاء الله» فقال له: «لا بأس طهور إن شاء الله» قال: قلت: طهور؟ كلا، بل هي حمى تفور، أو تثور، على شيخ كبير، تزيره القبور، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «فنعم إذا»

سنن الترمذي: (ج:4، ص:412، رقم الحدیث: 2087)
إذا دخلتم على المريض فنفسوا له في أجله ، فإن ذلك لا يرد شيئا، ويطيب بنفسه.(ترمذی و ابن ماجة).


Print Views: 242

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.