عنوان: نہار منہ پانی پینا   (100100-No)

سوال: نہار منہ پانی پینے سے متعلق کیا حقیقت ہے؟

جواب:
کتبِ حدیث میں نہار منہ پانی پینے کے نقصان دہ ہونے کے بارے میں روایات موجود ہیں، جب کہ بعض روایات میں نہار منہ پانی پینے کا تذکرہ بھی موجود ہے، دونوں طرح کی روایات اور ان سے متعلق تحقیق ملاحظہ ہو:

نہار منہ پانی پینے کے نقصان دہ ہونے کے دلائل:

کتبِ حدیث میں نہار منہ پانی پینے کی ممانعت کے بارے میں درج ذیل روایات موجود ہیں، لیکن یہ روایت کمزور ہیں:

1۔ پہلی روایت ،حدیث ابی ہریرہ:

  "المعجم  الاوسط"میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا  کہ جو شخص نہار منہ پانی پیتا ہے اس کی قوت کم ہوجاتی ہے۔

تبصرہ:

امام طبرانی رحمہ اللہ نے"المعجم  الاوسط" میں اس روایت کے متعلق  یہ تبصرہ کیا ہے کہ اس سند سے اس حدیث کو رسول اللہ ﷺ سے صرف "عبد الاول معلم" نے نقل کیا ہے۔

حافظ نور الدین ہیثمی رحمہ اللہ نے اس روایت کے متعلق فرمایا ہے کہ اس کی سند میں ایسے  مجہول راوی ہیں جنہیں میں نہیں جانتا۔

حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس روایت کا متن اور سند دونوں غریب ہیں۔

علامہ اسماعیل بن محمد عجلونی رحمہ اللہ "کشف الخفاء"میں رقم طرازہیں کہ اس روایت کی سند کمزور ہے۔

 

2۔ دوسری روایت،حدیث  ابی سعید خدری:

"المعجم الاوسط "میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے بھی یہ روایت انہی الفاظ کے ساتھ منقول ہے۔

تبصرہ:

امام طبرانی رحمہ اللہ نے اس روایت پریہ تبصرہ کیا ہے کہ اس روایت کو  "زید بن اسلم" سے صرف ان کے بیٹے "عبدالرحمن" نےنقل کیا ہے، ان سے صرف "ابو اسلم" نے نقل کیا ہے۔

حافظ  ہیثمی رحمہ اللہ نےاس روایت کے بارے میں لکھا ہے کہ اس میں "محمد بن مخلد الرعینی" ضعیف راوی ہے۔

علامہ اسماعیل بن محمد عجلونی رحمہ اللہ  لکھتے ہیں کہ اس روایت کی سند کمزور ہے۔

3۔ تیسری روایت:

            علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ اپنی سند سےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ نہار منہ پانی پیناچربی بڑھاتا ہے۔

تبصرہ:

یہ روایت موضوع ہے،علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ نے سند بیان کرنے کے ضمن میں اس کے راوی "عاصم بن سلیمان عبدی" کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ حدیثیں گھڑتا تھا، میں نے اس جیسا شخص  کبھی نہیں دیکھا ،یہ  ایسی حدیثیں بیان کرتا ہے جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی۔

مزید فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات کا بہت ڈر ہے کہ اس حدیث کے گھڑنے کا مقصد شریعت کے ساتھ برائی کا ارادہ ہے، ورنہ پانی میں کیا ہے جو وہ چربی پیدا کرے؟

ابن طاہر مقدسی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں کہ اس روایت میں "عاصم بن سلیمان کوزی" ہے، یہ موضوع روایتیں بیان کرتا ہے، اس کی حدیث لکھنا حلال نہیں۔

4۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا قول:

            امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چار چیزیں بدن کو کمزور کرتی ہیں: کثرتِ جماع، غموں کی زیادتی، نہار منہ پانی پینے کی کثرت اور کھٹی چیزیں زیادہ کھانا۔

5۔ بہشتی زیور:

مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ بہشتی زیور میں لکھتے ہیں کہ "سوتے اٹھ کر فورا پانی نہ پیو اور نہ یکلخت ہوا میں نکلو، اگر بہت ہی پیاس ہے تو عمدہ تدبیر یہ ہے کہ ناک پکڑ کر پانی پیواور ایک ایک گھونٹ کرکے پیو اور پانی پی کر ذرا دیر تک ناک پکڑے رہو، سانس ناک سے مت لو۔۔۔ اسی طرح نہار منہ نہ پینا چاہیے۔۔۔"

نہار منہ پانی پینے کے بے ضرر ہونے پر دلائل:

1۔ پہلی روایت:

امام طبرانی رحمہ ا للہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس شخص کو اس بات سے خوشی ہو کہ اللہ تعالی اسے قرآن کریم اور دیگر مختلف علوم یاد کرانے کے قابل بنائے اسے چاہیے کہ وہ یہ دعا ایک صاف برتن یا شیشے کی پلیٹ میں شہد ، زعفران اور بارش کے پانی سے لکھ کر اسے نہار منہ پیے، تین دن روزہ رکھے اور اسی پانی سے افطار کرے، ان شاء اللہ وہ قرآن اور دیگر علوم یاد کرلے گا، اور اس دعا کو ہر فرض نماز کے بعد پڑھے، وہ دعا یہ ہے : "اللهم إني أسألك بأنك مسئول لم يسأل مثلك ولا يسأل۔۔۔" الخ

علامہ جلال  الدین سیوطی رحمہ اللہ نے "اللآلي المصنوعة"میں  اور حافظ ابن عراق نے "تنزيه الشریعة" میں اسے موضوع قرار دیا ہے۔

2۔ نہار منہ شہد ملا پانی پینے کی روایت:

نبی کریم ﷺ کی عادت تھی کہ آپ ﷺ نہار منہ شہد ملا پانی پیتے تھے۔ حافظ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شہد کو نہار منہ پینا اور چاٹنا بلغم ختم کرتا ہے، معدہ  کے اندرونی حصہ کو صاف کرتا ہے ، اس کی چکنائی کو تازگی بخشتا ہے  اور اس سے فضلات کو دور کرتا ہے۔

3۔ وضو کا بچا ہوا پانی پینے والی  روایت:

صحیح بخاری اور دیگر حدیث کی کتب میں صحیح سند کے ساتھ یہ روایتیں موجود ہیں کہ نبی کریم ﷺ وضو کے بعد بچے ہوئے پانی کو پی لیتے تھے۔ ان احادیث میں تہجد اور فجر کی نماز کے لیے وضو کرتے وقت بچے ہوئے پانی کو نہ پینے کی قید  یا ممانعت موجود نہیں، اس وقت انسان نہار منہ ہوتا ہے۔

4۔ اطباء کا موقف:

دور حاضر کے کئی طبیبوں اور ڈاکٹروں نے نہار منہ پانی پینے کے کئی فوائد گنوائے ہیں۔

ضعیف روایت کا حکم:

 ضعیف روایت کا حکم یہ ہے کہ اس سے حکم ثابت نہیں ہوتا، تاہم  یہ فضائل کے ابواب میں قابلِ قبول ہے، البتہ اس پر عمل کرنے کی تین شرائط ہیں:

            1۔ شدید ضعف نہ ہو، لہذا اگرجھوٹ بولنے والے ،جن پر جھوٹ کی تہمت ہو یا جن کی غلطیاں بہت واضح ہوں، کسی روایت میں منفرد ہو ں تو وہ اس حکم سے خارج ہے۔

            2۔ وہ حکم شریعت کے کسی کلی اصل کے تحت داخل ہو، لہذا اگرکوئی روایت ایسی ہے جس کی کوئی اصل نہ ہو اس کے لیے یہ حکم نہیں ہے۔

            3۔ اس پر عمل کے وقت اس کے ثبوت کا اعتقاد نہ ہو ،تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف وہ بات منسوب نہ ہو جو انہوں نے کہی نہیں ہے۔

خلاصہ:

 اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ نہار منہ پانی پینے کی ممانعت سے متعلق روایات سندًا کمزور ہیں، احتیاطاً اس حکم کے ثبوت کا اعتقاد نہ رکھے،بعض عمومی روایات سے نہار منہ پانی پینے کا ثبوت ملتا ہے؛اس لیے اس مسئلے کوجائز و ناجائز اور حلال و حرام سے جوڑنا درست نہیں، بلکہ یہ  ایک طبی اورطبعی مسئلہ ہے،اس لیے جسے خواہش یا ضرورت ہو اوراسے نقصان نہ کرتا ہووہ پی لے اور جسے چاہت یا ضرورت نہ ہویا اس کے لیے مضر ہو تو نہ پیے۔

ماکولات و مشروبات میں مزید فتاوی

15 Sep 2019
اتوار 15 ستمبر - 15 محرّم 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2019. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com