resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: اہلِ تشیع کے گھر کا کھانا اور نیاز وغیرہ کھانے کا حکم

(39806-No)

سوال: السلام علیکم،میرا سوال یہ ہے کہ کیا اہل تشیع آفس کے کولیگ کے ساتھ کھانا کھانا جائز ہے یا نہیں؟ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ ہم سب آفس والے اکٹھے کھانا کھاتے ہیں تو سب اپنا اپنا گھر سے لایا ہوا کھانا ایک ہی ٹیبل پر رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کی چیزیں بھی کھاتے ہیں۔ ہمارا جو اہل تشیع با کولیگ ہے وہ کبھی کبھار یہ بتاتا ہے کہ گھر میں نیاز تھی یا فلاں سلسلے میں، یا گھر میں کوئی دینی تقریب تھی، اس لیے کھانا بنایا تھا تو کیا ہم وہ کھانا کھا سکتے ہیں جو وہ اپنے لنچ کے طور پر آفس لاتا ہے؟ اکثر جب اس کے گھر نیاز ہوتی ہے تو وہ زیادہ کھانا لے آتا ہے اور کبھی کبھار ہم سب دوست وہی کھا لیتے ہیں۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

جواب: واضح رہے کہ اگر کھانا بذاتِ خود حلال ہو اور اس میں کوئی حرام چیز شامل نہ ہو تو عام حالات میں اہلِ تشیع کے ساتھ ان کے گھر کا کھانا کھانے کی گنجائش ہے، تاہم اسے روز مرّہ کی مستقل عادت بنانا درست نہیں ہے۔ نیز آپ کی پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ کا اہلِ تشیع دوست نیاز وغیرہ کا کھانا بھی لاتا ہے، جو اہل تشیع کے ہاں بعض اوقات غیر اللہ کے نام پر ہوتی ہے، اس لیے ایسی نیاز کا کھانا کھانا شرعاً جائز نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الكريم:(سورة البقرة،الآية:173)
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ ۖ

الفتاوى الهندية:(كتاب الكراهية،الباب الرابع عشر في أهل الذمة والأحكام التي تعود إليهم،5/ 347،ط: دار الفكر)
قال محمد - رحمه الله تعالى - ويكره الأكل والشرب في أواني المشركين قبل الغسل ومع هذا لو أكل أو شرب فيها قبل الغسل جاز ولا يكون آكلا ولا شاربا حراما وهذا إذا لم يعلم بنجاسة الأواني فأما إذا علم فأنه لا يجوز أن يشرب ويأكل منها قبل الغسل ولو شرب أو أكل كان شاربا وآكلا حراما .... وحكي عن الحاكم الإمام عبد الرحمن الكاتب أنه إن ابتلي به المسلم مرة أو مرتين فلا بأس به وأما ‌الدوام ‌عليه فيكره كذا في المحيط.

واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Halaal & Haram In Eatables