سوال:
کچھوے کے خول یا کسی بھی حرام جانور کی ہڈی کو نمک کے درمیان رکھ کر سات یا آٹھ گھنٹے تک آگ دی جائے، جس کے نتیجے میں وہ مکمل طور پر کشتہ یا راکھ بن جائے توکیا اس کشتہ یا راکھ کو کھانا شریعت کے مطابق جائز ہے یا نہیں؟
جواب: واضح رہے کہ اگر کسی چیز کی حقیقت دوسری چیز میں بذات خود یا کسی کیمیاوی عمل وغیرہ کے ذریعے اس طور پر تبدیل ہوجائے کہ اس کی سابقہ حقیقت اور اس کے صفات خاصہ بالکلیہ تبدیل ہو جائیں تو اس تبدیلی سے اس کا حکم بھی بدل جاتا ہے، مثلاً: انگور کی شراب ناپاک ہے، لیکن اگر وہ سرکہ میں تبدیل ہو جائے تو وہ ایک پاک اور حلال غذا بن جاتی ہے۔
سوال میں ذکر کردہ صورت میں اگر مذکورہ عمل سے واقعتاً کچھوے کے خول یا حرام جانور کی ہڈی راکھ میں تبدیل ہوجاتی ہے تو اس کا کھانا جائز ہوگا بشرطیکہ مضر صحت نہ ہو، البتہ کشتہ میں انقلاب ماہیت ہو جاتا ہے یا نہیں؟ یہ ایک قابل تحقیق عمل ہے، لہذا انقلاب ماہیت کی مکمل یقین دہانی کے بعد ہی اس کشتے کا استعمال جائز ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (316/1، ط: دار الفکر)
وعلى هذا إذا تنجس السمسم ثم صار طحينة يطهر، خصوصا وقد عمت به البلوى وقاسه على ما إذا وقع عصفور في بئر حتى صار طينا لا يلزم إخراجه لاستحالته.قلت: لكن قد يقال: إن الدبس ليس فيه انقلاب حقيقة؛ لأنه عصير جمد بالطبخ؛ وكذا السمسم إذا درس واختلط دهنه بأجزائه ففيه تغير وصف فقط؛ كلبن صار جبنا، وبر صار طحينا، وطحين صار خبزا؛ بخلاف نحو خمر صار خلا وحمار وقع في مملحة فصار ملحا، وكذا دردي خمر صار طرطيرا وعذرة صارت رمادا أو حمأة، فإن ذلك كله انقلاب حقيقة إلى حقيقة أخرى لا مجرد انقلاب وصف كما سيأتي - والله أعلم -.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی