عنوان: حکومت میں بدعنوان عناصر کی وجہ سے بجلی چوری کرنا (10328-No)

سوال: ہمارے ہاں ایک مسئلہ مشہور ہے کہ ساری گورنمنٹ چور ہے، لہذا بجلی چوری کرنے کا گناہ نہیں ہے، کیا یہ بات صحیح ہے؟

جواب: واضح رہے کہ سرکاری بجلی کسی سرکاری عہدے دار کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتی، بلکہ یہ قومی ملکیت ہوتی ہے، سرکاری بجلی کی چوری بھی اسی طرح جرم اور گناہ ہے جس طرح کسی ایک فرد کی چوری کرنا جرم اور گناہ ہے، بلکہ قومی ملکیت میں سے چوری کرنا زیادہ سنگین گناہ ہے، کیونکہ ایک شخص سے کوئی چیز چرا کر اس سے معافی مانگنا تو آسان ہے، لیکن کروڑوں لوگوں کی ملکیت میں سے کوئی چیز چوری کرنے کے بعد ان سے معافی مانگنا ناممکن ہے، لہذا سرکاری بجلی چوری کرنا شرعا، اخلاقا اور قانونا جرم ہے۔
ہاں! زائد Billing کو Adjust کروانے کے لیے ممکنہ قانونی طریقوں پر عمل کرسکتے ہیں۔
جہاں تک بات ہے حکومت میں بدعنوان عناصر کی موجودگی کی تو اس بارے میں محض الزام سے فیصلہ کرنا اور سنی سنائی باتوں پر یقین کرنا غلط ہے، نیز اگر بالفرض وہ بدعنوان ہوں، تب بھی سرکاری بجلی کے چوری کرنے کا فتوی نہیں دیا جاسکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

رد المحتار: (كتاب السرقة، 82/4، ط: دار الفکر)
"قال القهستاني: وهي نوعان؛ لأنه إما أن يكون ضررها بذي المال أو به وبعامة المسلمين، فالأول يسمى بالسرقة الصغرى والثاني بالكبرى، بين حكمها في الآخر؛ لأنها أقل وقوعا وقد اشتركا في التعريف وأكثر الشروط اه أي؛ لأن المعتبر في كل منهما أخذ المال خفية، لكن الخفية في الصغرى هي الخفية عن غين المالك أو من يقوم مقامه كالمودع والمستعير. وفي الكبرى عن عين الإمام الملتزم حفظ طرق المسلمين وبلادهم كما في الفتح".

الفتاوى الهندية: (کتاب الکراهية، الباب الثلاثون فی المتفرقات، 373/5، ط: دار الفکر)
"ولا يجوز حمل تراب ربض المصر لأنه حصن فكان حق العامة فإن انهدم الربض ولا يحتاج إليه جاز كذا في الوجيز للكردري".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 512 Mar 05, 2023
hokomat /hokumat / government me / mein bad unwan anasir / logo ki waja se / say bijli chori karna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.