سوال:
میرا فینٹسی کتابیں لکھنے کے بارے میں ایک سوال ہے،میں نے اس موضوع پر مختلف آراء دیکھی ہیں، مجھے لکھنا اور کتابیں پڑھنا پسند ہے اور ان میں سے بعض کتابوں میں جادو کی منظر کشی ہوتی ہے، جیسے پانی کو قابو میں کرنا، چیزوں کو اڑانا، جانوروں سے بات کرنا وغیرہ۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کی تحریر صرف وقت کا ضیاع ہونے کی وجہ سے ناپسندیدہ ہے یا پھر یہ اس لیے بھی حرام ہے کہ اس میں جادو کی تصویر کشی کی جاتی ہے؟ (اگرچہ وہ جادو نہیں ہے جس کا ذکر اسلام میں آتا ہے) اگر میں ایسی کہانیاں لکھوں جن میں کردار اس قسم کا جادو استعمال کرتے ہوں تو کیا میں گناہ کا ارتکاب کر رہا ہوں؟
جواب: واضح رہے کہ جادوئی کردار والی فرضی کہانیوں میں جھوٹ اور خوف پیدا کرنے والی باتوں کا عنصر موجود ہوتا ہے، جبکہ ناول اور افسانوں (Fantasy books) کے لکھنے کے ناجائز ہونے کی وجوہات میں وقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ وحشت پیدا کرنے والی باتیں، جھوٹ اور فحش گوئی وغیرہ بھی پائی جاتی ہے، لہٰذا مذکورہ جادوئی کردار والی کہانیاں لکھنا بھی جائز نہیں ہے۔
لہذا اگر اس کے بجائے مستند اسلامی تاریخ کے واقعات کو ناول یا کہانی کے طرز پر لکھنے کو اختیار کیا جائے تو لکھنے کے مشغلے میں مصروف ہونے کے ساتھ ساتھ قلم کی ترقی اور آخرت کے ذخیرے کے لیے یہ بہت بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
القرآن الکریم: (النور، الایة: 19)
إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَاتَعْلَمُونَ
وقوله تعالی: (لقمان، الایة: 6)
ومن الناس من یشتري لھو الحدیث لیضل عن سبیل اللہ بغیر علم....الخ
احکام القرآن للتھانوی: (200/3)
وفذلکة الکلام أن اللھو علی أنواع؛ لھو مجرد، ولھو فیہ نفع وفائدة ولکن ورد الشرع بالنھي عنہ، ولھو فیہ فائدة ولم یرد فی الشرع نھي صریح عنہ ولکنہ ثبت بالتجربة أنہ یکون ضررہ أعظم من نفعہ ملتحق بالمنھي عنہ، ولھو فیہ فائدة ولم یرد الشرع بتحریمہ ولم یغلب علی نفعہ ضررہ ولکن یشتغل فیہ بقصد التلھي،ولھو فیہ فائدة مقصودة ولم یرد الشرع بتحریمہ ولیس فیہ مفسدة دینیة واشتغل بہ علی غرض صحیح لتحصیل الفائدة المطوبة لا بقصد التلھي، فھذہ خمسة أنواع، لا جائز فیھا إلا الأخیر الخامس فھو أیضاً لیس من إباحة اللھو في شییٴ؛بل إباحة ما کان لھواً صورة ثم خرج عن اللھویة بقصد صالح وغرض صحیح فلم یبق لھوا اھ
کتاب النوازل: (561/16، ط: المرکز العلمی للنشر والتحقیق مراد آباد)
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی