resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ثَنَایَا (Sanaya) نام رکھنے کا حکم(10508-No)

سوال: میری بیٹی کا نام ثنایا ہے، کیا یہ نام رکھنا صحیح ہے؟

جواب: "ثَنَایَا" ( ثا، نون اور یا کے زبر کے ساتھ) عربی لفظ "ثنیة" کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں "سامنے کے چار دانت"۔ ثنایا (Sanaayaa/Thanaayaa) نام معنیٰ کے اعتبار سے بے مقصد اور بے معنی ہے، لہٰذا اس کے ‏بجائے ازواج مطہرات یا دیگر صحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے کوئی نام یا کوئی اور اچھے معنیٰ والا نام رکھ ‏لیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

سنن ابی داؤد: (رقم الحدیث: 4948، ط: دار الرسالة العلمیة)
عن أبي الدرداء قال: قال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: تُدعون یوم القیامة بأسمائکم وأسماء آبائکم فأحسنوا أسمائکم․

مصباح اللغات: (ص: 97، ط: دار الاشاعت)
الثنیة: سامنے کے اوپر کے نیچے کے دو دو دانت، ج؛ ثنایا۔

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

sanaya naam rakhne / rakhnay ka hokom /hokum, Sanaya/Sanaaya/Sanaayaa/ثنایا

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Islamic Names