عنوان: والد صاحب کی طرف سے یونیورسٹی جانے کیلئے دی گئی کرایہ کی رقم سے کچھ پیسے بچا کر اپنی دیگر ضروریات میں استعمال کرنا(11002-No)

سوال: مجھے والد صاحب یونیورسٹی جانے کا کرایہ دیتے ہیں، جسے میں بچت کردیتا ہوں، کچھ راستہ کسی دوست کے ساتھ طے کرکے اور کچھ راستہ پیدل چل کے اور وہ رقم اپنے لنچ اور دیگر ضروریات میں استعمال کردیتا ہوں، کیا ایسا کرنا میرے لیے ٹھیک ہے؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں والد صاحب کی طرف سے کرایہ کی مد میں دی جانے والی رقم آپ کیلئے ہدیہ(gift) ہے، جسے آپ اپنی جائز ضروریات میں استعمال کرسکتے ہیں، تاہم اگر والد صاحب نے کسی مصلحت کے تحت اس طرح پیدل یا کسی کے ساتھ راستہ طے کرنے سے واضح طور پر منع کیا ہو، جس میں آپ ہی کا فائدہ ہو تو ایسی صورت میں حتی الامکان ان کی اطاعت ضروری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

بدائع الصنائع: (127/6، ط: دار الکتب العلمیة)
أما أصل الحكم فهو ثبوت الملك للموهوب له في الموهوب من غير عوض لأن الهبة تمليك العين من غير عوض فكان حكمها ملك الموهوب من غير عوض

مجلة الاحکام العدلیة: (230/1، ط: نور محمد کتب خانه)
المادۃ - 1192: کل یتصرف فی ملکه کیفما شاء، لکن اذا تعلق به حق الغیر فیمنع المالك من تصرفه علی وجه الاستقلال.

واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 206 Sep 05, 2023
walid sahib ki taraf se / say university jane / janey k liye de gai raqam se / say kuch pese / pesey bacha kar apni degar / deegar zaroryat / zaroriyat me / mein estemal karna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.