resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: مسجد کے بجائے گھر میں نماز پڑھتے ہوئے اذان واقامت کا حکم

(1166-No)

سوال: ہم گراونڈ میں کرکٹ کھیل رہے تھے اور ساتھ والی مسجد میں اذان ہوئی، لیکن ہم نماز باجماعت نہیں پڑھ سکے، گھر جا کر خود اپنی جماعت سے نماز پڑھ رہے ہیں تو اس صورت میں اذان اور اقامت کے بارے میں کیا کرنا ہوگا خود سے اذان اور اقامت پڑھنی ہوگی یا کوئی اور صورت ہے؟

جواب: فرض نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ ادا کرنا سنت مؤکدہ ہے، مسجد کی جماعت چھوڑ کر گھر میں نماز پڑھنا مکروہ ہے، اس لیے گراؤنڈ میں کھیلنے والوں کا مسجد کی جماعت چھوڑ کر گھر جاکر نماز پڑھنے کی عادت بنالینے کا عمل صحیح نہیں ہے ۔
بہرحال پوچھی گئی صورت میں مسجد کی اذان واقامت کافی ہے، گھر میں اذان واقامت کے بغیر نماز پڑھ سکتے ہیں، لیکن افضل اور مستحب یہ ہے کہ جماعت سے نماز پڑھنے کی صورت میں اذان و اقامت کے ساتھ نماز پڑھی جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار: (باب الأذان، 63/2، ط: زکریا)

"وکرہ ترکہما معًا․․․ بخلاف مصل ولو بجماعة في بیتہ بمصر أو قریة لہا مسجد فلا یکرہ ترکہما إذ أذان الحي یکفیہ: لأن أذان المحلة وإقامتہا کأذانہ وإقامتہ.... اھ".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Masjid ki bajae ghar mai namaz parhtay hoay azan o iqamant ka hukum , Ruling on adhan and iqamah while praying at home instead of in the mosque

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)