resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: کیا کوئی شخص اپنے ہی شہر میں 90 سے 100 کلومیٹر مسافتِ سفر طے کرنے سے مسافر ہوجاتا ہے؟

(39817-No)

سوال: حضرت! میں کویت میں نوکری کے لیے آیا ہوں۔ یہاں میری کمپنی کی رہائش کویت میں ایک مخصوص جگہ پر ہے، جہاں ہماری رہائش فراہم کی گئی ہے۔ ہماری کمپنی کا سائٹ آفس بھی کویت ہی میں سویکھ (Shuwaikh) نامی جگہ پر واقع ہے، جہاں ہمیں روزانہ جانا ہوتا ہے اور وہیں ہماری آنے جانے کی حاضری (Attendance) لگتی ہے۔
اسی سائٹ آفس سے کویت کے مختلف علاقوں میں کام تقسیم کیا جاتا ہے۔ رہائش کی جگہ سے سائٹ آفس تک کا سفر تقریباً 13 سے 15 کلومیٹر ہے۔ سائٹ آفس سے جب کام تقسیم ہوتا ہے تو اس میں کویت کی 5–6 جگہیں ایسی ہوتی ہیں جن کا فاصلہ تقریباً 90، 100 کلومیٹر یا اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے، اور ہمیں ان جگہوں پر جا کر اسی دن واپس آنا ہوتا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ جب ہم ان لمبے روٹ والی 5–6 جگہوں پر جاتے ہیں تو کیا وہاں جا کر ظہر، عصر اور عشاء کی نماز دو رکعت (قصر) پڑھنی ہوگی؟ بعض دوستوں اور احباب کا کہنا ہے کہ چونکہ ہم کام کے لیے آتے ہیں، چاہے روزانہ ہی کیوں نہ آنا ہو، اور ہم آرام سے گاڑی میں بیٹھ کر آتے جاتے ہیں، اس لیے ہم قصر نہیں پڑھیں گے بلکہ پوری نماز پڑھیں گے۔ ان کے مطابق قصر تب پڑھی جاتی ہے جب سفر تھکا دینے والا ہو یا تھکن محسوس ہو یا جب بزنس کے مقصد سے سفر کیا جائے تو ہی قصر کی جائے گی۔ آپ سے گزارش ہے کہ ہمیں اس بارے میں درست شرعی رہنمائی فرمائیں۔

جواب: واضح رہے کہ اپنی ملازمت کے شہر میں مقیم شخص اسی شہر کی حدود میں مسافت سفر کا فاصلہ طے کرنے سے مسافر نہیں بنتا، البتہ اگر وہ اپنے اس شہر سے کسی دوسرے شہر یا بستی میں اتنا فاصلہ طے کرے اور وہاں پندرہ دن سے کم رہنے کی نیت ہو تو پھر ایسا شخص مسافر بن جائے گا اور اپنی نمازیں قصر کرے گا۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں کویت کے جس شہر یا بستی میں آپ مقیم ہیں، اگر آپ اسی شہر کی حدود میں ہی 90 سے 100کلو میٹر کا سفر طے کر رہے ہوں تو آپ مسافر نہیں ہوں گے، کیونکہ اپنے شہر میں سفر کرنے سے کوئی مسافر نہیں بنتا، البتہ اگر 90 سے 100کلو میٹر والی وہ جگہ آپ کے شہر کی حدود سے باہر ہے تو اپنے شہر کی حدود سے نکلنے کے بعد آپ مسافر شمار ہوں گے اور اس وقت میں جتنی نمازیں آپ کو ملیں گی، ان میں قصر کریں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل

تحفة الفقهاء: (1/ 147، ط: دار الكتب العلمية)
هو أن ينوي مدة السفر ويخرج من ‌عمران ‌المصر فما لم يوجد هذان الشرطان لا يثبت في حقه أحكام السفر ورخصة المسافرين

الدر المختار مع رد المحتار: (2/ 121، ط: سعید)
(من خرج من عمارة موضع إقامته) من جانب خروجه وإن لم يجاوز من الجانب الآخر. وفي الخانية: إن كان بين الفناء والمصر أقل من غلوة وليس بينهما مزرعة يشترط مجاوزته وإلا فلا ... (صلى الفرض الرباعي ركعتين) وجوبا
(قوله من خرج من عمارة موضع إقامته) أراد بالعمارة ما يشمل بيوت الأخبية لأن بها عمارة موضعها. قال في الإمداد: فيشترط مفارقتها ولو متفرقة ... وأشار إلى أنه يشترط مفارقة ما كان من توابع موضع الإقامة كربض المصر وهو ما حول المدينة من بيوت ومساكن فإنه في حكم المصر وكذا القرى المتصلة بالربض في الصحيح ... الخ

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)