سوال:
مفتی صاحب! اگر مقتدی امام کے قعدہ اخیرہ میں نماز میں اس طرح شامل ہوا کہ مقتدی نے تکبیر تحریمہ کہی، ابھی وہ بیٹھا نہیں تھا کہ امام نے سلام پھیر دیا، اب اس کو جماعت ملی یا نہیں؟ اور اگر مل گئی ہے تو پہلے التحیات میں بیٹھے گا یا وہیں سے کھڑے کھڑے نماز جاری رکھے؟ برائےکرم رہنمائی فرمائیں۔
جواب: سوال میں ذکر کردہ صورت میں چونکہ مقتدی امام کے لفظِ "السلام" کہنے سے پہلے ہی تکبیر تحریمہ کہہ چکا ہے، لہذا اسے جماعت کی نماز مل چکی ہے، اب یہی سے ہی کھڑے ہو کر اپنی نماز مکمل کرے، امام کے ساتھ بیٹھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (468/1، ط: دار الفكر)
قال في التجنيس: الإمام إذا فرغ من صلاته فلما قال السلام جاء رجل واقتدى به قبل أن يقول عليكم لا يصير داخلا في صلاته لأن هذا سلام.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی