resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: قضاء نماز سے متعلق اہم مسائل

(38747-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے۔میرے درج ذیل سوالات ہیں جن کے جواب آپ سے چاہتی ہوں۔
(1) قضا عمری کی جو نمازیں باقی ہوں، انہیں پڑھنے کا کوئی آسان (مختصر) طریقہ بتا دیں۔
(2): کیا سات سال کی عمر سے قضا نمازوں کا حساب لگا کر تمام نمازیں ادا کرنا ضروری ہے یا اس کے علاوہ بھی کوئی طریقہ ہے؟
(3): قضا نماز میں صرف فرض ادا کیے جاتے ہیں، تو تین وتر کا کیا حکم ہے؟کیا صرف عشاء کے چار فرض ہی قضا میں پڑھے جائیں گے؟

جواب: جواب 1:
واضح رہے قضائے عمری کی ادائیگی کے وقت اگر کسی شخص کو معلوم ہو کہ اس کے ذمّے کتنی قضاء نمازیں ہیں اور کون سی نماز کب قضاء ہوئی تو ہر نماز کو اس کی خاص نیت کے ساتھ ادا کرنا چاہیے، مثلاً: میں پیر کے دن کی فجر کی نماز قضا پڑھ رہا/رہی ہوں" اور اگر دن اور وقت کی تعیین نہ ہو تو یوں بھی نیت کی جا سکتی ہے کہ "میں اپنی پہلی فجر کی نماز قضاء کر رہا /رہی ہوں" یا آخری فجر کی نماز قضاء کر رہا/ رہی ہوں" اور اسی ترتیب پر ظہر، عصر ودیگر نمازیں بھی قضاء کی جاسکتی ہیں اور کئی دنوں یا مہینوں کی قضاء نماز ایک وقت میں پڑھنا بھی جائز ہے۔
اس کے علاوہ ایک آسان طریقہ یہ بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ ہر وقتی فرض نماز کے ساتھ ایک قضاء نماز بھی شامل کر لی جائے، مثلاً: فجر کی فرض نماز کے ساتھ ایک فجر کی قضاء، نماز ظہر کی فرض نماز کے ساتھ ایک ظہر کی قضاء نماز اور یوں جتنے سال یا مہینوں کی نمازیں قضاء ہوں اتنے ہی سال یا مہینوں تک یہ عمل جاری رکھا جائے۔
جواب:2
واضح ہو کہ احادیث مبارکہ میں سات سال کے بچہ کو نماز کا حکم اُسے نماز کا عادی بنانے کے لئے دیا گیا ہے، البتہ نماز بالغ ہونے پر فرض ہوتی ہے، لہذا قضا نمازوں کا حساب بھی بالغ ہونے کے بعد سے ہی کیا جائے گا، اور بلوغت کے بعد جتنی فرض اور وتر نمازیں قضا ہوئیں ہونگی، ان کو قضا کرنا شرعاً ضروری ہے۔
جواب:3
آپ کے تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ قضاء صرف فرائض اور وتر کی پڑھنا لازم ہے، سنتوں اور نوافل کی قضاء لازم نہیں ہوتی، لہٰذا ایک دن کی کُل چھ نمازوں کا حساب لگاکر ان کی قضاء کی جائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

حاشية ابن عابدين: (2/ 76،ط:سعید)
كثرت الفوائت نوى أول ظهر عليه أو آخره۔
(قوله كثرت الفوائت إلخ) مثاله: لو فاته صلاة الخميس والجمعة والسبت فإذا قضاها لا بد من التعيين لأن فجر الخميس مثلا غير فجر الجمعة، فإن أراد تسهيل الأمر، يقول أول فجر مثلا، فإنه إذا صلاه يصير ما يليه أولا أو يقول آخر فجر، فإن ما قبله يصير آخرا، ولا يضره عكس الترتيب لسقوطه بكثرة الفوائت.

بذل المجهود في حل سنن أبي داود: (3/ 232،ط:مركز الشيخ أبي الحسن الندوي)
حدثنا محمد بن عيسى - يعنى ابن الطباع -، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن عبد الملك بن الربيع بن سبرة، عن أبيه، عن جده قال: قال النبى صلى الله عليه وسلم: «مروا الصبى بالصلاة إذا بلغ سبع سنين، وإذا بلغ عشر سنين فاضربو عليها».
(قال) أي سبرة: (قال النبي صلى الله عليه وسلم: مروا) أمر للأولياء، لأن الصبي غير مكلف لقول رسول الله صلى الله عليه وسلم: "رفع القلم عن ثلاثة" وفيه "وعن الصبي حتى يشب أو يحتلم" فهو ليس بمخاطب۔۔۔قلت: والمراد هاهنا الذي لم يحتلم فأمرهم (بالصلاة) لهم للتخلق والاعتياد (إذا بلغ سبع سنين، إذا بلغ) أي الصبي (عشر سنين فاضربوه) أي الصبي (عليها) أي على الصلاة أي تركها.

حاشية ابن عابدين: (2/ 66،ط:سعید)
(وقضاء الفرض والواجب والسنة فرض وواجب وسنة) لف ونشر مرتب، وجميع أوقات العمر وقت للقضاء إلا الثلاثة المنهية كما مر۔ (قوله وقضاء الفرض إلخ) لو قدم ذلك أول الباب أو آخره عن التفريع الآتي لكان أنسب. وأيضا قوله والسنة يوهم العموم كالفرض والواجب وليس كذلك، فلو قال وما يقضى من السنة لرفع هذا الوهم رملي.

البحر الرائق: (2/ 80،ط:دار الكتاب الإسلامي)
فلو قال ولم تقض إلا تبعا قبل الزوال لكان أولى وقيد ‌بسنة ‌الفجر ‌لأن سائر السنن لا تقضى بعد الوقت لا تبعا ولا مقصودا واختلف المشايخ في قضائها تبعا للفرض۔

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)