سوال:
میرا بڑا بیٹا 11 سال کا ہے اور دوسرا 9 سال کا ہے، میرے شوہر نماز نہیں پڑھتے، لیکن میں اپنے بچوں کو 7 سال کی عمر سے نماز پڑھوا رہی ہوں، جمعہ کے دن بچے اپنے دادا کے ساتھ جماعت سے نماز پڑھنے جاتے ہیں اور پہلے عشاء کی نماز بھی جماعت کے ساتھ پڑھنے جاتے تھے، لیکن اب بچے عشاء کی نماز کے لیے جانے پر راضی نہیں ہوتے، جبکہ ان کے دادا زبردستی بھیجنے پر زور دیتے ہیں، حالانکہ وہ خود بھی کبھی کبھار ہی جاتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ بچے دادا کے ساتھ عشاء کی نماز کے لیے اس لیے راضی نہیں ہوتے کیونکہ اگر بچوں میں آپس میں ذرا سی بھی لڑائی ہو جائے (جو چھوٹے بچوں میں عام بات ہے) تو ان کے دادا مسجد میں سب کے سامنے انہیں ڈانٹتے ہیں اور ہاتھ بھی اٹھا لیتے ہیں، اسی وجہ سے بچے ان کے ساتھ جانے سے انکار کرتے ہیں۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ میں کیا کروں؟ کیا اس صورت میں بچوں کو زبردستی مسجد بھیجنا درست ہے؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں بچّوں کو سات سال کی عمر سے نماز کا پابند بنانا نہایت عمدہ اور قابلِ تحسین عمل ہے، البتہ اب پوری زندگی ان بچّوں کو نماز کا پابند رہنے کے لیے آپ سب کی ذمّہ داری بنتی ہے کہ نماز کے معاملے میں ان کے ساتھ انتہائی مشفقانہ رویّہ رکھا جائے، اس سلسلے میں ان کے دادا کے سامنے یہ بات انتہائی ادب و احترام کے ساتھ رکھی جائے کہ مسجد میں اگر بچوں سے کوئی غلطی ہو جائے تو سب کے سامنے ڈانٹنے کے بجائے ان کو نرمی کے ساتھ سمجھایا جائے، یہی نرمی والا رویّہ ان بچوں کے حق میں مفید رہے گا، نیز بچوں کو بھی مسجد کی بے ادبی اور بے حرمتی والے اعمال سے بچنے کی تاکید کی جائے۔
تاہم اگر بچوں کا دل کبھی مسجد میں جانے کا نہ بن رہا ہو تو ایسے موقع پر ان کو سختی کے ساتھ مسجد بھیجنے کے بجائے گھر میں ہی ان سے نماز پڑھنے کا اہتمام کروا دیا جائے، لیکن ساتھ ہی ان کو مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی ترغیب کا سلسلہ جاری رکھا جائے، تاکہ مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے کی اہمیت اچھی طرح سے ان کے دل میں بیٹھ جائے، اور بالغ ہونے کے بعد وہ اس فریضے کی ادائیگی کا اہتمام کرنے والے بن جائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
سنن أبي داؤد: (367/1، رقم الحدیث: 495، ط: دار الرسالة العالمية)
عن عمرو بن شعيب، عن أبيه
عن جده، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "مروا أولاكم بالصلاة وهم أبناء سبع سنين، واضربوهم عليها وهم أبناء عشر، وفرقوا بينهم في المضاجع".
الدر المختار مع رد المحتار: (554/1، ط: دار الفكر )
(فتسن أو تجب) ثمرته تظهر في الإثم بتركها مرة (على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج) ولو فاتته ندب طلبها في مسجد آخر إلا المسجد الحرام ونحوه (فلا تجب على مريض ومقعد وزمن ومقطوع يد ورجل من خلاف) أو رجل فقط، ذكره الحدادي (ومفلوج وشيخ كبير عاجز وأعمى).
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی