سوال:
مولانا صاحب! میں دوبئی میں ایک مسجد میں جمعہ پڑھاتا ہوں، مسجد گاڑی میں جانا پڑتا ہے اور گاڑی کا ڈرائیور ہندو ہے، وہ میرے لیے راستے میں چائے آرڈر کرتا ہے، کیا میرے لئے یہ چائے پینا صحیح ہے؟
جواب: واضح رہے کہ اگر غیر مسلم کوئی حلال چیز بطور ضیافت کسی مسلمان کو کھانے کے لیے پیش کردے تو مسلمان کے لیے اس چیز کو قبول کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے، البتہ غیر مسلموں سے بلا ضرورت تعلق اور میل جول رکھنا شرعاً پسندیدہ نہیں ہے، خصوصاً ائمہ اور مقتدیٰ حضرات کے لیے ان سے بلا ضرورت تعلق رکھنا مکروہ ہے، لہذا سوال میں ذکر کردہ صورت میں اگر آپ کا ہندو ڈرائیور آپ کو کبھی کبھار چائے پیش کردے تو اس کی ضیافت قبول کرنے کی اجازت ہے، تاہم اس کی عادت بنانے سے احتراز کرنا چاہیے، خصوصاً جبکہ بار بار ضیافت قبول کرنے سے لا شعوری طور پر ضیافت کرنے والے کے ساتھ دوستی اور محبت کا تعلق قائم ہوجاتا ہے، جو کہ شرعاً ممنوع ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (آل عمران، الایة: 28)
لا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكٰفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقَاةً وَّيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهُ وَإِلَى اللّٰهِ الْمَصِيرُo
الفتاوی الھندیة: (346/5، ط: دار الفكر)
يكره للمشهور المقتدى به الاختلاط إلى رجل من أهل الباطل والشر إلا بقدر الضرورة لأنه يعظم أمره بين أيدي الناس ... كذا في الملتقط.
و فیه ایضاً: (347/5، ط: دار الفكر)
ولا بأس بطعام المجوس كله إلا الذبيحة، فإن ذبيحتهم حرام ولم يذكر محمد - رحمه الله تعالى - الأكل مع المجوسي ومع غيره من أهل الشرك أنه هل يحل أم لا وحكي عن الحاكم الإمام عبد الرحمن الكاتب أنه إن ابتلي به المسلم مرة أو مرتين فلا بأس به وأما الدوام عليه فيكره كذا في المحيط.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی