resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: نماز کے اوقات کے نقشہ کے مطابق روزہ افطار کرنا

(15715-No)

سوال: مفتی صاحب! معلوم یہ کرنا تھا کہ موبائل میں ایک ایپ ہے، جو نماز کا صحیح وقت بتاتی ہے اور نماز کا وقت داخل ہونے پر اس میں الارم بھی بجتا ہے، لیکن عام دنوں میں گھر کے قریب کی مسجد میں مغرب کی اذان اس کے الارم بچنے کے کچھ دیر بعد ہوتی ہے۔ آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ ہم روزہ موبائل کی اس ایپ کے الارم بجنے پر کھولیں یا مسجد کی آواز سن کے کھولیں؟

جواب: واضح رہے کہ روزہ کے افطار کا وقت غروب آفتاب ہے، جب غروب آفتاب ہوجائے تو روزہ کھول لینا چاہیے، چاہے اذان ہوئی ہو یا نہیں ہوئی ہو، لہذا اگر آپ کے پاس معتبر و مستند نماز کا نقشہ ہو اور آپ کی گھڑی کا ٹائم بھی درست ہو تو اس میں درج وقت کے مطابق روزہ افطار کر سکتے ہیں، خواہ محلہ کی مسجد کی اذان شروع نہ ہوئی ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (البقرۃ، الآیة: 187)
وَ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الۡخَیۡطُ الۡاَبۡیَضُ مِنَ الۡخَیۡطِ الۡاَسۡوَدِ مِنَ الۡفَجۡرِ۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیۡلِ ۚ ... الخ

صحیح البخاری: (رقم الحدیث: 1954، ط: دار طوق النجاة)
سمعت عاصم بن عمر بن الخطاب، عن ابيه رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إذا اقبل الليل من هاهنا، وادبر النهار من هاهنا، وغربت الشمس، فقد افطر الصائم".

عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری: (64/11، ط: دار إحياء التراث العربي)
"(باب متى يحل فطر الصائم)أي: هذا باب يذكر فيه متى يحل فطر الصائم، وجواب الاستفهام تقديره بغروب الشمس ولا يجب إمساك جزء من الليل لتحقق مضي النهار، وما ذكره في الباب من الأثر والحديثين يبين ما أبهمه في الترجمة، وأفطر أبو سعيد الخدري حين غاب قرص الشمس···حدثنا الحميدي قال حدثنا سفيان قال حدثنا هشام بن عروة قال سمعت أبي يقول سمعت عاصم بن عمر بن الخطاب عن أبيه رضي الله تعالى عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أقبل الليل من ههنا وأدبر النهار من ههنا وغربت الشمس فقد أفطر الصائم ··· (فقد أفطر الصائم) ، أي: دخل في وقت الفطر، وقال ابن خزيمة: لفظه خبر ومعناه الأمر أي: فليفطر الصائم."

و ایضاً: (44/11، ط: دار إحياء التراث العربي)
"وفيه: بيان انتهاء وقت الصوم، وهو أمر مجمع عليه، وقال أبو عمر في (الاستذكار) : أجمع العلماء على أنه إذا حلت صلاة المغرب فقد حل الفطر للصائم فرضا وتطوعا. وأجمعوا على أن صلاة المغرب من صلاة الليل، والله، عز وجل، قال: {ثم أتموا الصيام إلى الليل} واختلفوا في أنه: هل يجب تيقن الغروب أم يجوز الفطر بالاجتهاد؟ وقال الرافعي: الأحوط أن لا يأكل إلا بيقين غروب الشمس، لأن الأصل بقاء النهار فيستصحب إلى أن يستيقن خلافه."

الدر المختار مع رد المحتار: (كتاب الصوم، 371/2، ط: دار الفکر)
"(هو) لغة (إمساك عن المفطرات) الآتية (حقيقة أو حكما) كمن أكل ناسيا فإنه ممسك حكما (في وقت مخصوص) وهو اليوم.
(قوله: وهو اليوم) أي اليوم الشرعي من طلوع الفجر إلى الغروب."

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

namaz ke auqat ka naqsha ke mutabiq roza iftar karna

روزہ افطار کا صحیح وقت وہ ہے جس کے بعد نمازِ مغرب کا وقت شروع ہو چکا ہو، اور یہ وقت عام طور پر نماز کے اوقات کے نقشہ (Timetable) کے مطابق طے کیا جاتا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ میں افطار کو وقتِ مغرب کی آمد کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے، چاہے وہ سورج غروب ہونے کے بعد نمازِ مغرب کے وقت کا نقشہ ہو یا مقامی اذان ہو۔ اگر کسی جگہ کے نقشے (Timetable) یا موبائل ایپ کے مطابق نمازِ مغرب کا وقت مقرر کیا گیا ہو، تو اسی کے ساتھ روزہ افطار کرنا شرعی طور پر درست سمجھا جاتا ہے، بشرطِیہ کہ وہ نقشہ معتبر اور صحیح طریقے سے قائم کیا گیا ہو۔ بعض لوگ افطار جلدی یا تاخیر سے کرتے ہیں، لیکن شریعت کا حکم یہی ہے کہ نمازِ مغرب کے وقت کے بعد ہی روزہ روکا جائے۔ اس لیے امام، مقامی اوقات نقشے یا مستند روزہ اوقات پر عمل کرنا بہتر ہے، تاکہ روزے کی صحت برقرار رہے اور افطار صحیح وقت پر ہو۔

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Sawm (Fasting)