عنوان: اسلامی تاریخ کا مدار فلکیاتی حساب اور سائنس پر رکھنا(101573-No)

سوال: السلام علیکم، حکومت کے حکم پر سپارکو نے پانچ سال کا قمری کیلینڈر بنایا ہے، جس میں پہلے سے ہی چاند کی پیدائش کے بارے میں اطلاع موجود ہوگی۔ اس کیلینڈر کے مطابق اس سال یکم شوال 5 مئی کو ہوگی، جس پر عید منانے کا حکومت کی طرف سے اعلان بھی کیا جاچکا ہے۔ سوال یہ ہے کے کیا اسطرح بغیر چاند دیکھے قمری مہینوں کا اطلاق کرنا جائز ہے؟

جواب: شریعت میں قمری مہینہ کے آغاز واختتام کا مدار فلکیاتی حساب اور سائنس پر نہیں ہے اور نہ ہی نظام شمسی پر ہے، بلکہ اسلامی تاریخ کا مدار قمری نظام (چاند کی رؤیت) پر ہے، ہماری وہ عبادتیں جو خاص کسی متعین دن میں ادا کی جاتی ہیں، اس میں اسی قمری تاریخ کا اعتبار ہے، حساب یا کوئی دوسری نئی چیز پر اس کا مدار بالکل نہیں ہے، یہ چیزیں صرف معین اور مددگار ہوتی ہیں، مثلاً: نماز اور روزوں کے لئے بنائے جانے والے ٹائم ٹیبل یہ سہولت کے لئے ہیں، اور وقت بتانے میں معین ہیں، اصل مدار تو ان علامتوں پر ہی ہے، جو احادیثِ نبویہ میں اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں بتلائیں ہیں۔ 

چنانچہ ارشاد نبوی ہے:

صوموا لرؤیتہ وأفطروا لرؤیتہ۔

(سنن الترمذي ۱؍۱۴۸، صحیح البخاري ۱؍۲۵۶)
ترجمہ: یعنی چاند دیکھ کر رمضان المبارک کے روزے رکھنے کا آغاز کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزہ رکھنے کا سلسلہ موقوف کرو۔

مذکورہ حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے روزوں کا دارومدار رؤیت ہلال پر فرمایا ہے، نہ کہ متعین کسی تاریخ پر، اسی طرح پنج وقتہ نمازوں کے اوقات بھی طے شدہ گھڑیوں پر نہیں ہیں، بلکہ سورج کے طلوع و زوال اور غروب وغیرہ پر ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ نماز، روزہ، عید یا اسلامی تاریخ کا مدار کلینڈر پر رکھنا غلط ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (التوبة، الایة: 36)
اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوۡرِ عِنۡدَ اللّٰہِ اثۡنَا عَشَرَ شَہۡرًا فِیۡ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوۡمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ مِنۡہَاۤ اَرۡبَعَۃٌ حُرُمٌ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ ۬ ۙ فَلَا تَظۡلِمُوۡا فِیۡہِنَّ اَنۡفُسَکُمۡ وَ قَاتِلُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوۡنَکُم ۡکَآفَّۃً ؕ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُتَّقِیۡنَo

و قوله تعالی: (طه، الایة: 130)
فَاصۡبِرۡ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ وَ سَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ قَبۡلَ طُلُوۡعِ الشَّمۡسِ وَ قَبۡلَ غُرُوۡبِہَا ۚ وَ مِنۡ اٰنَآیِٔ الَّیۡلِ فَسَبِّحۡ وَ اَطۡرَافَ النَّہَارِ لَعَلَّکَ تَرۡضٰیo

تفسیر السمرقندی: (56/2)
قوله تعالى: إن عدة الشهور عند الله اثنا عشر شهرا في كتاب الله، فأعلم الله تعالى أن عدة الشهور للمسلمين التي يعدون: اثنا عشر شهرا على منازل القمر، فجعل حجهم وأعيادهم وصيامهم على هذا العدد. فالحج والصوم يكون مرة في الشتاء، ومرة في الصيف. وكانت أعياد أهل الكتاب في متعبداتهم، وسنتهم على حساب دوران الشمس على كل سنة ثلاثمائة وخمسة وستين يوما، فجعل شهور المسلمين بالأهلة، كما قال الله تعالى: يسئلونك عن الأهلة قل هي مواقيت للناس والحج [البقرة: ١٨٩] ويقال: إن عدة الشهور، يعني: عدد الشهور التي وجبت عليكم الزكاة فيها اثنا عشر شهرا في كتاب الله، يعني: في اللوح المحفوظ يوم خلق السماوات والأرض، كتبها عليكم. منها أربعة حرم، يعني: رجب وذا القعدة وذا الحجة والمحرم. ذلك الدين القيم، يعني: ذلك الحساب المستقيم، لا يزاد ولا ينقص.

الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ: (187/15، ط: دار السلاسل)
والسنة المعتبرة شرعا هي السنة القمرية؛ لأنها هي المرادة شرعا عند الإطلاق

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 239
islami tareekh ka madaar falkiyati hisab oe science par rakhna , Depanding Islamic date to astronomical arithmetic / calculation and science

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.