resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: شلوار ٹخنوں سے اوپر کرنے کا حکم(1759-No)

سوال: شلوار ٹخنوں سے اوپر کرنا کیا بدعت ہے ؟ ایک دوست نے شامی کے حوالے سے بتایا تھا کہ اسطرح کرنا بدعت ہے، شلوار ایسی ہونی چاہیے، جو ہمیشہ ٹخنوں سے اوپر ہو، رہنمائی فرما دیں۔

جواب: واضح رہے کہ مردوں کے لیے شلوار، تہبند اور پینٹ، پتلون کے پائنچے ٹخنوں سے نیچے رکھ کر ٹخنوں کو ڈھانکنا مکروہ تحریمی ہے، خواہ نماز کی حالت ہو یا نماز کے علاوہ، ہر حال میں ناجائز ہے، جبکہ نماز میں اس گناہ کی شدت اور بڑھ جاتی ہے، چنانچہ فقہاءکرام نے ایسا لمبا پاجامہ ( جس سے ٹخنے چھپ جائیں) سلوانے کو مکروہ لکھا ہے۔
لہذا اول تو لباس ایسا بنانا چاہیے کہ جس میں شلوار ٹخنوں تک رہے، اتنی لمبی نہ ہو کہ ٹخنے اس سے چھپ جائیں، اگر لمبا پاجامہ بنوا لیا ہے، تو پھر اس بات کا سختی سے اہتمام کرنا چاہیے کہ ٹخنے ظاہر ہوں، خواہ نماز کی حالت ہو یا نہ ہو۔
کیونکہ حدیث پاک میں ٹخنوں کے پوشیدہ رہنے پر سخت وعید وارد ہوئی ہے۔
" مشکوٰۃ المصابیح" میں ہے:
" عن أبي ھریرة رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ما أسفل من الکعبین من الإزار في النار۔رواہ البخاري".
( مشکاة المصابیح : ص : ٣٧٣)
ترجمہ:
ازار (تہبند، شلوار، پینٹ پتلون وغیرہ) کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو، وہ جہنم میں جائے گا۔ ( یعنی صاحبِ ازار( ایسا لباس پہننے والا) جہنم میں جائے گا)۔
( نوٹ) اگر غیر شعوری طور پر ٹخنے چھپ جائیں، تو گناہ نہیں ہوگا۔
آپ کے دوست نے " شامی " کے حوالے سے جو بات کہی ہے، اس کا حوالہ ( کتاب کانام اور باب یا فصل ) بھیج دیں، تاکہ اس میں غور کرکے جواب دیا جاسکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحیح البخاری: (باب ما أسفل من الکعبین ففي النار، رقم الحدیث: 5559)
''عن أبي هریرة قال: قال رسول اﷲ صلی الله علیه وسلم : ما أسفل من الکعبین من الإزار في النار''.

صحیح مسلم: (باب بیان غلظ تحریم إسبال الإزار، رقم الحدیث: 106، 71/1، ط: بیت الافکار)
''عن أبي ذر عن النبي صلی الله علیه وسلم قال: ثلاثة لایکلمهم الله یوم القیامة: المنان الذي لایعطي شیئاً إلامنّه، والمنفق سلعته بالحلف والفاجر، والمسبل إزاره''۔

سنن ابی داؤد: (باب ماجاء في إسبال الإزار، رقم الحدیث: 4086، 565/2، ط: بیت الافکار)
''إن الله تعالی لایقبل صلاة رجل مسبل''۔

الھندیۃ: (کتاب الکراهية، الباب التاسع في اللبس، 333/5)
''وینبغي أن یکون الإزار فوق الکعبین'' الخ۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

shalwar takhno say opar karne ka hukum, Ruling on wearing shalwar above the ankles

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things