سوال:
مفتی صاحب! میں چار رکعتوں کی نماز میں دو رکعت کے بعد بیھٹنا بھول گیا اور کافی دیر بعد یاد آیا تو کیا سجدہ سہو کرنا ضروری تھا؟
جواب: واضح رہے کہ اگر کوئی شخص قعدہ اولی بھول کر اٹھنے لگے اور اس کا نیچے والا آدھا دھڑ سیدھا نہیں ہوا تھا تو وہ واپس قعدہ کی طرف لوٹ آئے اور قعدہ اولیٰ کر کے تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوجائے تو اس صورت میں سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا، اور اگر اس کے نیچے والا آدھا دھڑ سیدھا ہوگیا تھا یعنی وہ کھڑے ہونے کے قریب تھا تو اس پر لازم ہے کہ کھڑا ہی رہے، دوبارہ لوٹ کر قعدہ کی طرف نہ آئے اور آخر میں سجدہ سہو کرلے، اس طرح کرنے سے نماز ہو جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار: (باب سجود السہو، 83/2، ط: سعید)
''(سها عن القعود الأول من الفرض) ولو عملياً، أما النفل فيعود ما لم يقيد بالسجدة (ثم تذكره عاد إليه) وتشهد، ولا سهو عليه في الأصح (ما لم يستقم قائماً) في ظاهر المذهب، وهو الأصح فتح (وإلا) أي وإن استقام قائماً (لا) يعود لاشتغاله بفرض القيام (وسجد للسهو) لترك الواجب (فلو عاد إلى القعود) بعد ذلك (تفسد صلاته) لرفض الفرض لما ليس بفرض، وصححه الزيلعي (وقيل: لا) تفسد، لكنه يكون مسيئاً ويسجد لتأخير الواجب (وهو الأشبه)، كما حققه الكمال، وهو الحق، بحر''۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی