عنوان: برائلر مرغی کھانے کا حکم   (101822-No)

سوال: السلام علیکم، حضرت ! سوال یہ ہے کہ کیا برائیلر مرغی حرام ہے؟ کچھ علماء کرام جیسے ڈاکٹر امجد صاحب نے اِس کو حرام قرار دیا ہے . برائے مہربانی وضاحت کیجیے

جواب:

شرعی طور پر ذبح شدہ برائلر مرغی کا کھانا حلال ہے، محض لوگوں کی افواہوں کی بنا پر کسی چیز کو حرام قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔

البتہ اگر مرغی کی غذا (فیڈ)  میں حرام ونجس اجزاء مثلاً: خون ، جانور کے اجزاء یا مردار کا گوشت وغیرہ شامل کیا جاتا ہو تو ایسا کرنا جائز نہیں ہے، البتہ
اس قسم کی غذاء کا حکم یہ ہے کہ نجس و حرام اجزاء کے ملنے کی وجہ سے یہ غذا بھی حرام ہے اور ایسا کرنا یعنی فیڈ  میں نجس و حرام اجزاء شامل کرنا جائز نہیں- 

واضح رہے کہ جن مرغیوں کو ایسی غذاء کھلائی گئی ہو، ان کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر ان کے گوشت میں مذکورہ غذا کی بدبو پیدا نہیں ہوئی ہے، تو اس صورت میں ان مرغیوں کو کھانا جائز ہوگا اور اگر مذکورہ غذاء کی وجہ سے ان کے  گوشت میں بدبو پیدا ہوگئی ہو، تو جب تک بدبو زائل نہیں ہوجاتی، اس وقت تک ایسی مرغیوں کو کھانا جائز نہیں ہوگا۔



’’ تنویر الأبصار مع الدر المختار‘‘ میں ہے:

’’وکره (لحمهما) أی لحم الجلالة والرمکة وتحبس الجلالة حتی یذهب نتن لحمها ولو أکلت النجاسة وغیرها بحیث لم ینتن لحمها حلت الخ ‘‘ (فتاویٰ شامی: کتاب الحظر والاباحۃ، ج:۶، ص:۳
فتاویٰ شامی میں ہے:

’’وفي المنتقٰی الجلالة المکروهة التي إذا قربت وجدت منها رائحة فلاتؤکل.‘‘
  (فتاویٰ شامی، ج:۶، ص:۳۴۱)

کذا فی الشامیۃ :

وعن  ھذا قالوا : لاباس یاکل  الدجاج ، لانہ  یخلط  ولا یتغیر  لحمہ ، وروی  انہ علیہ  السلام  کان یاکل  الدجاج ۔
( 5/ 240  رشیدیہ)

ماکولات و مشروبات میں مزید فتاوی

15 Sep 2019
اتوار 15 ستمبر - 15 محرّم 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2019. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com