عنوان: چائنہ و دیگر ممالک میں ہڈیوں کے سفوف (china bone) سے بنے ہوئے برتنوں کے استعمال کا حکم    (102078-No)

سوال: السلام عليكم مفتی صاحب ! ہم نے چائے کے کپ خریدے، جس کو بَعْد میى دیکھا تو وہ Made in china تھے اور اس پر China Bons لکھا ہوا تھا، جب China bons کی تیحقیق کی تو پتا چلا کہ اِس میں جانوروں کی ہڈیوں کی سفوف کچھ پرسنٹ بھی شامل ہوتی ہے، کیا ان کراکری کا استعمال جائز ہے؟ آج کل مارکیٹ میں ایسے برتن بہت آئے ہوئے ہیں، یہ سب ان پورٹ ہوتے ہیں، تو لہذا حلال اور حرام جانوروں کا پتا نہیں چلتا ہے، براہ کرم اس بارے میں رہنمائی فرمادیں۔ جزاک اللہ

جواب: واضح رہے کہ چائنہ یا دیگر ممالک میں ہڈیوں کے سفوف سے بنے ہوئے برتنوں میں تین احتمالات پائے جاتے ہیں۔
1) یا تو وہ برتن حلال اور مذبوحہ جانوروں کی ہڈیوں کے سفوف سے بنے ہونگے۔
2) یا وہ برتن حرام اور غیر مذبوحہ جانوروں کی ہڈیوں کے سفوف سے بنے ہونگے۔
3) یا وہ برتن خنزیر کی ہڈیوں کے سفوف سے بنے ہونگے۔
پہلی قسم کے جانوروں کی ہڈیوں کے سفوف سے بنے ہوئے برتنوں کا حکم یہ ہے کہ ان کا استعمال درست ہے، اور دوسری قسم کے جانوروں کی ہڈیاں اگرچہ حلال نہیں ہیں، لیکن پاک ہیں، اس لیے ان کی ہڈیوں کے سفوف سے بنے ہوئے برتن میں بھی کھانے کی گنجائش ہے، جبکہ تیسری قسم کے جانور کی ہڈیوں کے سفوف سے بنے ہوئے برتن کا حکم یہ ہے کہ اس کا استعمال ناجائز ہے۔

چونکہ ان ممالک میں خنزیر کا استعمال بہت کثرت سے ہوتا ہے، لھذا جب تک تحقیق سے یہ بات ثابت نہ ہوجائے کہ یہ برتن کس جانور کی ہڈیوں کے سفوف سے بنے ہیں، اس وقت تک ان برتنوں کے استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
-------------------------------------
دلائل:
کذا فی الھدایۃ:
ولابأس بیع عظام المیتۃ وعصبہا وصوفھا وقرنہا وشعرھا وبرھا والانتفاع بذٰلک کلہ لانھا طاہرۃ لایحلھا الموت لعدم الحیاۃ۔
(الھدایۃ:ج؍۳،ص؍۵۸، باب البیع الفاسد)

کذا فی تبیین الحقائق:
وجلد المیتۃ قبل الدباغ وبعدہ یباع وینتفع بہٖ کعظم المیتۃوعصبھا وصوفھاوقرنھا ووبرھا یعنی بعدالدباغ یجوزبیعہ کمایجوز بیع عظم المیتۃ۔(تبیین الحقائق:ج؍۴،ص؍۵۱،باب البیع الفاسد)


(مزید سوالات و جوابات کیلئے ماحظہ فرمائیں)
http://AlikhlasOnline.com

تجارت و معاملات میں مزید فتاوی

15 Sep 2019
اتوار 15 ستمبر - 15 محرّم 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2019. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com