سوال:
زندگی میں جو نمازیں قضاء ہوگئیں ہیں،ان کے بارے میں فرمادیں کہ ان کی قضاء کرنی ہوگی یا توبہ کرنے سے معاف ہو جائیں گی؟
جواب: واضح رہے کہ توبہ کی وجہ سے اپنے وقت پر نماز ادا نہ کرنے کا گناہ معاف ہو جائے گا، لیکن قضاء نماز ادا کرنا ہر حال میں ضروری ہے، یہ اسی طرح ہے، جیسے آپ نے کسی کا ادھار ادا کرنا ہو، اور آپ وقت پر ادا نہ کر سکیں، اور کچھ عرصے بعد جا کر اس سے معافی مانگیں کہ میں آپ کا ادھار وقت پر ادا نہیں کر سکا تو وہ آپ کی تاخیر معاف کر دے گا، لیکن کوئی عقل مند یہ نہیں کہے گا کہ اس کا قرضہ بھی معاف ہو گیا ہے، قرضہ بہرحال ادا کرنا پڑے گا، ایسے ہی نماز بھی ہمارے ذمہ لازم ہے، قضاء ہوجانے کی صورت میں اس کو ادا کرنا ضروری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
سنن الترمذی: (باب ما جاء فی النوم عن الصلوة)
عن قتادۃؓ قال ذکروا للنبیﷺ نومہم عن الصلوۃ فقال انہ لیس فی النوم تفریط انماالتفریط فی الیقظۃ فاذا نسی احدکم صلاۃ اونام عنہا فلیصلہا اذا ذکرھا
الھندیۃ: (الباب الحادی عشر فی قضاء الفوائت،134/1، ط: دار الکتب العلمیہ)
کل صلاۃ فائت عن الوقت بعد وجوبھا فیہ یلزم قضاءھا سواء ترک عمدا اوسھوا أوبسبب نوم وسواء کانت الفوائت کثیرۃ اوقلیلۃ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی