سوال:
السلام علیکم، بعض اوقات غلطی یا جلدی کی وجہ سے شناختی کارڈ سامنے والی جیب میں پڑا رہ جاتا ہے، جو دوران سجدہ زمین پر گر جاتا ہے۔ اگر تصویر والی سائیڈ اوپر ہو تو اسے اٹھا کر واپس جیب میں ڈالا جا سکتا ہے یا اسے الٹا کیا جا سکتا ہے یا اسی طرح رہنے دیا جائے۔؟
جواب: واضح رہے کہ اگر شناختی کارڈ کی تصویر والا حصہ نمازی کے سامنے ہو، تو ایسی صورت میں اس کارڈ کے سامنے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، لہذا نماز کی حالت میں تصویر والا کارڈ گرنے کی صورت میں سجدہ یا قعدہ کی حالت میں کارڈ کو ایک ہاتھ سے اٹھا کر جیب میں رکھ سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (باب ما یفسد الصلاۃ و ما یکرہ فیھا، 433/2، ط: دار عالم الکتب)
(قولہ لا لمستتر بکیس او صرۃ) بان صلی ومعہ صرۃ او کیس فیہ دنانیر او دراہم فیہا صور صغار فلا تکرہ لاستتارہا بحر ومقتضآہ انہا لو کانت مکشوفۃ تکرہ الصلاۃ مع ان الصغیرہ لا تکرہ الصلاۃ معہا کما یأتی لکن یکرہ کراہۃ تنزیہ جعل الصورۃ فی البیت نہر ۔
و فیہ ایضا: (باب ما یفسد الصلاۃ و ما یکرہ فیھا، 433/2، ط: دار عالم الکتب)
أن ما يعمل عادة باليدين كثير وإن عمل بواحدة، كالتعميم وشد السراويل، وما عمل بواحدة قليل وإن عمل بهما، كحل السراويل ولبس القلنسوة ونزعها، إلا إذا تكرر ثلاثاً متواليةً
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی