سوال:
السلام عليكم ورحمة اللّٰه وبركاتہ، معزز مفتی صاحب ! نماز سے متعلق کچھ سوالات ہیں، مہربانی فرما کر وضاحت کردیں:
1)اگر امام صاحب جماعت میں غلطی سے پانچویں رکعت کے لئے کھڑے ہو جائیں، تو لقمہ دینے کا طریقہ کیا ہو گا؟
2) اور اگر لقمہ رکوع کے بعد دیا گیا ہو، تو کیا حکم ہوگا؟
3) اگر امام صاحب نے چوتھی رکعت میں قعدہ کرنے کے بعد پانچویں رکعت کا سجدہ بھی کرلیا ہو تو کیا حکم ہے؟
جواب: 1) اگر امام چوتھی رکعت پر قعدہ کرنے کے بعد پانچویں رکعت کے لئے بھول کر کھڑا ہوجائے، تو مقتدی حضرات کو امام کی اقتداء نہیں کرنی چاہئے، بلکہ مقتدی حضرات بیٹھے رہیں اور امام کو"سبحان الله" کہہ کر یا "الله اکبر" کہہ کر لقمہ دیں، اگر امام پانچویں رکعت کا سجدہ کرنے سے پہلے قعدہ میں واپس آجائے، اور سجدہ سہو کرکے سلام پھیردے، تو مقتدی بھی اس کے ساتھ سلام پھیر دیں،اگر امام پانچویں رکعت کا سجدہ بھی کرلے، تو اب مقتدیوں کو مزید انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے، وہ سلام پھیر کر اپنی نماز پوری کرلیں۔
2) پانچویں رکعت کا سجدہ کرنے سے پہلے پہلے لقمہ دیا جاسکتا ہے۔
3)اگر امام نے چوتھی رکعت پر قعدہ کرنے کے بعد پانچویں رکعت بھی مکمل پڑھ لی تو اسے چاہیے کہ چھٹی رکعت بھی ملالے اور آخر میں سجدہ سہو کرلے، ایسی صورت میں شروع کی چار رکعتیں فرض اور آخر کی دو نفل شمار ہوں گی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
البحر الرائق: (کتاب الصلاۃ، باب سجود السہو، 113/2، ط: دار الکتاب الاسلامی)
وإن قعد في الرابعۃ، ثم قام عاد وسلم وإن سجد للخامسۃ، تم فرضہ وضم إلیہا سادسۃ۔
الدر المختار: (کتاب الصلاۃ، باب سجود السہو، 87/2، ط: دار الفکر)
(ولو سها عن القعود الأخير)
۔۔۔ (عاد) ۔۔۔(ما لم يقيدها بسجدة) لأن ما دون الركعة محل الرفض وسجد للسهو لتأخير القعود (وإن قيدها) بسجدة عامدا أو ناسيا أو ساهيا أو مخطئا (تحول فرضه نفلا برفعه)(وإن قعد في الرابعة) مثلا قدر التشهد (ثم قام عاد وسلم) ولو سلم قائما صح؛ ثم الأصح أن القوم ينتظرونه، فإن عاد تبعوه (وإن سجد للخامسة سلموا) لأنه تم فرضه، إذ لم يبق عليه إلا السلام (وضم إليها سادسة) لو في العصر، وخامسة في المغرب: ورابعة في الفجر به يفتى (لتصير الركعتان له نفلا) والضم هنا آكد، ولا عهدة لو قطع، ولا بأس بإتمامه في وقت كراهة على المعتمد (وسجد للسهو)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی