سوال:
دفتر کی عمارت میں مصلّٰے کی جگہ باجماعت نماز ہوتی ہے، لیکن ہال کے باہر کی صفوں میں اتنا فاصلہ ہے کہ درمیان سے گاڑی گزر سکتی ہے۔ وضاحت فرمائیں کہ باہر کی صفوں میں نماز ادا ہو جائے گی یا نہیں؟ البتہ اسپکیر کی آواز باہر صفوں میں سنائی دیتی ہے، صفوں میں کتنے فاصلے کی گنجائش ہونی چاہیے؟
جواب: مصلّٰے کی حدود سے باہر صحن یا راستہ میں نماز کے صحیح ہونے کے لیے صفوں کا متصل ہونا ضروری ہے۔ صفوں کے اتصال کے بغیر امام کی اقتداء صحیح نہیں ہوگی۔
اتصال سے مراد یہ ہے کہ صفوف کے درمیان دو صفوں کے برابر یا اس سے زیادہ فاصلہ نہ ہو، البتہ اگر دیوار حائل ہو اور امام کے انتقالات (ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف منتقل ہونے) سے مقتدی باخبر رہیں تو ان مقتدیوں کی نماز درست ہے، لہذا سوال میں ذکر کردہ صورت میں اگر ہال اور راہ داری کے درمیان فاصلہ دو صفوں کے برابر یا اس سے زیادہ ہوتو پچھلے صفوں میں اتصال نہ پائے جانے کی وجہ سے پچھلی صف والے مقتدیوں کی نماز نہیں ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الھندیۃ: (الفصل الرابع في بیان ما یمنع صحۃ الاقتداء و ما لا یمنع، 145/1، ط: زکریا)
المانع من الاقتداء ثلاثة أشياء:
(منها) طريق عام يمر فيه العجلة والأوقار، هكذا في شرح الطحاوي، إذا كان بين الإمام وبين المقتدي طريق إن كان ضيقاً لا يمر فيه العجلة والأوقار لا يمنع، وإن كان واسعاً يمر فيه العجلة والأوقار يمنع. كذا في فتاوى قاضي خان والخلاصة. هذا إذا لم تكن الصفوف متصلةً على الطريق، أما إذا اتصلت الصفوف لايمنع الاقتداء، ولو كان على الطريق واحد لايثبت به الاتصال، وبالثلاث يثبت بالاتفاق، وفي المثنى خلاف، على قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - يثبت، وعلى قول محمد - رحمه الله تعالى - لا. كذا في المحيط".
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی