سوال:
السلام علیکم، فرض نماز کے سجدے میں اگر دِل ہی دِل میں دعا مانگے اور زبان سے الفاظ ادا نہ کریں تو کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے؟ نیز الگ سے دعا اور مناجات کے لیے سجدہ کرنا کیسا ہے؟
جواب: واضح رہے کہ فرائض میں افضل یہ ہے کہ سجدے میں صرف سجدے کی تسبیح پڑھی جائے، البتہ فرض نماز کے علاوہ نفل نمازوں کے سجدے میں زبان سے عربی زبان میں دعا کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ کلام الناس کے مشابہ نہ ہو، لیکن نماز میں عربی کے علاوہ کسی اور زبان مثلاً اردو، فارسی یا انگریزی وغیرہ میں دعا کرنا جائز نہیں ہے، اسی طرح عربی میں ایسی دعا کرنا بھی درست نہیں ہے، جو کلام الناس کے مشابہ ہو، لیکن اگر دل ہی دل میں عربی کے علاوه کسی اور زبان میں دعا مانگی جائے تو اس کی گنجائش ہے، اگر کسی ایسی چیز کی دعا کی گئی، جس کا سوال بندوں سے محال نہیں ہے اور ایسے الفاظ قرآن یا حدیث میں کہیں نہیں آئے تو نماز فاسد ہوجا ئے گی۔
2) واضح رہے کہ جو سجدہ دعاکےلیے کیاجائے وہ "سجدہ مناجات" کہلاتا ہے، اس کے بارے میں بعض علماء کا قول ہے کہ یہ مکروہ ہے، لہذا اس کی عادت اور معمول بنالینا غلط ہے، کیونکہ دعا اور مناجات کا مسنون طریقہ جس کے مسنون ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے، اس کو ترک کرکے اختلافی طریقہ اختیار کرنا مناسب نہیں ہے، باقی جن روایات میں یہ ذکر ہے کہ آپ ﷺ سجدہ میں بہت طویل دعائیں مانگتے تھے، اس سے مراد وہی سجدہ ہے جو نفل نماز میں کیا کرتے تھے، لہذا نوافل کے سجدہ میں ماثورہ دعاؤں کے ذریعے اللہ پاک سے مانگنا سنت سے ثابت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار: (باب القراة، 521/1، ط: دار الفکر)
"(ودعا) بالعربية، وحرم بغيرها ...... (بالأدعية المذكورة في القرآن والسنة. لا بما يشبه كلام الناس)".
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی