سوال:
مفتی صاحب! السلام علیکم، حضرت ہماری کمپنی میں نماز جماعت سے ہوتی ہے اور ایک باشرع حافظ قرآن پڑھاتے ہیں، لیکن بعض اوقات ان کی غیر حاضری میں اگر مقتدیوں میں سے کسی کو نماز پڑھانے کی ضرورت پڑے تو دو لوگ ہیں، 1 حافظ قرآن ہے، لیکن ان کی باشرع داڑھی نہیں ہے، دوسرے حافظ نہیں ہے، لیکن باشرع داڑھی ہے۔ آپ رہنمائی فرمائیں کہ ان دونوں حضرات میں سے کس کو امامت کے لیے منتخب کیا جائے؟
جواب: داڑھی منڈوانا یا ایک مشت سے کم کرنا گناہ کبیرہ ہے، اپنے اختیار سے ایسے شخص کو امام بنانا ( خواہ وہ حافظ قرآن ہو ) مکروہ تحریمی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں بجائے داڑھی منڈے حافظ کے ایسے شخص کو امام بنایا جائے جو با شرع ہے، بشرطیکہ قراءت میں کسی لحن جلی کا ارتکاب نہ کرتا ہو اور نہ ہی تلفّظ کی ادائیگی میں ایسی تبدیلی کرتا ہو جس سے معنیٰ کا فساد لازم آئے۔
واضح رہے کہ امام بنانے میں ہم ظاہر کے مکلف ہیں، باطنی اور پوشیدہ حالات کے مکلف ہم نہیں ہیں، اگر ہم ہر ایک کے عیوب اور مخفی گناہوں کا محاسبہ کریں گے، تو ہم میں سے کوئی بھی شخص امام بننے کی صلاحیت نہیں رکھے گا، لہذا صورت مسئولہ میں اگر وہ صاحب شریعت کی ظاہری ضروریات کو پورا کرتے ہیں تو ان کے پیچھے نماز پڑھنا صحیح ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
تنقیح الفتاویٰ الحامدیۃ: (351/1)
" ان الاخذ من اللحیۃ وہی دون القبضۃ کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال لم یبحہ احدواخذ کلہا فعل الیہود والہنود ومجوس الاعاجم اہ فحیث ادمن علی فعل ہذا المحرم یفسق".
غنیة المستملي: (ص: 479)
کراہۃ تقدیمہ کراہۃ تحریم
البحر الرائق: (349/1)
" وینبغی ان یکون محل کراہۃ الاقتداء بہم عند وجود غیرہم والا فلا کراہۃ ".
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی