عنوان: غیر صحابی کے لیے "رضی اللہ عنہ" کہنا(102689-No)

سوال: رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعریف کیا ہے؟رہنمائی فرمائیں کیا صحابہ کے علاوہ بھی تابعین یا تبع تابعین کے ناموں کے ساتھ بھی رضی اللہ تعالیٰ عنہ لگانا کیسا ہے؟

جواب: واضح رہے کہ "رضی اللہ عنہ" ایک دعائیہ کلمہ ہے، جس کے معنی "اللہ ان سے راضی ہوجائے" ہے، عرف کے اعتبار سے یہ کلمہ صحابہ کے لیے استعمال ہوتا ہے، مگر اپنے دعائیہ مفہوم کے اعتبار سے غیر صحابی کے لیے بھی استعمال ہوسکتا ہے، لیکن آج کل عوام الناس چونکہ اس کلمہ کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین ہی کے ساتھ خاص سمجھتے ہیں، اور ان کا دھیان اس جملے سے صحابہ کرام ہی کی طرف جاتا ہے، اس لیے غیر صحابی کے لیے اس جملے کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
کذا فی الدر مع الرد:
ویستحب الترضي للصحابة، وکذا من اختلف في نبوتہ کذي القرنین ولقمان والترحم للتابعین ومن بعدہم من العلماء والعباد وسائر الأخیار، وکذا یجوز عکسہ الترحم للصحابة والترضي للتابعین ومن بعدہم علی الراجح قولہ: ویستحب الترضي للصحابة: لأنہم کانوا یبالغون في طلب الرضاء من اللّٰہ تعالیٰ، ویجتہدون في فعل ما یرضیہ، ویرضون بما یلحقہم من الابتلاء من جہتہ أشد الرضا، فہٰوٴلاء أحق بالرضا، وغیرہم لا یحلق أدناہم، ولو أنفق ملء الأرض ذہبًأ۔
(کتاب الخنثیٰ، مسائل شتی، ج6، ص 754)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

(مزید سوالات و جوابات کیلئے ملاحظہ فرمائیں)
http://AlikhlasOnline.com

معاشرت (اخلاق وآداب ) میں مزید فتاوی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals

06 Dec 2019
جمعہ 06 دسمبر - 8 ربيع الثانی 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2019. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com