سوال:
السلامُ علیکم،
میں نے جلیل القدر صحابی حضرت ضرار بن الازور رضی اللہ عنہ کی سیرت کو مطالعہ کر کے ان کے نام پہ اپنے بیٹے کا نام ZARAR AHMAD رکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا اردو میں اس نام کو میں زرار احمد لکھ سکتا ہوں؟ اور براہ کرم اس نام کا لفظی معنی بھی مطلوب ہے۔
جواب: واضح رہے صحابی کے نام پر اپنے بچوں کا نام رکھنا باعث برکت اور افضل ہے۔
جس صحابی کے نام کا سوال میں ذکر کیا گیا ہے، ان کے نام کا صحیح تلفظ "ضِرَارْ" (Ziraar) (ضاد کے نیچے زیر، کتاب کے وزن پر )، اس کا تلفظ "ضَرَّارْ" (Zarraar) سے کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ اس کا معنی ہے نقصان پہنچانے والا، نیز آنحضرت ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ کسی صحابی کے نام کے معنی اگر مناسب نہ ہوتے، تو آپ ان کا نام تبدیل فرما دیا کرتے تھے، لیکن آنحضرت ﷺنے باوجود ان کے نام کے معنی معلوم ہونے کے، ان کا نام تبدیل نہیں فرمایا، لہذا ان صحابی کے نام پر اپنے بچوں کا نام رکھنا نہ صرف جائز ہے، بلکہ اس عظیم شخصیت کی نسبت کی برکت کے حصول کا باعث بھی ہے، البتہ اس نام کے متبادل "زرار" سے صحابی کے نام کی برکت حاصل نہیں ہو گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ: (390/3، ط: دار الکتب العلمیۃ)
ضرار بن الأزور:
واسم الأزور مالك بن أوس بن جذيمة بن ربيعة بن مالك بن ثعلبة بن دودان بن أسدالأزويمة الأسدي، أبو الأزور. ويقال أبو بلال. قال البخاري وأبو حاتم وابن حبان: له صحبة. وقال البغوي: سكن الكوفة۔۔۔عن ضرار بن الأزور، قال: أهديت لرسول الله صلى الله عليه وسلم لقحة، فأمرني أن أحلبها فجهدت حلبها، فقال: «دع داعي اللبن»
رد المحتار: (418/6، ط: دار الفکر)
«وكان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يغير الاسم القبيح إلى الحسن جاءه رجل يسمى أصرم فسماه زرعة وجاءه آخر اسمه المضطجع فسماه المنبعث
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی